علیحدگی کا فیصلہ پانچ ستمبر کو؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ ایم ایم اے پانچ ستمبر کے اجلاس میں بلوچستان حکومت میں رہنے یا مستعفی ہونے کے بارے میں فیصلہ کرےگی۔ وہ بدھ کے روز پشاور میں المرکز اسلامی میں جماعت اسلامی کی صوبائی شوریٰ کے اجلاس کے انعقاد کے بعد صحافیوں سے بات چیت کررہے تھے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما سید منور حسن، لیاقت بلوچ اور پروفیسر ابراہیم بھی موجود تھے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ جماعت اسلامی کی صوبائی شوری میں کئی اہم فیصلے کیئے گئے جن میں یکم ستمبر کی ملک گیر ہڑتال ، ایم ایم اے کے آئندہ لائحہ عمل ، وزیرستان و بلوچستان میں فوجی آپریشن ، ڈاکٹر عبد القدیر خان کی نظر بندی و بیماری اور حدود قوانین میں ترامیم کی حکومتی کوششوں کا تفصیل سے جائزہ لیا گیاہے۔ انہوں نے بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن اور اکبر بگٹی کے قتل کی مذمت کی اور کہا کہ حکومت بلوچستان میں ایک ایسی آگ سے کھیل رہی ہے جو سب کچھ جلا کر رکھ دےگی اور اس کی وجہ سے ملک کی سالمیت خطرے سے دوچار ہوگئی ہے جس کی ذمہ داری پرویز مشرف اور ان کی ساتھیوں پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یکم ستمبر کی کال ایم ایم اے نے حدود قوانین میں تبدیلی کے وقت دی تھی لیکن اب صورت حال تبدیلی ہوچکی ہے جس کے بعد اب اس ہڑتال میں تمام اپوزیشن جماعتیں بھی بھر پور شرکت کریں گی۔ قاضی حسین احمد نے بتایا کہ چھ ستمبر کو پنڈی میں ایم ایم اے کا ایک بڑا احتجاجی جلسہ منعقد ہوگا جو بقول ان کے مشرف حکومت کے خلاف جاری تحریک کا حصہ ہے۔ اس سے قبل پانچ ستمبر کو ایم ایم اے کی مرکزی قیادت کا ایک اہم اجلاس ہوگا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں ایم ایم اے کے بلوچستان حکومت میں رہنے یا مستعفی ہونے کا بھی فیصلہ کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں احتجاج، ہڑتال، کانفرنس کا اعلان28 August, 2006 | پاکستان لیاری میں جھڑپیں، شدید شیلنگ29 August, 2006 | پاکستان بلوچستان: تمام شاہراہیں بند، سات سو گرفتار30 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||