’بگٹی کی لاش نکالنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے فوجی حکام نے کہا ہے کہ اکبر بگٹی کی لاش تباہ ہونے والی غار میں ایک بڑے پتھر کے نیچے دبی ہوئی ہے اور اسے نکالنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے نے بدھ کے روز صحافیوں کو کوہلو کے اس علاقے کا دورہ کرایا جہاں وہ غار موجود ہے جس میں حکومت کے مطابق اکبر بگٹی اپنے ساتھیوں سمیت چھبیس اگست کو دب کر ہلاک ہوگئے تھے۔ خبر رساں ادارے اے پی نے غار پر کام کرنے والے فوجیوں کے حوالے سے خبر دی کہ اکبر بگٹی کا سر اور کندھے نظر آ رہے ہیں اور لاش کو بھاری پتھر کے نیچے سے نکالنے میں مزید کئی دن لگ سکتے ہیں۔ غار سے ملبہ ہٹانے کے کام کا معائنہ کرنے کے لیئے راولپنڈی سے آئے ہوئے انجنیئرنگ کور کے ایک بریگیڈیئر عبیر نے بتایا کہ ملبہ ہٹانے کے لیئے مشینری اکتیس اگست سے کام شروع کرے گی۔ ان کے مطابق مشینری لانے کے لیئے نالے کا ہی راستہ ہے اور تیس کلومیٹر کے راستے سے شام گئے تک نوے فیصد تک بارودی سرنگیں صاف کرلی گئی ہیں اور امکان ہے کہ کل سے کام شروع ہوگا اور لاش نکالے جانے میں چار سے چھ روز مزید لگ سکتے ہیں۔فوجی انجنیئرز نے تیس اگست سے لاش نکالنے کا کام شروع کیا ہے۔ نواب اکبر بگٹی جس غار میں دب کر ہلاک ہوگئے ہیں اس کے آس پاس بدبو پھیل چکی ہے ۔
چار روز بعد صحافیوں کو اس جگہ کا دورہ اس وقت کرایا گیا ہے جب حکومتی مؤقف کے بارے میں بلوچ قوم پرست رہنماؤں نے سوالات اٹھانا شروع کئیے اور بعض شکوک پیدا ہوئے۔ صحافیوں کے دورے کا بظاہر مقصد حکومتی دعوؤں کے متعلق شکوک کو دور کرنا دکھائی دیتاہے۔ صحافیوں کو ایک برساتی نالے کے کنارے پر واقع اس غار تک جانے کے لیے انتہائی دشوار گزار راستے سے لے جایا گیا۔ حالانکہ نالے کے اوپر جہاں فوجی اہلکار خیمہ زن ہیں اس طرف سے راستہ قدرے آسان ہوتا۔ فوجی ترجمان سے جب مشکل راستہ اختیار کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ آس پاس بارودی سرنگیں بچھی ہیں اور جس راستے سے صحافیوں کو لےجایا گیا ہے وہاں سے بارودی سرنگیں صاف کر دی گئی ہیں۔
جس پہاڑ میں غار واقع ہے وہ مٹی کا تو نہیں ہے البتہ اتنا پکا پہاڑ بھی نہیں ہے جس طرح کا چاغی کا وہ پہاڑ تھا جس میں جوہری بم کا دھماکہ کیا تھا۔ غار کے منہ پر فوجی جوان لکڑیوں کا ایک ڈھانچہ کھڑا کرکے اوپری حصے کو گرنے سے روکنے کے لیے سہارا دے رہے تھے تاکہ وہ غار کا ملبہ صاف کرتے وقت گر نہ پڑے۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان رازق بگٹی بھی وہاں موجود تھے اور انہوں نےبتایا کہ غار ستر فٹ کے قریب گہرا ہے اور بڑے بڑے پتھروں سے بھرا ہوا ہے اور لاشیں نکالنے کا کام خاصا دشوار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہاڑ کی اونچائی چار سے پانچ سو فٹ ہے۔ان کے مطابق غار میں داخل ہونے کا راستہ دس سے بارہ فٹ چوڑا ہے جبکہ غار کا پیٹ تقریباً ڈیڑھ سو فٹ چوڑا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غار قدرتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وہاں سے پانی بہتا رہا ہے لیکن بعد میں اُسے بنایا گیا ہے۔ غار کے اندر نواب بگٹی کے ہمراہ مدفون افراد کی تعداد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان کے اندازے کے مطابق چار سے پانچ افراد ہوسکتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوجی افسران نواب بگٹی سے جب غار میں ہتھیار ڈالنے پر بات کرنے جا رہے تھے تو اچانک دھماکہ ہوا اور افسران مارے گئے۔ فوجی افسران کے مطابق نواب بگٹی نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ وہ زندہ گرفتار نہیں ہوں گے اور شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بات کرنے کے لیئے آنے والے فوجیوں کو اڑا دیا ہو۔ جب ان سے پوچھا کہ پہلے تو حکومت کہتی رہی ہے کہ انہیں علم ہی نہیں تھا کہ بگٹی وہاں ہیں یا نہیں تو پھر بات کیسے کرنے جارہے تھے تو رازق بگٹی نے کہا کہ تئیس اگست کو جب اس غار کے آس پاس سے سیکورٹی فورسز پر فائرنگ ہوئی تو انہوں نے اس علاقے کا گھیرا کیا۔ ان کے مطابق بعد میں غار کے باہر مورچہ بند افراد کا جب گھیرا تنگ کیا تو انہوں نے ہتھیار ڈالے اور بتایا کہ وہاں اکبر بگٹی موجود ہیں اور اس کے بعد فوجی افسران نے بگٹی سے بات کرنے کے لیے غار میں جانے کا فیصلہ کیا۔ اس سوال پر کہ بلوچستان کے چار جماعتی اتحاد کے ایک رہنما ثناءاللہ زہری نے کہا ہے کہ جب جوہری بم کا دھماکہ کیا گیا تو وہ بھی پہاڑ کی ایک غار میں تھا اور جب وہ پہاڑ نہیں گرا تو بگٹی کی غار والا پہاڑ کیسے دھنس گیا تو اس بارے میں رازق نے کہا کہ اکبر بگٹی کی غار والا پہاڑ کچا ہے۔ جب ان سے پوچھا کہ بگٹی نے آخر ایسے کچے پہاڑ کا انتخاب کیسے کیا ہوگا تو انہوں نے کہا کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ سمجھتے ہوں کہ کچے پہاڑ کی طرف حکومت کی توجہ نہیں جائے گی۔ رازق بگٹی نے بتایا کہ ڈیرہ بگٹی میں عمائدین پر مشتمل کونسل نے اعلان کیا ہے کہ جب اکبر بگٹی کی لاش ملے گی تو تدفین میں خاندان کے علاوہ کسی کو وہاں آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||