بلوچستان: حالات معمول کی طرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد جمعرات کو چھٹے روز حالات معمول کی طرف لوٹ رہے ہیں اور صوبے میں کہیں سے تشدد کے واقعات کی اطلاع نہیں ملی۔ خضدار میں خاموشی رہی اور دکانیں بند اور ٹریفک کم نظر آئی ہے۔ مکران ڈویژن کے شہروں میں بھی حالات معمول کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ کوئٹہ میں بیشتر دکانیں اور کاروباری مراکز کھل گئے ہیں جبکہ ٹریفک معمول سے کم نظر آئی ہے۔ شہر کے حساس علاقے جیسے سریاب روڈ کی طرف خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔ آج کوئٹہ سے کراچی، لاہور، تفتان اور پشاور کی طرف جانے والی گاڑیاں بھی روانہ ہوئیں۔ کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ جام محمد یوسف کی سربراہی میں امن و امان کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں تشدد میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے بتایا ہے کہ حکومت نے امن قائم رکھنے کے لیئے اہم فیصلے کیے ہیں ۔ اجلاس میں جمعہ کےروز اتحاد برائے بحالی جمہوریت کی اپیل پر ہڑتال کے دوران امن قائم رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی۔ کوئٹہ میں حزب اختلاف کی جماعتوں کا اجلاس ہورہا ہے جس میں جمعہ کے روز ہڑتال کے حوالے سے فیصلے کیے جائیں گے۔ اے آر ڈی کی اپیل پر کل بلوچستان سمیت ملک بھر میں شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی دی گئی ہے۔ | اسی بارے میں تمام شاہراہیں بند، سات سو گرفتار30 August, 2006 | پاکستان بگٹی کی ہلاکت کے اثرات 29 August, 2006 | پاکستان لیاری میں جھڑپیں، شدید شیلنگ29 August, 2006 | پاکستان بگٹی کی ہلاکت پر پشاور میں احتجاج31 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||