BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 31 August, 2006, 12:18 GMT 17:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: حالات معمول کی طرف

کوئٹہ
اے آر ڈی نے جمعہ کو ملک بھر میں ہڑتال کی کال دی گئی ہے
نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد جمعرات کو چھٹے روز حالات معمول کی طرف لوٹ رہے ہیں اور صوبے میں کہیں سے تشدد کے واقعات کی اطلاع نہیں ملی۔

خضدار میں خاموشی رہی اور دکانیں بند اور ٹریفک کم نظر آئی ہے۔ مکران ڈویژن کے شہروں میں بھی حالات معمول کی طرف لوٹ رہے ہیں۔

کوئٹہ میں بیشتر دکانیں اور کاروباری مراکز کھل گئے ہیں جبکہ ٹریفک معمول سے کم نظر آئی ہے۔ شہر کے حساس علاقے جیسے سریاب روڈ کی طرف خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔ آج کوئٹہ سے کراچی، لاہور، تفتان اور پشاور کی طرف جانے والی گاڑیاں بھی روانہ ہوئیں۔

کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ جام محمد یوسف کی سربراہی میں امن و امان کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں تشدد میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے بتایا ہے کہ حکومت نے امن قائم رکھنے کے لیئے اہم فیصلے کیے ہیں ۔

اجلاس میں جمعہ کےروز اتحاد برائے بحالی جمہوریت کی اپیل پر ہڑتال کے دوران امن قائم رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی۔

کوئٹہ میں حزب اختلاف کی جماعتوں کا اجلاس ہورہا ہے جس میں جمعہ کے روز ہڑتال کے حوالے سے فیصلے کیے جائیں گے۔ اے آر ڈی کی اپیل پر کل بلوچستان سمیت ملک بھر میں شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی دی گئی ہے۔

اسی بارے میں
بگٹی کی ہلاکت کے اثرات
29 August, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد