نواب اکبر بُگٹی سپرد خاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے نواب اکبر بُگٹی کی لاش کو ڈیرہ بُگٹی میں سخت سکیورٹی میں ان کے آبائی قبرستان میں دفنا دیا ہے۔ ان کی نمازِ جنازہ مولوی محمد ملوک بُگٹی نے پڑھائی۔ اکبر بُگٹی کی میت ایک پیٹی میں بند تھی جسے تالے لگے ہوئے تھے۔ ڈسٹرکٹ کو آرڈینیٹنگ آفیسر (ڈی سی او) عبدالصمد لاسی نے کہا کہ چہرے دکھانے کی ضرورت نہیں کیونکہ مولوی محمد ملوک نے ان کی شناخت کر لی ہے۔ ڈی سی او نے بتایا کہ لاش کے قریب سے انگوٹھی، عینک، گھڑی اور چھڑی ملی جس کے بنیاد پر ان کی شناخت ہوئی۔ لاسی نے کہا کہ اکبر بگٹی کا چہرہ اور ٹانگیں سلامت تھیں جبکہ جسم کا درمیانہ حصہ بھاری پتھر کے نیچے دبنے کی وجہ سے خراب ہوا گیا تھا۔
نماز جنازہ میں دو درجن سے بھی کم افراد موجود تھے۔ اکبر بُگٹی کو ان کے بھائی احمد نواز بگٹی اور بیٹے سلیم بگٹی کی قبر کے ساتھ دفنایا گیا۔ ڈی سی او نے کہا کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اکبر بگٹی کو لاوارث دفنایا گیا کیونکہ ان کے قبیلے کے لوگ موجود ہیں۔ اس موقع پر اکبر بگٹی کے گھر قریب دکانیں بند تھیں لیکن شہر کے دوسرے علاقوں میں معمول کے مطابق کاروبار چل رہا تھا۔ نواب اکبر بگٹی کے ورثاء نے جن میں ان کے بیٹے طلال بگٹی شامل ہیں حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ نواب اکبر بگٹی کی میت کوئٹہ میں ان کے حوالے کی جائے جہاں ان کے خاندان کے سب افراد موجود ہیں۔ حکومت نے اکبر بگٹی کے ورثاء کے مطالبے کو نظر انداز کرتے ہوئے تدفین ان کے آبائی قبرستان میں کرنے کا فیصلہ کیا۔ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے نواب اکبر بگٹی کی آخری رسومات میں شرکت کرنے کے لیئے ذرائع ابلاغ کی ایک ٹیم کو حکومت ڈیرہ بگٹی لے جایا گیا۔ نواب اکبر بگٹی کے بیٹے طلال بگٹی نے سرکاری ہیلی کاپٹروں میں بیٹھ کر ڈیرہ بگٹی جانے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا ہے وہ یہ گوارا نہیں کرسکتے کہ جن ہیلی کاپٹروں سے نواب اکبر بگٹی پر بمباری کی جاتی رہی ہو وہ ان ہی میں بیٹھ کر ان کے جنازے میں شرکت کے لیئے جائیں۔ نواب اکبر بگٹی کے داماد سینیٹر شاہد بگٹی نے کہا کہ جب تک میت ورثاء کے حوالے نہیں کی جاتی وہ اس بات پر یقین نہیں کریں گے کہ حکومت نے نواب اکبر بگٹی کو ہی دفن کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی، اخلاقی اور انسانیت کے حوالے سے ورثاء کا یہ حق ہے کہ میت ان کے حوالے کی جائے اور پھر وہ اس بارے میں فیصلہ کریں گے کہ کہاں ان کی تدفین کی جائے۔ جمعرات کی رات کو پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا تھا کہ جرگے کے فیصلے کے تحت نواب اکبر خان بگٹی کو ڈیرہ بگٹی میں ہی دفن کیا جائے گا۔ نواب اکبر بگٹی کی لاش کو جمعرات کو کوہلو میں اس غار سے نکالا گیا تھا جہاں وہ سکیورٹی فورسز سے جھڑپ کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا تھا کہ لاش ایک بڑے پتھر تلے دبی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ لاش کی حالت بہت خراب تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ غار سے ابھی مزید لاشیں نکالنے کا کام ہو رہا ہے۔ جمعہ کو حزب اختلاف کی جماعتوں نے نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت پر ملک گیر ہڑتال کے اپیل کر رکھی ہے۔ | اسی بارے میں ’متحدہ اپوزیشن ہڑتال کرےگی‘31 August, 2006 | پاکستان ’حکومتی جرگے کا فیصلہ قبول نہیں‘31 August, 2006 | پاکستان بلوچستان: حالات معمول کی طرف 31 August, 2006 | پاکستان ’تدفین جرگے کے مطابق ہوگی‘31 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||