BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 31 August, 2006, 16:40 GMT 21:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بگٹی کے بعد کس کی باری ہے؟

 بلوچستان
ڈیرہ بگٹی کی پیچیدہ پہاڑیاں
بلوچستان حکومت کے ترجمان رازق بگٹی کا کہنا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں مکمل حکومتی کنٹرول قائم کیے جانے کے بعد اب حکومت کا اگلا ہدف کوہلو ضلع میں امن قائم کرنا ہے اور اب مری قبیلے کے باغیوں کی باری ہے۔

بی بی سی سے انٹرویو میں جب ان سے پوچھا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کہتے رہے ہیں کہ بلوچستان کا مسئلہ صرف تین سرداروں ( اکبر بگٹی سردار عطاء اللہ مینگل اور نواب خیر بخش مری) کا پیدا کردہ ہے تو اب بگٹی کے قتل کے بعد کس کی باری ہے؟

تو وزیراعلیٰ کے مشیر رازق بگٹی نے کہا کہ ان تین سرداروں کو قتل کرنے کا حکومت کا کوئی منصوبہ نہیں البتہ وہ سردار یا عناصر جو ملک دشمن سرگرمیوں اور حکومت مخالف کارروائیوں میں ملوث ہیں ان کے خاتمے تک فوجی کارروائی جاری رہے گی۔

رازق بگٹی چند برس قبل تک اپنے نام کے ساتھ کامریڈ لکھتے تھے اور وہ طالب علمی کے زمانے میں بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے منسلک تھے۔

انہوں نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں بلوچستان میں فوجی آپریشن کے خلاف سرگرم کردار ادا کیا تھا لیکن آج کل حکومت کے ترجمان ہیں۔

رازق بگٹی کے مطابق ضلع کوہلو کے وسیع تر حصہ میں آج بھی حکومتی اختیار قائم ہے لیکن ایک تحصیل کاہان کے کچھ گوشے ایسے ہیں جہاں شرپسند عناصر حاوی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مری باغیوں کی قیادت نوابزادہ بالاچ خان مری کر رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جس طرح نواب بگٹی کے کمانڈر ان سے علیحدہ ہوکر حکومت سے ملے اور ڈیرہ بگٹی میں آپریشن کو کامیاب بنانے میں مدد فراہم کی اس طرح مری باغیوں کے میر ہزار خان مری سمیت کئی اہم کمانڈر حکومت سے مل چکے ہیں اور وہ کاہان کی پہاڑیوں کے چپے چپے سے واقف ہیں۔

رازق بگٹی نے تسلیم کیا کہ ڈیرہ بگٹی کی نسبت کاہان کی پہاڑیاں خاصی پیچیدہ ہیں اور بگٹی قبیلے کے جنگجوؤں کی نسبت مری باغی گوریلا جنگ میں زیادہ تجربہ کار ہیں اس لیے اس علاقے میں مکمل امن امان قائم کرنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پندرہ سو مری قبیلے کے مسلح افراد نے تین روز قبل ہتھیار حکومت کے حوالے کیے ہیں اور کچھ اور گروہوں نے بھی رابطہ کیا ہے۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر مری باغیوں نے ہتھیار نہیں ڈالے تو ان کا حشر بھی بہت برا ہوگا۔

بالاچ خان مری کے حامیوں کی تعداد کے بارے میں انہوں نے لاعلمی ظاہر کی لیکن یہ دعویٰ بھی کیا کہ دن بدن ان کے حامیوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد