بلوچستان، سندھ اور سرحد میں ہڑتال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے خلاف جمعہ کو متحدہ حزب اختلاف کی اپیل پر بلوچستان بھر میں مکمل ہڑتال ہوئی۔ کراچی کے علاقے سعود آباد میں رینجرز پر فائرنگ کے ایک واقع میں دو رینجرز ہلاک ہو گئے ہیں۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے تمام اضلاع میں دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں اور اکثر شہروں میں ٹریفک نہیں ہے۔ نواب اکبر بگٹی کی میت ملنے اور ڈیرہ بگٹی میں تدفین کے حوالے سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ حالات شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ پولیس نے اس حوالے سے اکثر شہروں جیسے تربت، پسنی، خضدار وغیرہ میں کئی مقامات پر چھاپے مارے ہیں اور پندرہ کے لگ بھگ لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ پسنی میں سیاسی کارکنوں اور دیگر افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ گوادر، تربت، پسنی، خضدار، قلات کے علاوہ شمالی علاقوں جیسے ژوب، لورالائی سمیت کئی علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہے۔ متحدہ اپوزیشن کے قائدین نے کچلاک سے بتایا ہے کہ شمالی علاقوں سے کوئٹہ کو ملانے والی شاہراہوں کو کچلاک کے مقام پر بلاک کیا گیا ہے جبکہ اکثر شہروں سے گاڑیاں روانہ ہی نہیں ہوئیں۔ کوئٹہ کے سریاب روڈ پر کشیدگی پائی جاتی ہے لیکن کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ سندھ میں شٹر بند اور پیہ جام ہڑتال
ہڑتال سے ایک روز قبل ہی حکومت نے تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا تھا جبکہ شہر بھر کے پیٹرول پمپ رات سے ہی بند ہوگئے تھے، جس وجہ سے شہریوں کو دشواری کا سمنا کرنا پڑا ہے۔ ملیر کے علاقے سعود آْباد میں رینجرز پر فائرنگ کی گئی ہے، جس میں رینجرز کا ایک سب انسپیکٹر مصری خان ہلاک ہوگیا جبکہ تین زخمی ہوگئے جن میں سے ایک ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ رینجرز اہلکار نماز پڑھنے کے بعد گاڑی میں سوار ہو رہے تھے کہ ان پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی۔واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کوگھیرے میں لے لیا گیا ہے۔ سائٹ ایریا اور ایکسپورٹ پروسیسنگ ایریا کے صنعتوں میں کام کرنے والے مزدور ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے ملازمتوں پر پہنچ نہیں سکے جبکہ سٹیل ملز اور پورٹ قاسم کے ملازمین کے لیئے ٹرانسپورٹ اور حفاظت کے انتظامات کر کے پہنچایا گیا۔ کیماڑی کے علاقے میں لوگوں نے ہاکس بے ماڑی پور روڈ بند کر کے نیوکلیئر پاور پلانٹ کینپ جانے والے راستے کو بند کردیا، لوگوں کو منتشر کرنے کے لیئے پولیس نے لاٹھی چارج بھی کیا ہے۔ حبکو پاور پلانٹ جانے والے راستے کو مبارک ولیج کے پاس بند کیا ہےگیا ہے، ان علاقوں میں پولیس اور مظاہرین بھی ہوئی ہیں۔ کراچی سے سپر ہائی وے، نیشنل ہائی وے اور آر سی ڈی شاہراہ پر چلنے والی تمام پبلک ٹرانسپورٹ بند ہے۔ صوبے کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں بھی مکمل طور پر ہڑتال ہے، کوٹڑی میں قومی شاہراہ پر ٹائر جلا کر شاہراہ کو بلاک کیا گیا اور پتھراؤ کیا گیا جس کے بعد پولیس اور مظاہریں میں جھڑپیں ہوئیں اور پولیس نے گیارہ سے زائد لو گوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ حیدرآباد سے میرپورخاص جانے والی شاہراہ پر ٹنڈو جام کے نزدیک پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں اور پولیس نے پانچ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ لاڑکانہ میں کاروبار زندگی معطل رہا، جناح چوک پر سندھ قومی اتحاد اور بگٹی قبیلے کے لوگوں کی جانب سے احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ قمبر شہر میں کریکر کے آٹھ دھماکے کئے گئے ہیں۔ صوبہ سرحد میں بھی ہڑتال
متحدہ حزب اختلاف نے جس میں حکمراں اتحاد متحدہ مجلس عمل بھی شامل تھی مختلف مقامات پر جلسے اور جلوس منعقد کیئے۔ اس احتجاج میں تمام تر تنقید کا نشانہ صدر جنرل پرویز مشرف اور ان کی پالیسیاں رہیں۔ اکثر نجی سکول بند رہے تاہم سرکاری تعلیمی اداروں میں بھی حاضری کم رہی۔ یہی حال دفاتر میں بھی دیکھنے کو ملا۔ شہر کے مضافات میں دکانیں کھلی رہیں۔ کاروبار تو اکثر بند رہے تاہم شہر میں مسافر گاڑیاں چلتی رہیں۔ اسلام آباد راولپنڈی میں ہڑتال کی اپیل نا کام دارالحکومت کے مرکزی تجارتی اور کاروباری علاقے بلیو ایریا اور جناح سپر مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں تاہم آبپارہ مارکیٹ سمیت شہر کے دیگر بازاروں میں کچھ دکانیں بند ہیں۔ یاد رہے کہ جمعہ کو اسلام آباد میں کاروباری سرگرمیاں نمازِجمعہ کے بعد ہی زور پکڑتی ہیں۔ ہڑتال کی اپیل کا اثر شہر کی ٹریفک پر کچھ حد تک دیکھنے میں آیا ہے اور اسلام آباد کی سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم ہے۔اطلاعات کے مطابق سرکاری و نجی دفاتر اور سکولوں میں بھی حاضری معمول کے مطابق ہے۔ راولپنڈی میں جمعہ ہفتہ وار تعطیل کا دن ہے اور اس لیئے شہر کی مرکزی مارکیٹیں بند ہیں۔ رہائشی آبادیوں میں قائم دکانیں کھلی ہوئی ہیں اور ٹریفک معمول کے مطابق چل رہی ہے۔ ہڑتال کے موقع پر اسلام آباد اور راولپنڈی میں سخت حفاظٌتی انتظامات بھی کیئے گئے ہیں۔ دارالحکومت کے داخلی اور خارجی راستوں، ڈپلومیٹک انکلیو اور مساجد کے باہر سکیورٹی کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے۔ لاہور میں بازار کھلے ہیں جمعہ کی صبح سے لاہور میں وقفہ وقفہ سے تیز بارش ہورہی ہے۔ تاہم سڑکوں پر ٹریفک چل رہی ہے اور دکانیں کھلی ہیں۔ | اسی بارے میں ’متحدہ اپوزیشن ہڑتال کرےگی‘31 August, 2006 | پاکستان ہڑتال کے بارے میں متضاد دعوے01 September, 2006 | پاکستان بلوچستان: حالات معمول کی طرف 31 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||