BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 September, 2006, 01:19 GMT 06:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہڑتال کے بارے میں متضاد دعوے

ہڑتال کے موقع پر سکیورٹی کے سخت اقدامات کیئے گئے ہیں

پاکستان میں متحدہ اپوزیشن کی اپیل پر آج جمعہ کو ملک بھر میں ہڑتال کی جارہی ہے اس ہڑتال کی اپیل بلوچستان میں جاری آپریشن، اکبر بگتی کی ہلاکت اور ڈاکٹر عبدالقدیر کی حراست کے خلاف دی گئی تھی۔

اس ہڑتال کا فیصلہ اپوزیشن کے دوبڑے اتحادوں متحدہ مجلس عمل اور اتحاد برائے بحالی جمہوریت نے کیا تھا جبکہ قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پونم ،تحریک انصاف،سندھ قومی اتحاد ، اپوزیشن کی دیگر جماعتوں، انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان، غیر سرکاری تنظیموں کے اتحاد جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بھی اس ہڑتال میں شامل ہونے اور بھرپور کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے اس ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لیے ملک بھر میں تاجر اور ٹرانسپورٹ تنظیموں سے رابطہ کیا ہے اور انہیں جمعہ کے روز مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کرنے کو کہا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے جمعرات کو لاہور میں صحافیوں کو کہا کہ’ کراچی ، لاہور اور اسلام آباد کےسوا ویسے ہی ملک بھر میں جمعہ کو چھٹی ہوتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ’ کراچی اور لاہور میں بھی اپوزیشن کی ہڑتال ناکام بنا دی جائے گی۔‘

ادھر اپوزیشن رہنماؤں نے ہڑتال کی مکمل کامیابی کا دعوی کیا ہے رات گئے تک دونوں فریقوں کی طرف سے کاروباری اور تجارتی حلقوں میں ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔

پنجاب کے دارالحکومت لاہورمیں جمرات کی شام پیپلز پارٹی لاہور کے صدر عزیز الرحمان چن، مسلم لیگ نواز کے صدر میاں مرغوب احمد، جماعت اسلامی لاہور کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم نے دیگر مقامی رہنماؤں کے ہمراہ لاہورکی مختلف مارکیٹوں کا دورہ کیا اور انہیں ہڑتال یقینی بنانے کی اپیل کی۔

دوسری طرف اطلاعات کے مطابق ضلعی ناظم لاہور میاں عامر محمود، ضلعی رابطہ افسر میاں اعجاز اور ڈی آئی جی آپریشن عامر ذوالفقار اور دیگر پولیس افسران نے تاجر تنظیموں سے رابطے کیئے اور انہیں یقین دلایا کہ ہڑتال نہ کرنے کی صورت میں انہیں تحفظ فراہم کیاجائے گا۔

ملک کے بڑے شہروں میں سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیئے گئے
اور پولیس نفری مارکیٹوں اور دیگر اہم مقامات پر تعینات کرنےکے احکامات جاری کیئے گئے ہیں۔

قومی تاجر اتحاد کےصدر شیخ عرفان نے لاہور پریس کلب میں اپنے حامی عہدیداروں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاہور انتظامیہ کی جانب سے تحفظ کی یقین دہانی کے بعدانہوں نے ہڑتال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہےجبکہ بزنس فورم پاکستان نے ہڑتال کی مکمل حمائت اور تمام دکانیں بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے رہنما اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف رضا ربانی نے کہا ہے حکومتی پالیسیوں کے خلاف ان کا احتجاج جاری ہے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ نواز اور جماعت اسلامی کے اراکین اسمبلی اپنے اپنے استعفی اپنی پارٹیوں کے سربراہوں کو دے چکے ہیں اور مناسب وقت پر ایوان سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیاجائے گا۔

مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد نے کہا کہ پانچ ستمبر کو مجلس عمل کے کی سپریم کونسل کے اجلاس میں بلوچستان حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
ٹاکنگ پوائنٹ کی تفصیلات
31 August, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد