ٹاکنگ پوائنٹ کی تفصیلات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی اردو کی جانب سے ٹاکنگ پوائنٹ بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کی چھبیس اگست کو پاکستانی فوج کے ہاتھوں ہلاکت اور اس کے اثرات کے بارے میں ہے۔ اس ٹاکنگ پوائنٹ میں سامعین کے سوالوں کے جواب دینے کے لیے اسلام آباد سے براہ راست موجود ہیں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت قائداعظم مسلم لیگ کے سینئر رہنما میر ظفر اللہ خان جمالی اور کوئٹہ سے معروف بلوچ قوم پرست رہنما سردار عطا اللہ مینگل۔ ٹاکنگ پوائنٹ میں آپ دونوں حضرات کا خیر مقدم ہے۔ حساس حالات اور موضوع کی نزاکت کے پیش نظر ہمیں دنیا کے مختلف حصوں سے بے شمار سننے والوں کے پیغامات ملے ہیں۔ محدود وقت کی بناء پر ہم سارے سامعین کے سوالات تو پروگرام میں شامل نہیں کر سکیں گے لیکن کوشش ہو گی کہ مختصر سوال و جواب کے ذریعے زیادہ سے زیادہ سامعین اس ٹاکنگ پوائنٹ میں شریک ہو سکیں تو مزید وقت ضائع کیئے بغیر پہلے سوال کی جانب بڑھتے ہیں: سامع: میں حاصل خان بلوچ سڈنی سے بول رہا ہوں۔ میرا سوال اختر مینگل صاحب سے ہے کہ نواب اکبر بگٹی کی موت پر آپ سیاست کرنا چاہتے ہیں یا آپ اس میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ آزادی کی جنگ ہے یا صوبائی خودمختاری کی جنگ ہے؟ بی بی سی: جی شکریہ حاصل صاحب اختر مینگل صاحب سوال سنا آپ نے اختر مینگل: جی میں نے سنا ہے بی بی سی: کیا کہیں گے؟ اختر مینگل: اکبر خان بگٹی کی موت ہم سب کے لیئے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے ہمیں یہ راستہ دکھا دیا ہے کہ بلوچوں کی منتہائے منزل جو ہے وہ راستہ جو اس نے اختیار کیا تھا۔ اس سے کم ملنے والی نہیں ہے اور ہم نے اسے قبول کر لیا ہے۔
سامع: جمالی صاحب السلام علیکم، آپ ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں آپ نے کہا کہ میں نے ہمیشہ ہر فورم اور میٹنگ میں ڈائیلاگ اور ڈائیلاگ کی بات کی ہے۔ لیکن کسی نے بھی آپ کی بات سننے کی زحمت نہیں کی۔ بہتر تو یہ تھا کہ ایک جمہوری نظام یا جمہوری کلچر میں آپ کی بات مقتدر حلقوں میں نہیں سنی جاتی تو آپ کھل کر اختلاف کرتے اور حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھاتے مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔ موجودہ حالات میں کہ جب پورے صوبہ سرحد میں احتجاج ہے آپ کو اس ایوان میں بیٹھنے کا کوئی اخلاقی جواز بنتا ہے۔ جہاں کوئی سننے کے لیئے تیار نہیں؟ بی بی سی: جمالی صاحب ایسے حالات میں کیا کہیے گا ایسے حالات میں کیا آپ بحیثیت بلوچ سیاست دان ایوان میں اخلاقی طور پر بیٹھنے کا جواز رکھتے ہیں؟ جمالی: میرا پہلا تو جواب یہی ہو گا کہ جو سردار عطا اللہ خان نے کہا ہے کہ بگٹی صاحب کی جو شہادت ہوئی ہے وہ باقی لوگوں کے لیئے راہ حیات ہے۔ آیا دوسرا سوال جہاں تک انسان کوشش کرسکتا ہے۔ ہم نے کوشش ضرور کی ہے۔ چاہے وزارت عظمی کے دوارن میں چاہے اس کے بعد۔ گفت و شنید سے ڈائیلاگ سے ہی یہ ساری چیزیں حل ہوتی ہیں۔ یا آپ قائل ہوں یا آپ قائل کریں۔ انسان اپنی کوشش ختم نہیں کر سکتا۔ جہاں تک ایوان میں بیٹھنے کا تعلق ہے ہر انسان اپنے حلقے سے ووٹ لے کر آتا ہے اسی امید پر اسی آسرے پر کہ ان کی خدمت کر سکے۔ ملک کی بھلائی کے لیئے، اپنے گھر کے صوبے کے لیئے جوکہ بلوچستان میرا گھر بھی ہے اور میرا صوبہ بھی ہے۔ میں پیدا وہیں ہوا اور وہیں پڑھا۔ جب پاکستان نہیں تھا تب بھی اور جب پاکستان تھا تب بھی میں بلوچ تھا اور جمالی تھا اور آج پاکستان کو بنے ساٹھ سال ہو گئے ہیں تب بھی میری شناخت اسی سے ہوتی ہے۔ جہاں تک جواز کا تعلق ہے کہ آیا میں ایوان میں بیٹھا رہوں یا نہ بیٹھوں بگٹی حاحب کی شہادت کے بعد ہم سارے بلوچ مل کر اسی بارے میں غور کر رہے ہیں کہ آیا کہ مزید اس کے ساتھ چلنا ہوگا یا نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ وقت ہی بتائے گا سب سے پہلے تو میں بڑے دکھ اور رنج و غم کا اظہار کرتا ہوں۔ وہ میرے بزرگوں کے دوست تھے۔ میرے ذاتی طور پر بزرگ تھے۔ ہم نے ہر وقت ان کی عزت اور احترام کیا اور یہ دکھ ہمیں قبر تک ساتھ لے کر جائے گا۔ بی بی سی: اگلا سوال عطا اللہ مینگل صاحب سے ہے۔ جی صوال پو چھیے۔ سامع: میں دبئی سے کریم بلوچ بات کررہا ہوں۔ میرا تعلق صوبہ بلوچستان سے ہے۔ میں جمالی صاحب سے یہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ آپ مسلم لیگ کی طرف سے وزیراعظم پاکستان رہے اور اس کے ایک کارکن بھی ہیں۔ کیا اسلام آباد کے آئین اور قانون میں یہ بات موجود ہے کہ کوئی قوم پرست اپنے حقوق کی بات یا مطالبہ کرے تو اس کو مار دیا جائے۔ قائد بلوچستان کو شہید کیا گیا اگر اسلام آباد کے آئین میں یہ بات نہیں ہے تو بلوچستان پر جنگ کیوں مسلط کی گئی؟ بی بی سی: جی جمالی صاحب یہ سوال بھی آپ ہی کے لیئے ہے۔ کیا کہیں گے؟
جمالی: آئین اسلام آباد کا نہیں پاکستان کا ہے۔ 1973 میں یہ آئین بنا تھا۔ اس میں اس وقت کے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے تمام اراکین شامل تھے۔ اس کو تقریباً متفقہ طور پر مان لیا گیا تھا۔ حالانکہ بلوچستان کے دو تین ایم این ایز کے دستخط اس پر نہیں تھے۔ تو اس کو متفق کہنا بھی میں سمجھتا ہوں کہ کوئی زیادتی ہوگی۔ جہاں تک مسلم لیگ کا تعلق ہے تو اس نے پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا ضرور کیا۔ مگر اس کے بعد مسلم لیگ ٹوٹتی رہی بنتی رہی اور کافی حصوں میں بٹ گئی۔ اب بھی اگر مسلم لیگ کی یہ روش رہی تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ دن دور نہیں جب کہ کافی لوگ اس سے فارغ ہو کے پاکستان کی خدمت کرنے کے مجاز ہوں گے اور اپنے گھروں کو واپس جانے کے لیے تیار ہوں گے۔ میں ان سب کو تسلی دینا چاہتا ہوں۔ ہمارے اگلے سامع ٹیلی فون لائن پر موجود ہیں جی جناب سوال پوچھیے: سامع: میرا سوال عطاء اللہ مینگل صاحب سے ہے۔ ستائیس اگست کو جو اختر مینگل صاحب نے بیان دیا تھا، کچے دھاگوں والا تو میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد کیا ساٹھ سالوں پر محیط رشتہ یک جنبش قلم آپ توڑنا چاہتے ہیں ہم لوگوں کو بیچ منجدھار میں چھوڑنا چاہتے ہیں ہم آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ بی بی سی: لیکن جناب آپ نے اپنا نام اور یہ نہیں بتایا کہ آپ کہاں سے ہیں۔ میں احسان الحق بات کر رہا ہوں لکی مروت سے۔ بی بی سی: یہ لکی مروت سے احسان الحق صاحب تھے مینگل صاحب اور یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ ساٹھ سال کا رشتہ ایک لمحے میں توڑ دیں گے۔ مینگل: رشتے پہلے بنتے ہیں پھر ٹوٹتے ہیں بدقسمتی سے پاکستان کے جو حکمران ہیں۔ ہماری بارہا کوششوں کے باوجود یہ رشتہ بننے ہی نہیں دیا۔ جب یہ رشتہ بنا ہی نہیں تو ٹوٹے گا کیسے۔ اگر اختر نے یہ کہا ہے کہ بڑے کچے دھاگے سے یہ رشتہ بندھا ہوا ہے۔ کچے دھاگے سے نہیں بنا یہ زنجیروں سے زبردستی باندھا گیا ہے۔ ہماری رضا نہ اس وقت اس رشتے میں تھی اور نہ اب اس رشتے میں ہے اور باقی جو غلط فمہی تھی وہ بھی اب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد ختم ہو گئی ہے۔ بی بی سی: اگلا سوال بھی مینگل حاصب آپ سے ہی ہے۔ سامع: میرا نام مصطفی میصر ہے اور میں لندن سے بات کر رہا ہوں۔ میں مینگل صاحب سے یہ پوچھوں گا کہ پاکستانی ڈکٹیٹر جنرل مشرف نے کچھ عرصہ پہلے خبردار کیا تھا کہ بلوچستان کا مسئلہ صرف تین سرداروں، مری، مینگل اور بگٹی کا پیدا کردہ ہے۔ اب جبکہ انہوں نے بگٹی کو ختم کردیا ہے تو کیا مینگل حاصب اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں یا وہ بین الاقوامی کمیونٹی سے بلوچوں کی نسل کشی کو ختم کروانے کے لیئے اپیل کریں گے یا بلوچ اپنی گردنیں پیش کرتے رہیں گے؟ بی بی سی: جی مینگل صاحب آپ نے اپنے انٹرویو میں بھی کہا تھا کہ بلوچ اپنی گردنیں پیش کرتے رہیں گے یہی سوال ہے کیا کہیں گے؟ مینگل: جہاں تک بین الاقوامی برداری کا تعلق ہے تو یہ ایک بہت ہی بڑا خوش فہمی کا سمندر ہے۔ جس میں ہم کافی عرصے سے اور ہم جیسی مظلوم قومیں اور بھی غوطہ کھاتی آ رہی ہیں۔ اس برداری کی مدد ہمیشہ اپنے مفادات کے حصول کے لیئے جہاں جہاں پہنچی ہے وہاں وہاں انہوں نے پہنچا دی ہے۔ جہاں تک ہمارا سوال ہے ہم نے قطعا یہ نہیں سوچا تھا کہ ہمارا انجام اس ملک میں جو ہوا ہے ایسا ہو گا ہاں اچھائی کی ہمیں توقع نہیں تھی۔ لیکن جو چیزیں اب نظر آ رہی ہیں وہ بڑے واضح طور پر اس کی نشاندہی کر رہی ہیں اس کی کہ اس ملک میں ہمارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اور ہم نے ان کے اس فیصلے کو بڑی خوشی سے قبول کر لیا ہے۔ اب آگے اس کا انحصار ہماری طاقت پر ہے کہ ہم کس قدر اپنی صفیں آراستہ کرتے ہیں۔ ان سے ہمیں کوئی امید نہیں ہے۔ نہ ہم ان سے کوئی توقع رکھتے ہیں۔ نہ پاکستان کے پہلے حکمرانوں نےہمارے ساتھ اچھائی کی ہے اور نہ آئندہ آنے والے حکمرانوں سے ہمیں کسی اچھائی کی امید ہے۔ اگلا سوال پاکستان سے جمالی صاحب کےلیئے ہے جی جناب اپنا سوال پوچھیے: سامع: میں فہد معصوم ڈیرہ اللہ یار سے بات کر رہا ہوں۔ میرا سوال میر ظفر اللہ جمالی صاحب سے ہے۔ جب وہ وزارت عظمی میں تھے تو اس وقت سے نواب صاحب کی شہادت تک انہوں نے عملی اقدامات کیوں نہیں کیے۔ بی بی سی: جی جمالی صاحب! جمالی: میرا بڑا مختصر جواب ہے بھائی جب تک میں وزرات عظمی میں تھا۔ ہم نے بلوچستان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کی نہ تو اجازت دی اور نہ ہونے دی۔ میرا یہی آپ کو جواب ہے۔ بی بی سی: تو کیا جمالی صاحب اس بات کا مطلب یہ ہوا کہ آپ وزارت عظمی سے دستبردار ہوئے تو فوراً وہاں پر یہ کارروائی اور آپریشن شروع ہو گیا۔ جمالی: دیکھیں جی میری دست برادی کے بعد یہاں پر ایک پارلیمینٹری کمیٹی بنی تھی جس کے چیئرمین چوہدری شجاعت صاحب تھے۔ آج تک ہیں۔ اور سیکرٹری مشاہد حسین صاحب تھے۔ اور وسیم سجاد کو بھی منسلک کیا گیا تھا۔ اور انہوں نے نواب بگٹی سے میٹنگز بھی کیں اور انہوں نے آمادگی بھی ظاہر کی کہ ٹھیک ہے کہ میں بات کرنا چاہتا ہوں اگر عزت کے لحاظ سے حقوق کی بنیاد پر اور بلوچستان کے ناطے سے۔ اگر وہ کمیٹی ایماندای سے کام کرتی جو ان کو کرنا چاہیے تھا اور اگر رزلٹ سامنے لاتی تو یہ نوبت نہ ہوتی۔ بی بی سی: لیکن مینگل صاحب تو جمالی صاحب یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ مسئلہ تو ساٹھ سال سے زیادہ عرصے سے موجود ہے۔ جمالی: وہ صحیح ہے جی ساٹھ سال سے ہے، میں مانتا ہوں اس چیز کو اگر 1940 کی قرارداد آپ دیکھ، پڑھ اور سمجھ لیں اور سن لیں۔ تو جو وہاں پر باتیں کی گئیں تھیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ان پر عمل کیا جاتا توبہتر ہوتا اگرچہ 1973 کے آئین پہ عمل درآمد کروایا جاتا تو بہتر ہوتا۔ مگر یہاں تو سٹاپ گیپ اریجمنٹ رہا اور اسی لیے بیشتر خرابیاں پیدا ہوئیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج تک لوگ اپنے حقوق اور تحفظ کےلیے ابھی تو یہ ہے کہ خدا سے ہی انسان مانگ سکتا ہے اور وہی دینے والا ہے۔ سامعین کو بتاتے چلیں کہ وہ اس وقت سیر بین میں خصوصی ٹاکنگ پوائنٹ سن رہے ہیں۔ اسلام آباد سے براہ راست موجود ہیں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت قائداعظم مسلم لیگ کے سینئر رہنما میر ظفر اللہ خان جمالی اور کوئٹہ سے معروف بلوچ قوم پرست رہنما سردار عطا اللہ مینگل۔ سوال جواب کا سلسلہ دوبارہ شروع کرتے ہیں اور اپنے اگلے سامع کی طرف بڑھتے ہیں۔ جی جناب سوال پوچھیے: سامع: میں نجیب بلوچ کوئٹہ سے بات کر رہا ہوں اور میرا سوال عطا اللہ صاحب سے یہ ہے کہ نواب خیر بخش مری نے بی بی سی کو اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے اس میں صاف ظاہر تھا کہ بلوچ آزادی چاہتے ہیں ایک آزاد ریاست کے مالک بننا چاہتے ہیں۔ تو عطا اللہ صاحب اور دیگر جو بلوچ ہیں وہ نواب خیر بخش مری کے موقف کی حمایت کیوں نہیں کرتے اور کھل کر اس کا اظہار کیوں نہیں کرتے۔ بی بی سی: جی مینگل صاحب: مینگل: معلوم ایسے ہوتا ہے کہ اس مقام پر ہم پہنچے ہیں جہاں ہم لوگوں کو لیڈ نہیں کر رہے ہیں بلکہ لوگ ہمیں لیڈ کر رہے ہیں۔ نواب مری نے جو کچھ کہا وہ میں نے سنا۔ نواب مری بھی لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ نواب مری جس طرح لوگوں کے ان جذبات کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ میں قطعا ان سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں میں سو فیصد اس کی تائید کرتا ہوں۔ بی بی سی: مینگل صاحب ایک تو یہ ہے اظہار کا طریقہ اور دوسرا طریقہ یہ ہے سوئی ڈیرہ بگٹی سے ہمیں مختیار احمد کلپر صاحب کا سوال بھی موصول ہوا ہے جو خود بھی بگٹی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ کوشش کے باوجود ان سے فون پر رابطہ نہیں ہوا لیکن وہ سوال آپ سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ بلوچ رہنما اکبر بگٹی کی لاش پر بلوچ رہنما عوام کو کیوں ہنگامہ آرائی اور قیمتی املاک اور پاکستان کے نقصان پر اکسانا چاہتے ہیں؟ مینگل: ہم نے پاکستان کے نقصانات پر جتنے آنسو تھے وہ سب ہم نے ان کو بخش دیئے جتنا بہانا چاہیں وہ بہائیں۔ ہماری آنکھیں اب اس قابل نہیں رہی ہیں۔ ایک آنسو بھی بہا سکیں۔ جہاں تک اکبر بگٹی کا تعلق ہے تو اکبر بگٹی چونکہ ہیرو ہیں قطعا نظر اس کے کہ اس کے قبیلے کے چند لوگ جو حکومت کی شہہ پر اس کی مخالفت کرتے آ رہے ہیں وہ اسے پسند کریں یا نہ کریں وہ ہم سب کے ہیرو ہیں۔ بی بی سی: اگلا سوال میر ظفر اللہ جمالی صاحب سے ہے جی جناب سوال پوچھیے: سامع: میرا نام غلام فرید ہے، میرانی لیہ سے۔ میرا تعلق ہے میرا سوال جمالی صاحب سے یہ ہے کہ آپ جب وزیراعظم بنے تو آپ سے سوال کیا گیا تھا کہ آپ کی پسندیدہ شخصیات کون سی ہیں تو اس وقت آپ نے ایک نام نواب اکبر بگٹی صاحب کا بھی لیا تھا۔ اب جبکہ انہیں قتل کر دیا گیا ہے اور آپ نے اس کی مذمت بھی کی ہے تو آپ ابھی تک قاتلوں کی صفوں میں کیوں شامل ہیں۔ جمالی: یہ صاحب میرانی میرے ساتھ پچاسی میں قومی اسمبلی کے رکن بھی تھے۔ان کو لانے والے ہم تھے۔ بہرحال یہ ہمیں چھوڑ کر جنجوعہ صاحب کے پاس چلے گئے تھے۔ وہ الگ بات تھی۔ میں نے بالکل کہا تھا کہ میری زندگی میں تین آئیڈیل رہے ہیں۔ ایک میرے تایا تھے میر جعفر خان جمالی، دوسرے مسٹر ذوالفقار علی بھٹو اور تیسرے اب شہید نواب اکبر خان بگٹی۔ میں قاتلوں کی صف میں نہیں ہوں میرے بھائی اور یہ آپ یقین کیجیے۔ ہم نے مذمت دل و جان سے کی ہے۔ نیک نیتی کے ساتھ کی ہے۔ وہ قابل احترام تھے ہم نے ہر وقت ان کی عزت کی۔ چاہے میں کسی پوسٹ پر رہا یا نہ رہا۔ میں اتناعرض ضرور کروں گا۔ کہ بلوچستان میں پانچ شخصیات تھیں جو صوبے کو جمہوری دور کے لیے آگے لے کر چلیں، مرحوم میر غوث بخش بزنجو، سردار عطا اللہ خان مینگل، نواب خیر بخش مری، شہید نواب اکبر خان بگٹی اور میر پور خان نصیر اور ہم نوجوان بلوچوں کو توقع بھی تھی۔ انشااللہ یہ صوبہ اب اپنی صحیح راہ پہ گامزن ہو گا۔ کسی کو دس ماہ بعد فارغ کیا گیا کہیں گورنر راج نافذ کیا گیا۔ یہ زیادتیاں ہوتی رہیں۔ جہاں تک بلوچوں کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں کہ نواب اکبر بگٹی صرف بلوچستان کے نہیں بگٹیوں کے نہیں۔ وہ لیڈر جن کا میں نے نام لیا ہے یہ صف اول کے لوگ تھے۔ اور ہم آج بھی ان کی عزت کرتے ہیں۔ تین جا چکے ہیں۔ غوث بخش بزنجو، میر گل خان نصیر اور نواب اکبر خان بگٹی۔ باقی جو دو ہیں نواب خیر بخش مری اور سردار عطا خان مینگل ہم آج بھی ان کا احترام کرتے ہیں جو کہ ہم بچپن سے اور جوانی میں کرتے ہیں۔ بی بی سی: لیکن جمالی صاحب جب آپ وزیراعظم تھے تو آپ کے حوالے سے یہ بیان آیا تھا۔ میں صدر مشرف کو اب بھی باس کہتا ہوں۔ آج انہیں جنرل مشرف پر نواب اکبر بگٹی کے قتل کی ذمہ داری عائد کی جا رہی ہے۔ مختلف حلقوں سے۔ کیا سمجھ رہے ہیں آپ۔ کیا آپ قاتلوں کے ساتھ نہیں ہیں؟ جمالی: نہیں جی، میں قاتلوں کے ساتھ بالکل نہیں ہوں میں واضح الفاظ میں یہ کہنا چاہتا ہوں۔ ہم نے زندگی میں نہ قتل کیا ہے اور نہ قاتلوں کے ساتھی ہیں یہ میں آپ کو بتا دوں۔ اگر ہم مقتول بھی ہوئے کسی زمانے میں تو اس وقت بھی ہماری سر پرستی سردار مینگل اور خیربخش مری نے بزرگوں کی طرح سے کی۔ ہم قاتل نہیں ہیں۔ ہم مقتول ضرور رہے ہیں۔ اب جو حکومت ہے تو میں سوا دو ڈھائی سال سے حکومت سے الگ ہوں۔ پارٹی کا ممبر ضرور رہا ہوں اور کم از کم آج تک ہوں۔ کل پرسوں کے بعد کیا فیصلے ہوں گے۔ انسان اپنے ضمیر کی آواز سنتا ہے اور توکل اللہ پر رکھتا ہے اور جس پر ضمیر مطمئن ہو اسی پر عمل درآمد کریں گے۔ بی بی سی: اگلا سوال مینگل صاحب سے ہے۔ سامع: میرا نام ثمرہ منیر ہے اورمیں لاہور سے بات کر رہی ہوں۔ میرا سوال مینگل صاحب سے ہے کہ اگر وہ پاکستان کے اتنے ہی مخالف ہیں تو انہوں نے حکومتی عہدہ کیوں قبول کیا۔ بلوچی سردار اتنے امیر ہیں تو ان کی عوام اتنی غریب کیوں ہے اور اپنے لوگوں کے لیئے ان کی کیا خدمات ہیں؟ مینگل: ہماری غلطیاں جنتی آپ یاد دلائیں گے۔ ہم اپنےآپ کو ہی کوسیں گے۔ آپ کو نہیں کوسیں گے۔ ہم نے زندگی میں بہت سی غلطیاں کی ہیں۔ اس خوش فہمی میں ہم بارہا اپنے آپ کو مبتلا کر چکے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ ہمارا گزارا ہو گا۔ باوجود اس یاد دہانی کے جو آپ ہمیں کرواتے آ رہے ہیں کہ یہ ملک تمہارا نہیں ہے۔ ملک ہمارا ہے۔ تم نے ہماری مرضی سے جینا اور مرنا ہے۔ اب نوبت یہاں آ پہنچی ہے کہ قبر تک جانے کے لیے بھی ہمیں آپ کی اجازت درکار ہوتی ہے۔ آج یہ فیصلہ ہوا ہے کہ اکبر خان بگٹی کی میت کس کے حوالے کرکے کہاں دفن کرنی ہے۔ ہم نے اچھی طرح اپنا مقام پہچان لیا ہے۔ جو کچھ ہم نے کیا تھا ہم اس کی معافی بلوچ عوام سے چاہتے ہیں۔ ہم اللہ کے گنہگار نہیں ہیں۔ ہم اپنی معافی بلوچ قوم سے ہی چاہیں گے۔ اور اس قسم کی غلطی دوبارہ نہیں دہرائی جائے گی۔ بلوچ عوام سرداروں کے رحم ووکرم پر نہیں تھے۔ 47 سے لے کر آج تک حکومت پاکستان کے رحم و کرم پر تھے۔ ذرائع اور خزانے، اختیارات اور طاقت ساری حکومت کے پاس تھی۔ یہ سردار بد بخت تو ویسے ہی بدنام ہیں۔ میں سرداروں کی وکالت نہیں کروں گا۔ میں اپنی وکالت نہیں کروں گا۔ لیکن خدارا اس ملزم کے گریبان تک توآپ اپنا ہاتھ پہنچایئے۔ اس کے بعد جتنی بار ملامت ہم پر ڈالنا ہے اپنا شوق پورا کر لیں۔ سامع: میں ذوالقرنین ڈیرہ غازی خان سے جمالی صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہمیں ایک عظیم سانحہ ان ہی لوگوں کی وجہ سے دیکھنا پڑا ہے۔ انہوں نے کیوں ہماری خاطر، بلوچ قوم کی خاطر استعفے کی دھمکی کیوں نہیں دی؟ کیا وجوہات تھیں۔ اس کی اور دوسرا سوال عطااللہ مینگل صاحب سے ہے سر انشااللہ اگر بلوچ قوم کامیاب ہوتی ہے۔ تحریک میں تو ڈیرہ غازی خان اور راجن پور جو کہ ہمیشہ سے بلوچستان کا حصہ رہے ہیں تو کیا یہ ہمیں اپنے ساتھ ملائیں گے یا کہ ہمیں انہیں کہ رحم و کرم پر چھوڑ دیں گے۔ میر ظفراللہ جمالی: میرے استعفیٰ پر زور دیا جا رہا ہے، کئی اصولی چیزیں ہوتی ہیں اور اگر میں وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے کر چلا گیا تھا یہ تو بہت چھوٹی بات ہے۔ میں یہی عرض کروں گا کہ میں اپنے حلقے سے ووٹ لے کے آیا تھا وہی میرے ووٹر ہیں وہی سپورٹر ہیں۔ ان کے اپنے حلقے میں بھی بلوچ لوگ ہیں جو ایم این ایز اور ایم پی ایز بھی ہیں۔ یہ کم از کم پہلے تو ان سے مطالبہ کریں۔ وہ ان کو کیا جواب دیتے ہیں۔ جہاں تک میرا تعلق ہے بلوچستان میرا گھر ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ ہم نے کیا فیصلہ کرنا ہے۔ اور انشااللہ ہم وہی فیصلہ کریں گے میرے، میری قوم کے لئیے میرے بلوچ بھائیوں کے لیئے اور میرے صوبے بلوچستان کے لیئے میرے ملک پاکستان کے لیئے بہتر ہو گا۔ انشااللہ ہم سے انہیں فیصلوں کی توقع رکھیں۔ سامع: اگلا سوال صوبہ پنجاب اور جمالی صاحب سے ہے۔ میں ساجد محمود بات کر رہا ہوں۔ اکبر بگٹی کی ہلاکت میں جمالی صاحب بھی برابر کے شریک ہیں۔ یہ اپنی حکومت میں یہ مسئلہ حل کر سکتے تھے۔ انہوں نے کیوں نہیں کیا؟ جمالی: جب تک میری ذمہ داری تھی ہم نے باعزت طریقے سے نبھائی اور اس وقت ایسی کوئی نوبت نہیں تھی کہ میں کہتا کہ ایکشن لینا ہے یا خدانخواستہ کوئی مسئلہ ہے۔ میرے دور میں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ پنجاب والے اس لیئے پریشان ہوتے ہیں کہ وہ اکثریتی صوبہ ہے۔ وہ فیڈریشن کی بات نہیں کرتے بلکہ وہ صوبے تک محدود رہتے ہیں۔ اگر پنجاب والوں کی پائپ لائن کہیں سے پھٹ جائیں تو وہ چلا اٹھتے ہیں۔ تو ان کو باقی کسی چیز کی فکر نہیں ہوتی اور ان کو نہ گھبرانے اور نہ ہی شرمانے کی ضرورت ہے۔ پہلے آپ اپنے فیکٹ فیگر درست کرلیں۔ ریکارڈ درست کرلیں پھر ہم سے پوچھیں۔ سامع: بلوچستان سے شیر اللہ کا کٹر بول رہا ہوں میرا سوال جمالی صاحب سے ہے۔ نواب اکبر بگٹی پنجاب میں لوٹ کھوسٹ کے خلاف تھے لیکن اس دور میں جمالی صاحب وزیر اعظم تھے۔ اور مشرف کی پالسیوں کی حمایت کر رہے تھے۔ اور آج وہ اکبر بگٹی کے قتل کی مذمت کر رہے ہیں؟ جمالی: مجھ سے پہلے اور میرے بعد اتنے وزرا آئے ہیں جو مجھ سے بہت زیادہ قابل اور میرے بزرگ بھی رہے ہیں جن میں نواب بگٹی، سردار مینگل اور ان کے فرزند اور جمالی وزیراعلٰی بنے۔ سارے بلوچ تھے اور کوئی نہیں تھا۔ حالات سدھارنے میں وقت لگتا ہے۔ میرے بیس ماہ کے دورانیے میں وزارت عظمٰی کے، ہم تو ملٹری حکومت سے سول حکومت کی طرف شفٹ کر رہے تھے۔ اس میں کئی چیزیں دائرہ کار میں ہوتی ہیں اور کچھ نہیں ہوتی ہیں۔ سمجھوتے کے تحت ایک پالسیی کے تحت چلنا پڑتا ہے۔ بی بی سی: اگلا سوال سردار مینگل سے ہے۔ سامع: ملک شاہد، اسلام آباد سے بات کررہا ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ نواب صاحب کے پاس ملیشیا اور اسلحہ تھا اس کا بجٹ کہاں سے آتا تھا اور کیوں انہوں نے یہ سب چیزیں رکھی ہوئی تھیں؟ بی بی سی: مینگل صاحب یہ سوال نہ صرف شاہد صاحب بلکہ اور بھی کئی لوگوں نے اٹھایا ہے۔ مینگل: میں اس کی وضاحت بارہا کر چکا ہوں کہ یہ اسلحہ صرف بلوچستان میں نہیں بلکہ سارے پاکستان میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ فوج کی مہربانی اور ان کے ہاتھوں سے افغانستان کے راستے سے سارے علاقے میں پھیل چکا ہے۔ پنڈی میں اسحلے کے انبار پھٹنے کا واقعہ ہوا تھا۔ اس کے بعد پتہ نہیں چلا کہ کتنا اسلحہ ضائع ہوا کتنا لوگوں کے ہاتھ لگا اور کتنا انہوں نے بیچ دیا۔ کرڑوں کا اسلحہ انہوں نے لوگوں کو بیچ دیا۔ افغانستان سے سارا اسلحہ روس کے جانے کے بعد یہاں چلا آیا۔ پشاور اور چمن کے راستے۔ یہ اسلحہ کراچی میں ملے گا۔ یہ اسلحہ آپ کو سندھ ،پنجاب اور ہر جگہ ملے گا۔ میر ظفر اللہ خان جمالی اور سردار عطا اللہ مینگل آپ دونوں کا بہت شکریہ کہ آپ بی بی سی کی خصوصی ٹاکنگ پوائنٹ میں شرکت کی اور ہمارے سامعین کے سوالوں کے جواب دیئے۔ جن سامعین کے سوال شامل نہں ہو سکے ان سے ہماری خصوصی معذرت۔ |
اسی بارے میں ’تدفین جرگے کے مطابق ہوگی‘31 August, 2006 | پاکستان بلوچستان: حالات معمول کی طرف 31 August, 2006 | پاکستان ’عوام کو دھوکا دیا جا رہا ہے‘31 August, 2006 | پاکستان ’متحدہ اپوزیشن ہڑتال کرےگی‘31 August, 2006 | پاکستان اکبر بگٹی کی لاش مل گئی 31 August, 2006 | پاکستان ’غار میں اکبر بگٹی کی لاش دکھائی دی‘31 August, 2006 | پاکستان ’بگٹی کی لاش نکالنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں‘30 August, 2006 | پاکستان تمام شاہراہیں بند، سات سو گرفتار30 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||