بگٹی ہلاکت: بدلتے بیانات سے الجھاؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کی تمام تر حکومتی اطلاعات بگٹی قبیلے کے ایک گائیڈ کے بیان کے گرد گھومتی ہیں۔ وہ گائیڈ کون ہے؟ اس کی بات کس حد تک مصدقہ ہے اس بارے میں شائد ان چند فوجی فوجی اہلکاروں اور ان کمانڈروں کے سوا کوئی نہیں جانتا جو کوہلو آپریشن میں شریک تھے لیکن اس گائیڈ کی اس رپورٹ نے کہ منہدم ہوجانے والی غار میں نواب اکبر بگٹی بھی ہلاک ہوگئے ہیں پورے ملک میں سنسنی پھیلا دی۔ صدر مملکت سے لیکر بیرون ملک بیٹھے سابق وزارئے اعظم تک اور ایک ارب پتی سے لیکر سڑک کے کنارے پر زندگی گزارنے والے عام شخص تک اس خبر پر چونکے بغیر نہیں رہ سکے۔ بگٹی کی ہلاکت کے چوتھے روز پاک فوج کے ترجمان شوکت سلطان نے جو موقف بیان کیا ہے اس کو اگر درست تسلیم کر لیا جائے تو یہ سوال یقینا بہت اہم ہوجاتا ہے کہ کیا اس گائیڈ کی رپورٹ اس حد تک مصدقہ ہے کہ اس کی بنیاد پر تمام اعلی ترین عہدیدار یہ کہنے لگیں کہ ’نواب اکبر بگٹی ہلاک ہوئے ہیں۔‘ خود شوکت سلطان نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ کوہلو کی غاروں کی تلاشی لیتے ہوئے جب فورسز (ساتویں )غار کی جانب گئیں تو ایک غار کے اندر بگٹی گائیڈ کو بھیجا گیا اس نے باہر آکر اطلاع دی کہ اندر نواب اکبر بگٹی موجود ہیں جس کے بعد ان کے بقول کمانڈنگ افسر چند دیگر اہلکاروں کے ہمراہ غار میں داخل ہوئے تو ایک دھماکے سے غار گر گئی۔لیکن خود شوکت سلطان کے بقول دھماکے سے پہلے گائیڈ بھاگ کر باہر آچکا تھا۔ یہ کیسا دھماکہ تھا جس کی قبل از وقت اطلاع گائیڈ کو تو مل گئی لیکن غار میں داخل ہونے والے زیرک فوجی افسر کو نہیں ہو سکی اور وہ اپنی جان نہیں بچا سکے۔ پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر غار میں ہونے والا پراسرار دھماکے کی نوعیت کیا تھی کیا نواب اکبر بگٹی نے وہاں کوئی بارودی سرنگ بچھا رکھی تھی یا اکبر بگٹی نے فوجی افسروں کو دیکھ کر خود کش دھماکہ کر لیا تھا؟ ظاہر ہے اکبر بگٹی محض چند افسروں کو مارنے کی خاطر اپنی زندگی کا خاتمہ تونہیں کر سکتے تھے اور اگر انہوں نے بارودی سرنگیں بھی بچھا رکھی تھیں تو کیا انہیں یہ علم نہیں تھا کہ اس کی زد میں آکر غار منہدم ہوجائے گی؟ اور پھر یہ کیسی بارودی سرنگیں ہیں جن سے بگٹی گائیڈ تو دو بار بچ نکلا لیکن اعلی تربیت یافتہ اورکئی برس کے تجربہ کار فوجی افسر ایک ہی بار اندر گئے اور ایک ہی بار میں مارے گئے۔ پھر یہ بات بھی بڑی معنی خیز ہے کہ فوجی افسروں اور اہلکاروں کی لاشیں تو فوری مل گئی ہیں حتی کہ کروڑوں روپے کی ملکی غیر ملکی کرنسی اور اسلحہ بھی برآمد ہوگیا جو اکبر بگٹی کی تحویل میں تھا لیکن اکبر بگٹی کی لاش چار روز گذر جانے کے باوجود نہیں مل سکی اور فوج کے بقول ابھی بھی حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ کب تک برآمد ہوسکے گی۔ اتنے روز میں مٹی اور پتھروں میں دبے رہنے کے بعد اس لاش کی حالت کیا شیرباز مزاری اپنے بیان میں کہ چکےہیں کہ ان کے خیال میں اسی سالہ اکبر بگٹی کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا تاہم وہ اپنے بیان کے بارے میں کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے۔ بہرحال اس کے برعکس فوج کے ترجمان نے اپنے بیان کی صداقت کے طور پر جو ثبوت پیش کیا ہے وہ بگٹی قبیلے کے ایک گائیڈ کی گواہی ہے جو کس حد تک معتبر ہے اس بارے میں صرف فوج کو ہی علم ہے۔ مقامی اخبارات میں فوجی ترجمان کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر میں کہا گیا ہے ’فوجی افسران غار میں اکبر بگٹی سے مذاکرات یا ان کی گرفتاری کے لیئے گئے تھے۔‘ اگر معاملہ صرف مذاکرات کی حد تک محدود تھا تومحض ایک کمانڈنگ فوجی افسر کسی حثیت سے اور کس موضوع پر ان سے مذاکرات کرنے گیا تھا؟ کیا وہ ان سے سیاسی معاملات طے کرنے گیا تھا یا مذاکرات کا مقصد اکبر بگٹی سے ہتھیار ڈلوا کر اور انہیں گرفتار کرنا تھا؟ سوال یہ ہے کہ بگٹی کی گرفتاری کا فیصلہ کب ہوا تھا اور ان کے وارنٹ گرفتاری کس نے جاری کیے تھے کچھ علم نہیں ہے اور یہ بات پہلی بار اس وقت منظر عام پر آئی جب خود اکبر بگٹی کی ہلاکت کے اعلان کو چار روز گزر چکے ہیں۔ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بارے میں حکام کے بدلتے ہوئے بیانات نے معاملے کو مزید الجھا دیا ہے اور ان کی ہلاکت پر کئی سوالیہ نشان لگا دیئے ہیں۔ بہرحال مبصرین کا کہنا ہے کہ نواب اکبر بگٹی کی لاش برآمد ہونے اور اس کے آزادنہ پوسٹ مارٹم کے بعد ہی کسی حد اس بات کا تعین ہوسکے گا کہ پاکستانی حکام کا کونسا بیان درست ہے یا پھر تمام بیانات غلط ہیں۔ | اسی بارے میں بگٹی ہلاکت -- آفاتِ ناگہانی کا اشارہ27 August, 2006 | پاکستان بگٹی کی ہلاکت اور پاکستان کا مستقبل28 August, 2006 | پاکستان نواب اکبر بگٹی کیسے مارے گئے؟29 August, 2006 | پاکستان بگٹی کی ہلاکت کے اثرات 29 August, 2006 | پاکستان ’بگٹی کی لاش نکالنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں‘30 August, 2006 | پاکستان بگٹی کی میت پر اٹھتے سوالات30 August, 2006 | پاکستان بگٹی کی ہلاکت پر پشاور میں احتجاج31 August, 2006 | پاکستان بگٹی ہلاکت:اے این پی کی مذمت27 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||