پاکستان کی اصل اپوزیشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی حالیہ دنوں میں حزب اختلاف کا کردار ادا کر رہی ہے۔ قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نےحالیہ دنوں میں پیٹرول، گیس اور چینی کی مہنگائی پر بحث کے دوران میں جس طرح حکومت اور بڑے کاروباری اداروں کو اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے اس سے یوں لگتا ہے کہ پاکستان میں اصل حزب اختلاف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ہے۔ ایسے وقت میں جب پورے ملک میں چینی، دالوں، پیٹرول اور سیمنٹ کی مہنگائی پر کہرام مچا ہوا ہے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اپنے مشاہدات کے ذریعے رائے عامہ کی عکاسی کر رہی ہے۔ اب تک حزب اختلاف کی کسی سیاسی جماعت کے سربراہ نے بھی عوام سے متعلق ان مسائل پر ایسا واضح موقف اختیار نہیں کیا اور ملک میں ایسی بحث کو جنم نہیں دیا جیسا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی گزشتہ چند ہفتوں میں کیا ہے۔ رہی سہی کسر سپریم کورٹ نے پوری کردی ہے جس کے نو رکنی بینچ نے چوبیس مئی کو سٹیل ملز کی نجکاری کے خلاف درخواست سماعت کے لیے قبول کرتے ہوئے اسے خریدار کنسورشیم کے حوالہ کرنے کا عمل پندرہ جون تک روک دیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس متنازعہ نجکاری کے حق میں سپریم کورٹ میں ملک کے نامور قانون دان اور سیاستدان وکیل کے طور پر پیش ہوئے ہیں۔ نجکاری کمیشن کی طرف سے سابق چیئرمین سینٹ اور موجودہ سنیٹر وسیم سجاد اور وفاقی حکومت کے مشیر شریف الدین پیرزادہ وکیل ہیں۔سٹیل ملز خریدنے والے کنسورشیم کے وکیل سابق وفاقی وزیر وکیل خالد انور ہیں۔ عدالت عظمیٰ پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کے خلاف بھی تین آئینی درخواستوں کی سماعت کررہی ہے۔ تاہم سب سے زیادہ شور اس وقت قومی اسمبلی کی اکاؤنٹس کمیٹی میں چینی اور پیٹرول کی قیمتوں پر ہونے والی بحث پر مچا ہوا ہے۔کمیٹی نے دس مئی کو چینی کی بڑھی ہوئی قیمتوں پر بحث کی اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ پر حکومتی اقدامات کو ناکافی قرار دیا۔ کمیٹی قومی احتساب بیورو (نیب) سے کہا کہ وہ چینی میں قیمتوں میں اضافہ کی دوبارہ تحقیقات کرے کیونکہ شوگر مافیا عوام کو لوٹ رہا ہے۔ کمیٹی میں بحث کے دوران کہا گیا کہ چینی کا بحران مل مالکان نے پیدا کیا، سرکاری ادارے اس مہنگائی میں ملوث ہیں اور بااثر مل مالکان کی وجہ سے نیب نے تحقیقات روکیں۔ کمیٹی میں کہاگیا کہ ملز مالکان طاقتور ہیں۔
اس شور شرابہ کا نتیجہ یہ نکلا کہ پنجاب حکومت اور ملز مالکان بار بار میڈیامیں اپنی وضاحتیں پیش کرتے نطر آرہے ہیں۔ گزشتہ روز بدھ کو شوگر ملز ایسوسی ایشن نے اخبارات میں ایک بڑا اور نمایاں اشتہار شائع کروایا۔ اس اشتہار میں ملز مالکان نے اپنے بے قصور ہونے کی وضاحتیں پیش کیں اور حکومت کے معاشی امور کے مشیر اشفاق حسن کا نام لے کر ان کی نااہلی کو چینی کی قیمتوں میں اضافہ کا ذمہ دار قرار دیا۔ حالیہ اجلاس میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نے پیٹرول کی قیمتوں پر بحث کے دوران میں کہا کہ تیل کی قیمتوں پر سبسڈی دینے کے حکومتی دعوے سچ نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تیل کی قیمتوں کا پچاس فیصد سرکاری ٹیکس ہے۔
ذیلی کمیٹی نے سینڈک منصوبہ پر بھی سرکاری اداروں کی کھینچائی کی اور یہ تبصرہ کیا کہ انہوں نے بیس برسوں میں اس منصوبہ پر عوام کے چودہ ارب روپے ضائع کیے اور بالاخر یہ منصوبہ چین کے سپرد کیا گیا تو اس نے ایک ہی سال میں اسے قابل عمل بنا دیا۔ اس سے پہلے سب کمیٹی نے وزارت داخلہ کو حکم دیا کہ وہ بیرونی ممالک میں ہزاروں پاکستانی پاسپورٹوں کے غائب ہونے، اعلی سرکاری افسروں کے اپنی بیویوں کے ذریعے اسمگل شدہ گاڑیوں کی رجسٹریشن کرانے اور کراچی کی عمارتوں کے غیر قانونی قبضہ کے معاملات پر تفصیلی رپورٹ پیش کرے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے مشاہدات اور ان کی میڈیا میں نمایاں کوریج کا ردعمل یہ ہوا ہے کہ حکومت کے سینیٹر کامل علی آغا نے یہ بیان دیا ہے کہ سب کمیٹی کو اپنی بحث عوام میں لانے کا اختیار نہیں بلکہ صرف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو پیش کرنے کا اختیار ہے۔ دوسری طرف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے مشاہدات چینی بدستور چالیس روپے فی کلو ہی فروخت ہورہی ہے جو چھ ماہ پہلے چھبیس ستائس روپے کلو تھی۔ مونگ اور ماش کی دالیں بھی ستر اسی روپے کلو فروخت ہورہی ہیں جو سال پہلے نصف قیمت پر دستیاب تھیں۔ پیٹرول بھی آج تقریباً اٹھاون روپے فی لیٹر ہے جسے کم آمدن کےموٹر سائکل چلانے والے بھی سخت پریشان ہیں۔ بھارت سے تقریبا دو سو روپے بوری کے حساب سے آنےوالے سستے سیمنٹ کے باوجود اس کی بوری کی قیمت ملک میں تین سو سے سوا تین سو روپے ہے۔ حکومت کمیٹی کی سفارشات پر جو بھی ردعمل دکھائے فی الحال تو اس کمیٹی کی بحثوں سے ملک میں ایسا ماحول بن رہا ہے جو حکومت کے لیے سازگار نظر نہیں آتا۔ | اسی بارے میں ’حکومت کے با اثر افراد ملوث تھے‘10 May, 2006 | پاکستان چینی کی گرانی، نیب تحقیقات ختم13 March, 2006 | پاکستان بھارت سے چینی بھی آگئی07 September, 2005 | پاکستان سندھ: گنے کے نرخ بڑھنے سے ملیں بند19 December, 2005 | پاکستان پٹرول مہنگا تو چینی بھی مہنگی07 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||