تحفظِ حقوقِ نسواں بل قانون بن گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حدود آرڈیننس میں ترامیم کا تحفظِ حقوقِ نسواں بل صدر جنرل پرویز مشرف کے دستخط کے بعد قانون کی شکل اختیار کر گیا ہے اور اسے فوری طور پر نافذ العمل کر دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد وزارتِ پارلیمانی امور کی جانب سے یہ بل گزشتہ ہفتےصدر جنرل پرویز مشرف کو بھجوایا گیا تھا اور انہوں نے جمعہ کو اس پر دستخط کر دیئے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حدود آرڈیننس میں کی جانے والی ترامیم بطور ِقانون فوری طور پر ملک بھر میں نافذالعمل ہوں گی اور یہ قانون پاکستان کی خواتین کے حقوق کی بحالی کے حوالے سے پہلا قدم ہے۔ گزشتہ روز اسلامی نظریاتی کونسل کے اراکین نے بھی صدر جنرل مشرف سے ملاقات کے بعد اس بل کی حمایت کی تھی اور کہا تھا کہ بل اسلامی قوانین کی نفی نہیں کرتا۔ کونسل اراکین نے اس بل کو صحیح سمت میں ایک قدم قرار دیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ اس بل سے موجودہ قوانین کی بےقاعدگیاں دور ہوں گی تاہم حکومت کی جانب سے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیئے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ تحفظِ حقوقِ نسواں بل کی منظوری کا معاملہ کئی ماہ سے شہ سرخیوں میں رہا ہے اور جہاں اس بل کے حوالےسے حکومت اور پیپلز پارٹی میں ڈیل کی خبریں گرم رہی ہیں وہیں مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے رہنما اس بل کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے اور حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔ | اسی بارے میں حدود ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش15 November, 2006 | پاکستان ترامیم: حدود قوانین میں نیا کیا؟16 November, 2006 | پاکستان حقوق نسواں بل سب سے نمایاں خبر16 November, 2006 | پاکستان حقوق نسواں بل اور پولیس آگاہی17 November, 2006 | پاکستان حدود قوانین: تھانے سے عدالت تک17 November, 2006 | پاکستان حقوق نسواں بل سینیٹ سے منظور23 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||