حقوق نسواں بل سینیٹ سے منظور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکومت نے حدود آرڈیننس میں ترامیم کا ’حقوق نسواں بل‘ پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ سے بھی جمعرات کو دو روز کی بحث کے بعد منظور کرالیا ہے۔ مذہبی جماعتوں اور مسلم لیگ نواز نے حکومت کے اس بل میں مزید ترامیم کی تجاویز پیش کیں جو حکومت نے مسترد کردیں ۔جب جمعرات کو حکومت نے سینیٹ سے یہ بل اکثریت رائے سے منظور کرایا تو حزب مخالف کی مذہبی جماعتوں کے نمائندوں نے اس کی سخت مخالفت کرتے ہوئے احتجاجی نعرے لگائے۔ حکومت قومی اسمبلی سے پندرہ نومبر کو یہ بل پاس کرواچکی ہے اور اب صدر کو دستخط کے لیے پیش کیا جائے گا اور جس روز صدر نے اس پر دستخط کیے یہ ترمیمی بل قانون کی صورت میں نافذ ہوجائے گا۔ حکومت کے اس بل کی حزب مخالف کی ایک سیکولر سمجھی جانے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے مکمل حمایت کی۔ واضح رہے کہ حدود قوانین دس فروری انیس سو اناسی کو فوجی صدر ضیاءالحق نے نافذ کیے تھے جس کے نفاذ سے ہی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بعض سیاسی جماعتیں مخالفت کرتی آرہی تھیں اور انہیں سیاہ قوانین قرار دیا تھا۔ جن اسلامی قوانین میں ترمیم کی گئی ہے ان کے مطابق گزشتہ ستائیس برس اور نو ماہ کے دوران کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہیں ہوسکی ان قوانین کا غلط استعمال اس طرح ہوتا تھا کہ جب بھی زنا بالجبر کی کوئی متاثرہ خاتون تھانے میں فریاد لے جاتی تو پولیس ان سے کہتی کہ چار چشم دید گواہ لے کر آئیں اور جب گواہ نہیں ہوتے تو متاثرہ خاتون کو زنا بالرضا کے مقدمے میں ازخود گرفتار کرلیا جاتا۔ ماضی میں پیپلز پارٹی نے دو بار اپنے حکومتی ادورا میں ان قوانین میں ترمیم کی کوشش کی لیکن مذہبی جماعتوں کے شدید احتجاج کی وجہ سے ایسا نہیں کر پائی۔ اب بھی مذہبی جماعتوں نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے حکومتی بل کو اسلام کے منافی قرار دیا ہے۔ جبکہ حکومت ان کا موقف رد کرتی ہے۔ اس ترمیمی بل کے متن میں حکومت نے علما کمیٹی کی تجویز کردہ ایک شق جس میں باہمی رضامندی سے جنسی عمل کو جرم قرار دیا گیا تھا وہ شامل کردی ہے۔ تاہم اس طرح کے جرم میں پولیس کے بجائے کارروائی کا اختیار سیشن جج کو دیا گیا ہے۔ ترمیمی بل کے مطابق زنا باالرضا کا جھوٹا الزام لگانے والے کو بھی وہ ہی سزا ہوگی جو مجرم کو ہوگی جوکہ پانچ برس تک قید اور دس ہزار روپے جرمانہ ہے۔ چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں نے کہا تھا کہ اگر یہ بل منظور ہوا تو وہ قومی پارلیمان سے مستعفی ہوجائیں گے۔ لیکن جب قومی اسمبلی سے بل منظور ہوا تو انہوں نے کہا کہ وہ قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں استعفے دیں گے۔ وفاقی وزیرِ قانون محمد وصی ظفر نے کہا کہ علماء کمیٹی کی سفارشات کے مطابق ترمیمی بل کا مسودہ منظور کیا گیا ہے اور کوئی شق بھی اسلام کے منافی نہیں ہے۔ ان کے مطابق اس قانون کے تحت بدکاری، شادی اور زنا کے مقصد کے لیے کسی خاتون کو اغوا کرنے، معاوضے پر لینے، جبر کر کے، خوف یا لالچ یا دھوکہ دہی سے کسی کو بیچنے یا زنا پر مجبور کرنے والے، بیچنے والے اور خریدنے والے سب مجرم قرار پائیں گے اور انہیں عمر قید تک کی سزا اور جرمانہ کیا جاسکے گا۔ وزیر قانون کا کہنا ہے کہ پہلے چار گواہوں کی شرط تھی جو اب بھی ہے لیکن ترمیمی بل میں ایک اضافہ یہ ہے کہ اگر مجاز عدالتی افسر شکایت کنندہ کے بیان اور حالات سے مطمئن ہوں تو ملزمان کے خلاف چار گواہوں کے بنا بھی کارروائی کرسکتاہے اور مجاز افسرِ کسی کی شکایت کو خارج بھی کرسکتاہے۔ نئے قانون کے تحت زنا بالرضا کا اطلاق سولہ سال یا اس سے کم عمر والوں پر کسی طور پر نہیں ہوگا اور سولہ برس سے کم عمر کی لڑکی کی رضامندی سے جنسی عمل کو بھی زنا تصور کیا جائے گا۔ اعتزاز احسن سمیت بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ بیشتر دیہی علاقوں میں اکثر بچیوں کی سولہ سال سے کم عمر میں بھی شادی ہوتی ہے اور اس بل میں یہ وضاحت نہیں کہ اس طرح کی شادی جائز ہوگی یا نہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق بل میں ایک اہم شق یہ بھی ہے کہ زنا کے مقدمات میں متاثرہ فرد یا اس کے اہل خانہ کا نام شائع نہیں کیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والے کو چھ ماہ قید کی سزا ملے گی۔ | اسی بارے میں حدود قوانین: تھانے سے عدالت تک17 November, 2006 | پاکستان حقوق نسواں بل اور پولیس آگاہی17 November, 2006 | پاکستان بل کے کچھ اہم نکات 15 November, 2006 | پاکستان تحریک کی دھمکیاں، بل میں ترمیم14 November, 2006 | پاکستان ’پاکستان فری سیکس زون بن جائےگا‘15 November, 2006 | پاکستان حقوق نسواں بل سب سے نمایاں خبر16 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||