حدود قوانین: تھانے سے عدالت تک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نو فروری انیس سو اناسی کو جنرل ضیا الحق نے چار قانون نافذ کیے جو حدود قوانین کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ستائیس سال بعد ایک اور فوجی حکمران کے کہنے پر قومی اسمبلی نے ان چار میں سے ایک قانون کے زہریلے دانت نکال دیئے ہیں۔ باقی تین قوانین اب بھی اپنی اصلی شکل میں موجود ہیں جن کے تحت چار اعشاریہ چار گرام سونے کی مالیت کے برابر پہلی چوری پر دایاں ہاتھ اور دوسری چوری پر بایاں پاؤں کٹ سکتا ہے۔ حدود سے متعلق قانون میں تین بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ پہلی تبدیلی کے مطابق اس قانون کو تھانیدار کے اختیار سے نکال کر سیشن جج کو دے دیا گیا ہے۔ دوسری بڑی تبدیلی زنابالرضا اور زنا بالجبر کو علیحدہ علیحدہ جرم تسلیم کرنا ہے جس طرح یہ نومبر 1979 سے پہلےتھے اورجھوٹا الزام لگانےوالے کو سزا دلوانے کے لیے پہلے کی طرح الگ مقدمے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ ملک میں سعودی نظام حکومت لانے کے خواہاں جنرل ضیا الحق نے زنا بالرضا اور زنا بالجبر کو ایک ہی صف میں کھڑا کردیا تھا۔ یہ قوانین سعودی عرب میں لاگو قوانین کے اس قدر قریب تھے کہ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ حدود قوانین کے مسودے بھی وہیں سے لائے گئے تھے۔ اب ترمیم شدہ حدود قانون کےمطابق اگر کسی عورت سے زنابالجبر کا واقعہ پیش آتا ہے تو مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کے تحت درج ہوگا اور عورت کو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو ثابت کرنے کے لیے چار مسلمان مرد گواہوں ( عورت اگر مسلمان ہو) کی نہیں بلکہ دوگواہوں کی ضرورت ہوگی اور صرف مقدمہ درج کرانے کی بنیاد پر اسے مجرم تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
اس کے برعکس غیر ترمیم شدہ حدود قانون کے تحت اگر عورت زنابالجبر کی شکایت لے کر تھانے جاتی تو پولیس اسے مقدمہ کی ایک ایسی فریق کے طور پرگرفتار کر سکتی تھی جس نے اپنا جرم قبول کر لیا ہو۔ عورت کو یہ ثابت کرنے کے لیے کہ زنا اس کی مرضی کے خلاف ہوا ہے چار عاقل بالغ مردوں کی ضرورت تھی جو یہ بتائیں کہ ہاں انہوں نےاپنی آنکھوں سے یہ عمل ہوتے دیکھا ہے۔ اور اگر عورت کے ساتھ زیادتی اس کی ماں اور بہنوں کی موجودگی میں ہوئی ہے تو ان کی گواہی کی کوئی حثیت نہیں ہے۔ مسلمان عورت کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے چار مسلمان مرد گواہوں کی ضرورت ہوتی تھی جو تزکیت ا لشہواد ( جنہوں نےزندگی میں کوئی جرم نہ کیا ہو اور جھوٹ سے پرہیز کرتے ہوں) کے معیار پر پورے اترتے ہوں۔ حدود قانون میں مرد کو سزا صرف اسی صورت ممکن تھی جب وہ خود جرم کااقرار کر لے اور اس اقرار پر قائم رہے۔ مرد مقدمے کے کسی بھی مرحلے پر اپنے اقرار سے ہٹ جائے تو عدالت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ اسے معاف کر دے۔ ترمیم شدہ قانون کے تحت اگر کہیں یہ شکایت پیدا ہو جائے کہ مرد اور عورت اپنی مرضی سے زنا میں ملوث ہیں تو ان کا مقدمہ حدود قانون کے تحت ہی چلےگا لیکن اس میں جج کو اخیتار ہوگا کہ اگر وہ مجرموں کو سنگساری کی سزا نہ دینا چاہے تو وہ انہیں پینل کوڈ کے تحت سزا سنائے جو پانچ سال قید یا دس ہزار جرمانہ تک ہو سکتی ہے۔
سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے حدود آرڈینس کو مکمل ختم نہیں کیا جا سکا لیکن اب یہ یقیناً اپنی افادیت کھو دے گا۔اس قانون کو پولیس کی دسترس سے باہر نکالنا شاید سب سے اہم بات ہے۔ قوانین کے خاتمے کے حامی تنظیموں کا مطالبہ تھا کہ اولاً یہ قانون مکمل ختم کر دیا جائے لیکن اگر سیاسی وجوہات کی وجہ سے اس کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہے تو پھر زنابالجر کا مقدمہ انگریزی قانون یعنی پینل کوڈ کے تحت چلایا جائے اور زنا بالرضا کا مقدمہ حدود قانون کے تحت۔ کیونکہ حدود قانون کے تحت زنا کو ثابت کرنا اگر نا ممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔ حدود قانون کے نفاذ کے ستائیس برسوں میں ہزاروں مقدموں میں ایک ملزم بھی ایسا نہیں ہے جس کو ذیلی عدالتوں کی طرف سے دی گئی سزا کو اعلی عدالتوں نے برقرار رکھا ہو لیکن اعلی عدالتوں میں پہنچنے سے پہلے ایسے ملزمان سالہا سال تک پولیس کی بدتمیزیاں اور جیلوں کی سختاں برادشت کر چکے ہوتے تھے۔ ساہیوال کی سفیہ بی بی اور کوہاٹ کی زعفران بی بی کے مشہور مقدمات سے یہ بات مکمل طور پر عیاں ہوئی کہ یہ قانون صرف اور صرف مردوں کے لیے مدد گار ہیں۔ حدود قوانین کی موجودگی میں خواتین زنا بالجر کے مقدمے درج کرنے سےگریز کرتی تھیں اب شاید صورتحال بدل جائے اور مولوی حضرات کو یہ کہنے کا دوبارہ موقع مل جائے کہ پاکستان ’فری سیکس زون’ بن گیا ہے۔ اس قانون کی اور اہم بات یہ ہے کہ اگر الزام لگانے والا یہ ثابت نہ کر سکے کہ زنا سرزد ہوا ہے تو وہ جھوٹ (قذف) کی سزا کا مستحق ٹھہرے گا اور جھوٹ کی سزا دلوانے کے لیے پہلے کی طرح الگ مقدمے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ حدود قوانین میں عورتوں کی گواہی کو یکسر مسترد کر دیا گیا تھا جبکہ غیر مسلموں کو کسی مسلمان ملزم کے خلاف گواہی دینے کا اخیتار نہیں تھا لیکن مسلمان گواہ غیر مسلم ملزم کے خلاف گواہی دینے کا اہل تھا۔ قانون کی یہ شق اپنی جگہ اب بھی موجود ہے۔ حدود قوانین کے نفاذ سے معاشرے میں عورتوں اور اقلیتوں کے بارے میں جو امتیازی رویہ پروان چڑھا اس کےخاتمے کے لیے ابھی مزید قوانین میں ترامیم کی ضرورت ہوگی۔ 1979 میں نافذ ہونےوالے حدود قوانین کی روشنی میں جنرل ضیا الحق نے 1984 میں قانون شہادت میں بھی ترمیم کی تھی جس کے مطابق مالی معاملات میں عورت کی گواہی کو کم درجے کی گواہی تصور کیا جاتا ہے۔ قانون شہادت کی سیکشن سترہ ( دو) کے تحت مالی معاہدوں سے متعلق دستاویزات کی توثیق میں دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کے برابر تصور کی جاتی ہے چاہے عورت وکیل، جج، یا بینکر ہی کیوں نہ ہو۔ حددو قوانین میں ترمیم کا بل سینٹ سے پاس ہونے کے بعد صدر مشرف کے پاس جائےگا جن کے دستخطوں سے وہ ایک قانون کی شکل میں نافذ ہو جائے گا۔ |
اسی بارے میں حدود کا ترمیمی بل پاس 15 November, 2006 | پاکستان ’انتہا پسندوں کا زور ٹوٹ گیا ہے‘15 November, 2006 | پاکستان ’حقوق نسواں بل منظور نہیں‘13 September, 2006 | پاکستان ایم ایم اے: استعفے بِل سے مشروط05 September, 2006 | پاکستان جے یو آئی (ف) خواتین کا مطالبہ 04 September, 2006 | پاکستان عدالت انصاف کرے گی: درانی22 June, 2006 | پاکستان کراچی: ایم ایم اے کے خلاف مظاہرہ24 August, 2006 | پاکستان ’ورنہ اس دنیا میں بھی خمیازہ‘ 06 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||