حقوق نسواں بل اور پولیس آگاہی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب پولیس کے چند تھانیدار حدود آرڈیننس کے تحت درج کیئے جانے والے مقدمات سے مطمئن ہیں تو بعض کا خیال ہے کہ یہ ایک انتہائی ناقص قانون ہے جس کا تبدیل ہوجانا ہی بہتر ہے۔ پنجاب پولیس کے بعض تھانیداروں کے لیے نیا خواتین بل اتنا ہی ناآشنا ہیں جتنا کے عام لوگوں۔ محکمہ پولیس میں تیس برس کی ملازمت کےدوران کانسٹیبل سے سب انسپکٹر کے عہدے تک پہنچنے والے محمد نصیب کو نئے تحفظ خواتین بل کے بارے میں تو کچھ علم نہیں ہے البتہ رائج حدودآرڈیننس سنہ انیس سو اناسی کی چند دفعات انہیں زبانی یاد ہیں۔ سب انسپکٹر نے بتایا کہ ’انہیں سب سے زیادہ غصہ اس وقت آتا ہے جب مقدمہ درج کرانے والا پیسے لیکر صلح کرلیتا ہے اور اپنے بیانات سے منحرف ہوکر اچھا بھلا کیس خراب کر دیتا ہے ۔‘
تاہم وہ حدود آرڈیننس سنہ انیس سو اناسی کے حق میں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس پر صیح طریقے سے عملدرآمد ہوجائے تو یہ ٹھیک ہے۔ حدود آرڈیننس کے تحت گینگ ریپ یا اجتماعی زیادتی کے مقدمات بھی درج ہوتے ہیں جب کسی کے خلاف یہ مقدمہ درج ہوجائے تو قانون کے مطابق یا تو اسے سزائے موت ہوگی یا پھر مکمل بری ہوجائے گا۔عام طور پر اس مقدمے میں درمیان کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ چند ماہ کے دوران پاکستان میں متعدد ایسے ملزمان کو پھانسی چڑھا دیا گیا جنہیں اجتماعی زیادتی کی سزا ہوئی تھی۔ پاکستان میں حدود آرڈیننس کے تحت زیادہ تر مقدمات عام طور پر غیرشادی لڑکیوں کے خلاف ان کے والدین اور شادی شدہ خواتین کے خلاف ان کے شوہر درج کراتے ہیں اس کے علاوہ بعض مقدمات خود پولیس کے استغاثے پر بھی درج ہوتے ہیں۔ لاہور میں سینکڑوں سیکس ورکر خواتین ایسی ہیں جن پر حدود آرڈیننس کے مقدمات درج ہیں۔جن ٹھکانوں پر سیکس کا کاروبار کیاجاتا ہے پاکستان میں انہیں کوٹھی خانے یا قبحہ خانے کہا جاتا ہے۔ لاہور میں ایک تھانے کے محرر ہیڈ کانسٹیبل محمد ریاض نے اپنی چار برس کی تعیناتی کےدوران حدود آرڈیننس کے تحت درجنوں مقدمات درج کیئے ہیں۔ محمد ریاض نے ایسے کئی مقدمات درج کیئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان مقدمات میں مدعی پولیس خود ہوتی ہے جبکہ گواہ عام شہریوں کو بنایا جاتا ہے۔ تاہم محررنے کہا کہ’ بہت ہی کم ایسے واقعات ہوئے جس میں پولیس نے اپنی طرف سے کسی ایسی لڑکی کے خلاف مقدمہ درج کیا جو پیشہ ور نہیں تھی بلکہ دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر کسی لڑکے کے ساتھ عین موقع پر پکڑی گئی۔” انہوں نے کہا کہ جو لڑکیاں ان بقول گھر سے بھاگ کر اپنی مرضی سے شادی کرلیتی ہیں بعض کے والدین ان کے خلاف مقدمہ درج کرادیتے ہیں جس کے بعد لڑکی کو بڑی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں اعلی عدالتوں نے ایسے درجنوں مقدمات میں نامزد جوڑوں کے حق میں فیصلے دیئے ہیں جنہوں نے مرضی سے شادی کی تھی اور ان کے خلاف ان کے والدین نے حدود آرڈیننس کے مقدمات درج کرائے تھے۔ تھانہ شالیمار کے انچارج انسپکٹر زاہد حسین شاہ خود بھی رائج حدود آرڈیننس کے خلاف ہیں اور اس میں مناسب تبدیلی کے حق میں ہیں۔ انسپکٹر نے کہا کہ انہوں نے اپنی سولہ برس کی سروس کےدوران شائد ہی کبھی یہ سنا ہو کہ حدود آرڈنینس کے مقدمہ میں کسی خاتون کو سخت سزا ہوئی ہو۔ حدود آرڈیننس کےتحت درج کیے جانے والے اکثر مقدمات دوران تفیتش ہی جھوٹے ثابت ہوئے اورجو عدالت تک پہنچے ان میں سے بھی بیشتر میں سزا نہیں ہوسکی۔ انہوں نے کہا ’خواتین کے خلاف درج ہونے والے نوے فی صد مقدمات جھوٹے ہوتے ہیں اور مدعی زیادہ سے زیادہ سزا دلانے کے لیے زیور اور رقم چوری جیسے جھوٹے الزامات بھی شامل کر دیتا ہے جسے بعد میں ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے۔‘ انسپکٹر زاہد شاہ نےکہا کہ’ انہیں یہ تو نہیں معلوم کہ نئے خواتین بل کے ذریعے کیا تبدیلی لائی جارہی ہے لیکن انہیں لگتا ہے کہ وہ جو بھی ہوگا موجود حدود آرڈنینس سے بہتر ہی ہوگا۔” پاکستان میں پولیس کے تھانیدار اور تفتیشی افسر تحفظ خواتین بل کے قانون کا باقاعد حصہ بننے کے منتظر ہیں کیونکہ بہرحال اس نئے قانون پر عملدرآمد کا آغاز انہی نے کرنا ہے۔ | اسی بارے میں حدود کا ترمیمی بل پاس 15 November, 2006 | پاکستان نئے حدود قوانین میں نیا کیا؟16 November, 2006 | پاکستان پشاور میں حسبہ بل کے خلاف احتجاج 16 November, 2006 | پاکستان حدود کی سیاسی اور قانونی حدود16 November, 2006 | پاکستان حقوق نسواں بل سب سے نمایاں خبر16 November, 2006 | پاکستان استعفوں کا فیصلہ 6 دسمبر کو16 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||