ترامیم: حدود قوانین میں نیا کیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنرل محمد ضیاء الحق کے دور میں متعارف کرائے گئے حدود قوانین میں ستائیس سال بعد ایک اور فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے عہد میں ’حقوق نسواں بل‘ کے تحت ترامیم کی گئی ہیں۔ ان ترامیم کے حوالے سے کچھ سوالات سامنے آئے ہیں جن کا ذیل میں جواب تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سوال: پہلے حدود آرڈیننس کے تحت مقدمہ کیسے درج ہوتا تھا اور اب کیسے ہوگا؟ پہلے مقدمہ پولیس درج کرتی تھی اب ضلع میں تعینات ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شکایت سننے کے بعد کارروائی کریں گے۔ سوال: پہلے والے قانون کا غلط استعمال کیسے ہوتا تھا اور اب کیا ضمانت ہے کہ نئے قانون کا غلط استعمال نہیں ہوگا؟ پہلے والے قانون کے تحت ’زنا بالرضا‘ اور’ زنا بالجبر‘ میں فرق نہیں تھا۔ جنسی زیادتی کا شکار کوئی خاتون اگر تھانے جاتی تھی تو پولیس ان کی طرف سے لگائے گئے الزام کے حق میں چار چشم دید گواہ پیش کرنے کا مطالبہ کرتی اور اس میں ناکامی پر شکایت کنندہ کو ہی الٹا زنا کے مقدمے میں دھر لیتی تھی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اب شکایت کنندہ سیشن جج کے پاس جائے گا اور چار گواہوں کی شرط پوری نہ ہونے پر بھی اگر جج چاہے تو کارروائی ہو سکتی ہے۔ جج پولیس کو جنسی زیادتی کے ملزم کی بغیر وارنٹ گرفتاری کا حکم بھی دے سکتا ہے۔ چار نیک مرد مسلمان گواہوں کی عدم دستیابی کی صورت میں پہلے کی طرح الٹا زنا کے جرم میں متاثرہ خاتون پر پرچہ نہیں ہوگا۔ تاہم قانون کے غلط استعمال نہ ہونے کی اب بھی کوئی گارنٹی نہیں۔ سوال: نئے ترمیمی قانون میں کس کس جرم کا ذکر ہے اور اس کی سزائیں کیا ہیں؟ حکومت کے بیان کردہ مقاصد کے مطابق نئے قانون کے تحت بدکاری، شادی اور زنا کے مقصد کے لیے کسی خاتون کو اغوا کرنے یا معاوضے کے عوض ساتھ رکھنے، بیچنے والے اور خریدنے والے سب مجرم قرار پائیں گے اور انہیں سزائے موت جیسی انتہائی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ سوال: یہ چار نیک مرد مسلمان گواہوں کی شرط کیا اب ختم ہوگئی ہے؟ یہ شرط اب بھی برقرار ہے اور پہلے کی طرح اگر چار گواہ ہوں گے تو سزا اسلامی قانون یعنی حد کے تحت ہوگی۔ جوکہ سنگسار کرکے ہلاک کرنا یا ایک سو کوڑے مارنا ہے ۔ اگر چار گواہ نہیں ہوں گے تو عام قانون یعنی تعزیر کے تحت سزا ہوگی، جو سزائے موت اور عمر قید بھی ہوسکتی ہے۔ سوال: کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حکومت کے نئے قانون سے فحاشی بڑھے گی اور ملک سیکس فری زون بن جائے گا؟ قانون کے مطابق فحاشی پر پہلے بھی پابندی تھی اور اب بھی رہے گی۔ حکومت نے جو ترمیمی بل پیش کیا اس پر علماء کمیٹی، جو حکومت اور مذہبی جماعتوں نے متفقہ طور پر بنائی تھی، نے تجویز کیا تھا کہ فحاشی کو روکنے کی شق شامل کریں اور اس میں زنا باالرضا کو بھی قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے۔حکومت نے علماء کمیٹی کی اس تجویز کو بل میں شامل کر دیا تھا لیکن جب بل منظور ہو رہا تھا تو پیپلز پارٹی نے کہا کہ جہاں جہاں بھی لفظ فحاشی ہے اس کی جگہ Fornication کا لفظ لکھیں یعنی ’باہمی رضامندی سے جنسی عمل‘۔ سوال: زنا باالرضا پر جب پہلے بھی پابندی تھی تو اب نئی شق کی خاص بات کیا ہے؟ پہلے پولیس ازخود کارروائی کرتی تھی لیکن نئے بل میں زنا باالرضا کے حوالے سے اب اگر کسی کو شکایت درج کرانا ہوگی تو اسے پولیس کی بجائے جج کے پاس جانا ہوگا اور اسے اپنے دعوے کے حق میں دو گواہ بھی پیش کرنے ہونگے۔ جج اگر سمجھے کہ کارروائی ضروری ہے تو وہ ملزم کو سمن جاری کر کے بلا سکتا ہے۔ زنا باالرضا کی صورت میں کیس میں ملزم کو کسی طور پر بھی بغیر وارنٹ گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔ جبکہ زنا بالجبر یعنی ریپ کے کیس میں ملزم کو بغیر وارنٹ بھی گرفتار کیا جاسکے گا۔ زنا بالرضا کا جھوٹا الزام لگانے والے کو پانچ برس تک قید اور دس ہزار تک جرمانہ کیا جاسکے گا۔ سوال: زنا باالرضا اور زنا بالجبر میں ایک جیسی سزائیں ہیں؟ زنا باالرضا کے ملزم کو پانچ برس قید اور دس ہزار روپے جرمانہ ہوسکتا ہے جبکہ زنا بالجبر یا اجتماعی زیادتی کے ملزم یا ملزمان کو سزائے موت اور عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ سوال: زنا باالرضا کی سزا کا اطلاق بلوغت سے ہوگا یا کوئی مخصوص عمر ہے؟ زنا باالرضا کا اطلاق سولہ برس یا اس سے زیادہ عمر کی صورت میں ہوگا۔ سولہ سال سے کم عمر والوں کے جنسی تعلق کے بارے میں اس قانون کے تحت کارروائی نہیں ہوگی۔ سوال: اکثر ممالک میں جنسی زیادتی کے واقعات میں ملزمان اور متاثرین کے نام اور شناحت اس وقت تک ظاہر نہیں کی جاسکتی جب تک عدالت فیصلہ نہ دے۔ لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا اور اگر مقدمہ غلط بھی ثابت ہوتا ہے تو بھی میڈیا میں ان کے نام شائع ہونے سے فریقین کو سماجی مسائل کا سامنا رہتا ہے اس بارے میں کچھ ہے نئے بل میں؟ نئے بل میں ایک اہم شق یہ بھی ہے کہ زنا کے مقدمات میں متاثرہ فرد یا اس کے اہل خانہ کا نام شائع نہیں کیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والے کو چھ ماہ قید کی سزا ملے گی۔ | اسی بارے میں حدود بل: جب چاہے قابو کرلو15 November, 2006 | پاکستان حدود کی سیاسی اور قانونی حدود16 November, 2006 | پاکستان تحریک کی دھمکیاں، بل میں ترمیم14 November, 2006 | پاکستان حقوق نسواں بل سب سے نمایاں خبر16 November, 2006 | پاکستان حدود ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش15 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||