BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 December, 2006, 13:56 GMT 18:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حسبہ بل، حکومت مخمصے میں

حسبہ بل
حسبہ بل کے خلاف عوام مظاہرے کرتے رہے ہیں
صوبہ سرحد میں دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی حکومت متنازعہ حسبہ بل پر مخمصے کا شکار ہوگئی ہے۔

اس کی وجہ حسبہ بل کی سرحد اسمبلی سے دوبارہ منظوری کے بعد گورنر سے تیس روز کے اندر اس کی منظوری ہے۔

یہ بل تو صوبائی اسمبلی سے گزشتہ دنوں کثرت رائے سے منظور ہوا تھا تاہم اسے گورنر کو صوبائی حکومت نے بیس نومبر کو ارسال کیا تھا۔

اب صوبائی حکام قانونی ماہرین کے ذریعہ آئین کی دفعہ ایک سو سولہ کی تشریح کی کوشش کر رہے ہیں کہ تیس روز کی آئینی مدت بل کی اسمبلی سے منظوری کے بعد مکمل ہوتی ہے یا پھر اس دن سے جب یہ بل گورنر کو بھیجا جاتا ہے۔

صوبائی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اس مدت کے مکمل ہونے کے منتظر ہیں۔ ’ہم معلوم کرنا چاہ رہے ہیں کہ یہ مدت کب مکمل ہوگی‘۔

تاہم ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے محمکہ قانون میں حسبہ کے ادارے سے متعلق شعبے کے قیام سے متعلق تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ یہ شعبہ حسبہ کے تحت مختلف سطحوں پر صوبے میں محتسب کے قیام کے کام کی نگرانی کرے گا۔

ادھرصوبائی وزیر اعلی اکرم خان دورانی نے صوبائی وزیر تعلیم مولانا فضل علی حقانی کی سربراہی میں مختلف محکموں کے سیکٹریوں پر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ یہ کمیٹی حسبہ کے ادارے کے تحت محتسب کی تقرری کے معاملے پر غور کرے گی۔

ایم ایم اے کی قیادت کا خیال ہے کہ اگر گورنر اس بل کی منظوری نہیں دیتے تو بھی یہ بل خود بخود تیس روز کی مدت کے بعد ایکٹ کی شکل اختیار کر لے گا۔ تاہم مبصرین کے خیال میں یہ معاملہ اتنا آسان نہیں۔

سرحد حکومت کا کہنا ہے کہ ادارہ حسبہ کا قیام عوام کو سستا اور جلد انصاف مہیا کرنے کی ایک کوشش ہے تاہم اس کے ناقدین کو خدشہ ہے کہ اس کے ذریعہ حکومت اپنے مولویوں کو نوکریاں دینا چاہتی ہے جو لوگوں کو ان کے سخت اسلامی قوائد پر پابندی کروائیں گے۔

 گورنر سرحد لیفٹینٹ جنرل (ر) علی محمد جان اورکزئی نےحسبہ بل کی صوبائی اسمبلی سے منظوری کے چند روز بعد صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ اس بل کو غور کرتے وقت اس بات کا تجزیہ کریں گے کہ اس میں سپریم کورٹ کی ہدایات کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے یا نہیں۔

گورنر سرحد لیفٹینٹ جنرل (ر) علی محمد جان اورکزئی نےحسبہ بل کی صوبائی اسمبلی سے منظوری کے چند روز بعد صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ اس بات کا تجزیہ کریں گے کہ اس میں سپریم کورٹ کی ہدایات کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے یا نہیں۔

سرحد حکومت کا کہنا ہے کہ اسمبلی سے گزشتہ ماہ منظور کروایا گیا حسبہ بل سپریم کورٹ کی ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ پہلے بل کوعدالت نے آئین کے متصادم قرار دیتے ہوئے اس کی کئی شقوں کو حذف کرنے کی ہدایت کی تھی۔

دوسری جانب صوبائی وزیر اعلی اکرم خان دورانی کا کہنا ہے کہ نئے محتسب کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بل گورنر کی منظوری کے بغیر بھی قانون کی شکل اختیار کرلے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد