’حسبہ بل کا نفاذ فوراً روکا جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آل پاکستان مینارٹیز الائنس (ایپما) صوبہ سرحد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اقلیتوں کے حقوق کی تحفظ کی خاطر سرحد اسمبلی سے منظور شدہ حسبہ بل کے نفاذ کو فوری طور پر روکنے کےلئے اقدامات کئے جائے۔ یہ مطالبہ اتوار کے روز انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر ایپما کے زیراہتمام پشاور پریس کلب کے سامنے منعقدہ احتجاجی مظاہرے میں کیا گیا جس میں اقلیتوں کے تمام مذہبی نمائندوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھارکھے تھے جن پر ’حسبہ بل نامنظور اور اقلیتوں کے خلاف امتیازی قوانین کا خاتمہ کیا جائے‘ جیسے نعرے درج تھے۔ ایپما کے صوبائی صدر پرنس جاوید کی قیادت میں اس مظاہرے میں بچوں کے علاوہ ہندو، پارسی، سکھ ، بالمیک شیڈول کاسٹ ، کلاش اور بہائی فرقے کے مذہبی نمائندوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ آل پاکستان مینارٹیز الائنس کے صوبائی صدر پرنس جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ سرحد اسمبلی نے حسبہ بل کے نام پر جو قانون پاس کیا ہے وہ سراسر اقلیتوں کے حقوق کے خلاف اور انکی شخصی آزادی سے متصادم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت جو کونسلز یا کمیٹیاں بنیں گی اس میں اقلیتوں کو کوئی نمائندگی نہیں دی گئی ہے جس کی وجہ سے ان کی شخصی آزادی متاثر ہونے کے خطرات بڑھیں گے۔ پاکستان میں ہر سال دس دسمبر کو انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاہم پشاور میں اس دن کی نسبت سے کم ہی سرگرمیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ | اسی بارے میں حسبہ قانون ۔ فانے کا پتلا سِرا18 November, 2006 | قلم اور کالم امریکہ کا حسبہ بل11 August, 2005 | قلم اور کالم ’حسبہ قانون، کسی صورت میں نہیں‘13 July, 2005 | پاکستان ’حسبہ بِل لوگوں کےتحفظ کےلیے ہے‘02 August, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||