BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 10 December, 2006, 18:16 GMT 23:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حدود قانون: ملک گیرہڑتال کی کال

جنرل مشرف نے حال ہی میں کہا ہے کہ حقوقِ نسواں قانون کی مخالفت کرنے والے منافق ہیں
پاکستان میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء نے حقوق نسواں قانون کے خلاف پندرہ دسمبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے، جس کی متحدہ مجلس عمل نے بھی حمایت کی ہے۔

کراچی میں اتوار کی شام قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے سامنے مجلسِ تحفظ حدود اللہ کی جانب سے علمائے دین کا اجتماع ہوا، جس میں پورے پاکستان سے علما کے علاوہ ایم ایم اے کی قیادت نے بھی شرکت کی۔

اس احتجاجی جلسے میں کراچی کے مدرسوں میں زیرِ تعلیم طلبہ سمیت ہزاروں مذہبی کارکن شریک تھے جو حکومت اور حقوق نسواں قانون کی منظوری کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔

مظاہرین کو ایم ایم اے کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، مجلس تحفظ حدود اللہ کے رہنما قاری حنیف جالندھری، پروفیسر غفور احمد، محمد اجمل قادری، مفتی زر ولی، عمر صادق اور دیگر نے خطاب کیا۔

کراچی ریلی میں لوگوں نے حقوقِ نسواں بل کے خلاف کتبے اٹھا رکھے اور کئی مقامات پر بینر لٹکائے ہوئے تھے

قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حقوق نسواں بل منظور کرکے پارلیمنٹ کی اکثریت کو قرآن اور سنت کے خلاف استعمال کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر مشرف جمہوریت اور پارلیمان کو استعمال کر رہے ہیں جس سے لگتا ہے کہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور یہ وردی میں ملبوس جمہوریت ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مذہبی جماعتیں حقوق نسواں قانون پر عملدرآمد کی مزاحمت کرینگی اور حکومت کو اس کو واپس لینے پر مجبور کیا جائیگا۔

انہوں نے ایم ایم اے میں اختلاف کی خبروں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ مجلس عمل منظم اور موجودہ حکومت کے خلاف احتجاج پر متفق ہے۔

جنرل مشرف کے دستخطوں کے بعد بل، قانون کا درجہ اختیار کر گیا ہے

مجلس تحفظ حدود اللہ کے رہنما قاری حنیف جالندھری کا کہنا تھا کہ مذہبی جماعتوں پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ وہ سیاسی بنیادوں پر اس قانون کی مخالفت کر رہی ہیں اگر ایسا ہوتا تو بینظیر بھٹو اور امین فہیم حکمرانوں کی جھولی میں جاکر نہ بیٹھتے۔

انہوں نے کہا یہ خالص مذہبی معاملہ ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ بل کی منظوری والے دن حکمران جماعت کے چھالیس ممبران غیر حاضر رہے تھے۔

کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت سے ملاقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ علما کے ایم کیو ایم سے مذاکرات مثبت رہے ہیں۔

جلسے میں علما نے اعلان کیا کہ چودہ دسمبر کو لاہور میں آل پارٹیز کافنرنس منعقد کی جائیگی جس میں مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔

اسی بارے میں
حقوق نسواں کا ایک اور بل
03 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد