BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 December, 2006, 11:13 GMT 16:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بل کے مخالفین منافق ہیں: مشرف

پرویز مشرف
صدر مشرف نے کہا کہ بہت جلد ایک اور بل منظور کیا جائے گا
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے حقوق نسواں بل منظور کرنے والی تمام جماعتوں کے اراکین پارلیمان کو مبارکباد دیتے ہوئے اس بل کی مخالفت کرنے والوں کو منافق قرار دیا ہے۔

منگل کو کنونشن سینٹر میں حکومت کی جانب سے منعقد کردہ خواتین کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حدود اللہ میں ترمیم نہیں کی جاسکتی لیکن حدود آرڈیننس میں ترمیم کی جاسکتی ہے کیونکہ یہ قانون ایک فرد کا بنایا ہوا ہے۔

صدر نے کہا کہ انہوں نے اسلام کے منافی کوئی قانون سازی نہیں کی اور حقوق نسواں بل اسلام کے عین مطابق ہے اور اس کی تائید اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی کردی ہے۔

ان کے مطابق کسی قانون کے اسلام کے منافی یا موافق ہونے کا فیصلہ اسلامی نظریاتی کونسل کرسکتی ہے کوئی فرد نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی حقوق نسواں بل کو خلاف اسلام قرار دے رہے ہیں وہ منافق ہیں۔

صدر نے کہا کہ یہ ان لوگوں میں سے ہی ہیں جنہوں قرآن کی اشاعت کے خلاف فتوے جاری کیے اور قائد اعظم کو کافراعظم قرار دیا۔انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ آئندہ انتخابات میں انتہا پسندوں کو مسترد کردیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کی بیشتر مذہبی جماعتوں کے رہنما اور مختلف مسالک کے بعض علماء حقوق نسواں بل کی چار شقوں کو خلاف اسلام قرار دے رہی ہیں اور اس بارے میں انہوں نے حکمران مسلم لیگ چودھری شجاعت حسین کو گزشتہ اتوار کو تجاویز بھی پیش کی تھیں۔

کنونشن سینٹر میں خواتین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ خواتین کو تمام شعبوں میں آگے آنا چاہیے۔

انہوں نے وزیراعظم شوکت عزیز کی جانب سے خواتین کو سرکاری ملازمتوں میں پچاس فیصد کوٹہ دینے کی تجویز کی حمایت تو کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے خواتین کی اہلیت بڑھانے کے اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ وہ اپنا کام احسن انداز میں سرانجام دے سکیں۔

صدر نے اپنے خطاب میں اعلان کیا کہ ضلعی حکومتوں میں شامل خواتین کونسلرز کو ماہانہ دو ہزار روپے دیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ ملک بھر میں پچاسی ہزار کونسلرز ہیں جس کی دو تہائی خواتین ہیں۔

صدر نے خواتین کے حقوق کے لیے مزید قانون سازی کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ بہت جلد ایک اور بل منظور کیا جائے گا جس میں خواتین کو وراثت کےحقوق دیے جانے کے علاوہ قرآن سے شادی اور ونی کی رسموں پر پابندی عائد کی جائے گی۔

اسی بارے میں
حدود بل: جب چاہے قابو کرلو
15 November, 2006 | پاکستان
بل کے کچھ اہم نکات
15 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد