BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 November, 2006, 16:23 GMT 21:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رکن اسمبلی نے استعفٰی پیش کر دیا

مولوی نور محمد
مولوی نور محمد کے مطابق قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن اور مدارس کے خلاف کارروائی ان کے استعفے کی وجوہات ہیں
بلوچستان میں متحدہ مجلس عمل کے رکن قومی اسمبلی مولوی نور محمد نے آج قومی اسمبلی کی رکنیت سےاپنا استعفی مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد اور جنرل سیکرٹری مولانا فضل الرحمان کو بھجوادیا ہے۔

کوئٹہ کے حلقہ دو سو انسٹھ سے منتخب ہونے والے جمعیت علماء اسلام سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی مولوی نور محمد نے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے شریعت کے نفاذ اور خارجہ پالیسیوں میں تبدیلیوں کے جو وعدے لوگوں سے کیے تھے وہ پورے کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

مولوی نور محمد نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنا استعفی مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد اور جنرل سیکرٹری مولانا فضل الرحمان کو بھجوا دیا ہے تاکہ وہ سپیکر قومی اسمبلی کے پاس بھیج دیں۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ انھوں نے براہ راست اپنا استعفی سپیکر بلوچستان اسمبلی کو کیوں نہیں بھجوایا تو انہوں نے کہا کہ وہ مجلس عمل کے رکن ہیں اور مجلس عمل کی ٹکٹ پر ہی منتخب ہوئے تھے لہذا جماعت کے قائدین کو آگاہ کرنا ضروری ہے ۔

مولوی نور محمد نے یہ بھی کہا کہ قومی اسمبلی اور تمام صوبائی اسمبلیوں کے دیگر اراکین ان کا ساتھ دیں گے اور مجموعی طور پر اپنے استعفے پیش کریں گے۔

مولوی نور محمد نے دیگر وجوہات میں بتایا ہے کہ بلوچستان اور صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن ، دین دار لوگوں اور مدارس کے خلاف کارروائی ان کے استعفے کی وجوہات ہیں جن سے وہ اپنی جماعت کے علاوہ وزیر اعظم اور صدر کو آگاہ کرتے رہے ہیں۔

بلوچستان میں مجلس عمل حکمران جماعت مسلم لیگ کے ساتھ مخلوط حکومت میں شامل ہے اور حکومت کے قیام کے وقت مجلس عمل کے قائدین نے کہا تھا کہ وہ صوبے میں شریعت نافذ کریں گے اور شراب پر پابندی عائد کی جائے گی۔

اس سلسلے میں صوبائی وزیر مولانا عبدالباری کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی لیکن چار سال گزرنے کے باوجور یہ کمیٹی اسمبلی میں بل پیش نہیں کر پائی۔

مولوی نور محمدکے صوبے کے علاوہ مرکز میں بھی اپنی جماعت کے قائدین سے اختلافات رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں مجلس عمل کے صوبائی سربراہ مولانا محمد خان شیرانی کے اس بیان پر کہ ان کی جماعت کے لوگ طالبان کا ساتھ نہ دیں، انہوں نے سخت رویہ اختیار کیا تھا۔

صوبے میں بلوچ قوم پرست جماعتیں بھی مجلس عمل پر یہ الزام عائد کر رہی ہیں کہ بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن کی منظوری میں مجلس عمل کا ہاتھ بھی ہے لیکن مجلس عمل کے قائدین اس کی تردید کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
’مشرف کےخلاف تحریک چلے گی‘
12 November, 2006 | پاکستان
’عدالت میں آواز اٹھاؤں گا‘
12 November, 2006 | پاکستان
راکٹ ہم نے نہیں داغے: طالبان
11 November, 2006 | پاکستان
بلوچستان اسمبلی کے چار سال
11 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد