BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 November, 2006, 17:15 GMT 22:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان اسمبلی کے چار سال

بلوچستان اسمبلی
بلوچستان کے لوگ بجلی، پانی اور گیس کو ترستے ہیں
بلوچستان اسمبلی کا چوتھا پارلیمانی سال ایک روز بعد یعنی سوموار کو مکمل ہو جائے گا۔

اس سلسلے میں اسمبلی کی چار سالہ کارکردگی کی رپورٹ پیش کی گئی جس کے مطابق اس دوران کل چھتیس مسودہ قانون پیش کیے گئے اورر بتیس منظور ہوئے۔ حزب اختلاف کے اراکین کا کہنا ہے کہ اسمبلی کی منظور شدہ اکثر قرار دادوں پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

سپیکر بلوچستان اسمبلی جمال شاہ کاکڑ نے کہا ہے کہ قانون سازی کے حوالے سے ملک کی دیگر اسمبلیوں کی طرح بلوچستان اسمبلی غیر سرکاری ارکان کی کارروائی میں مصروف رہی۔

سپیکر نے یہ بھی کہا کہ ان چار سالوں میں چھتیس مسودات قانون پیش کیے گئے جن میں سے بتیس منظور ہوئے اور چار مختلف کمیٹیوں کے پاس ہیں۔ اٹھاون سرکاری اور دو سو تین غیر سرکاری قرار دادیں پیش ہوئیں، چودہ سو پانچ سوالات کیے گئے، ایک سو دو تحاریق استحقاق اور دو سو تیئس تحاریک التوا نمٹائی گئیں۔ مختلف موضوعات پر کل نو رپورٹس ایوان میں پیش کی گئیں۔

پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے اراکین سردار اعظم موسی خیل اور رحیم زیارتوال جبکہ نیشنل پارٹی کے کچکول علی ایڈووکیٹ اور جان محمد بلیدی نے سب سے زیادہ قراردادیں تحاریک اور سوال پیش کیے ہیں۔

حزب اختلاف کے اراکین نے اپنی تقریروں میں کہا ہے کہ ان کی اکثر قرار دادوں پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔ عبدالرحیم زیارتوال نے کہا ہے کہ کوئلے کی کان کنی سے لے کر صوبے میں سیاحت اور ماہی گیری سے لے کر لوگوں کو بجلی پانی اور گیس کی فراہمی کے علاوہ ڈیموں کی تعمیر اور آبپاشی کی مسائل تک کئی قراردادیں پیش کی گئیں لیکن ان کی سنوائی نہیں ہوئی۔

نیشنل پارٹی کی خاتون رکن ڈاکٹر شمع اسحاق نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ ان چار سالوں میں وہ لوگوں کے مسائل حل نہیں کر پائے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف تین سرداروں کا گلہ کرتے ہیں تو خاران آواران مکران ڈویژن کے علاوہ کئی دیگر علاقوں میں ترقیاتی منصوبے کیوں شروع نہیں کیے گئے۔ ان علاقوں میں لوگ بجلی پانی گیس اور دیگر سہولتوں کو ترس رہے ہیں لیکن حکومت کو کیا صرف گوادر ہی نظر آتا ہے۔

بلوچستان اسمبلی
 کوئلے کی کان کنی سے لے کر صوبے میں سیاحت اور ماہی گیری سے لے کر لوگوں کو بجلی پانی اور گیس کی فراہمی کے علاوہ ڈیموں کی تعمیر اور آبپاشی کی مسائل تک کئی قراردادیں پیش کی گئیں لیکن ان کی سنوائی نہیں ہوئی۔
عبدالرحیم زیارتوال

نیشنل پارٹی کے ہی رکن اسمبلی رحمت بلوچ نے بلوچستان میں فوجی کارروائی اور نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت پر سخت تنقید کی تو ان کا مائک بند کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے حکومت کی حمایت کی لیکن ان کی سلطنت کوبے دردی سے تباہ کر دیا گیا۔

رحمت بلوچ نے کہا کہ ایوان میں مذہبی رواداری کی بات کی گئی لیکن یہاں مذہبی جماعت کے قائدین نے ایک پیٹی میں بند لاش پر جو نجانے کس کی تھی، آواز نہیں اٹھائی۔ انھوں نے کہا کہ یہ سیاہ ترین دور تھا جب بلوچستان میں فوجی آپریشن بے دردی سے شروع کیا گیا۔

وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف نے اپنی تقریر میں وفاقی حکومت کی پالیسیوں کی تعریف کی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ بلوچستان اب تک مالی مشکلات کا شکار ہے۔

جام محمد یوسف نے کوئی آدھا گھنٹے سے زیادہ تقریر کی جس میں انھوں نے اسمبلی میں رواداری، قومی تنصیبات پر حملے اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کے بارے میں باتیں کیں۔ انھوں نے مالی مشکلات کاذکر کرتے ہوئے کہا کہ اور صوبوں کے پاس اتنی رقم ہوتی ہے کہ وہ اربوں روپے کے منصوبے شروع کر سکتے ہیں لیکن یہاں بلوچستان میں وسائل کے بغیر لوگوں کے مسائل حل کرنا بہت مشکل ہے۔

بلوچستان اسمبلی میں ایک قرار داد صوبے میں تین نئی چھاونیوں کے قیام کے خلاف متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی لیکن اس کے باوجود وفاقی حکومت سوئی، کوہلو اور گوادر میں نئی چھاونیاں قائم کر رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد