BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نوشہرہ: صوبائی وزیر کی گرفتاری

عنایت اللہ خان
صوبائی وزیر عنایت اللہ خان کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے
صوبہ سرحد کے ضلع نوشہرہ میں ایک مقامی عدالت نے حکمران جماعت متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر عنایت اللہ خان اور ان کے بھائی کو قتل کے ایک مقدمے میں گرفتار کرلیا ہے۔

نوشہرہ کے ضلعی پولیس افسر محمد طاہر نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبائی وزیر صحت عنایت اللہ خان اور ان کے بھائی انور خان نے چند دن پہلے ان کے خلاف درج قتل کے ایک مقدمے میں ایڈیشنل سیشن جج نوشہرہ اشفاق خان کی عدالت میں عبوری ضمانت کےلیے درخواست دائر کی تھی۔ بدھ کو عدالت نے دونوں جانب کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ضمانت کی درخواست مسترد کردی اور اس طرح صوبائی وزیر اور ان کو بھائی کو کمرہ عدالت میں گرفتار کر لیا گیا۔

بعد میں عدالت کے حکم پر دونوں ملزمان کو کرائمز برانچ پشاور کے حوالے کردیا گیا۔

پولیس کے مطابق ایک ماہ قبل جی ٹی روڈ نوشہرہ پر سوشل سیکیورٹی افسر جہانزیب خان کو نامعلوم آفراد نے گولیاں ما کر ہلاک کردیا تھا۔ اس کے بعد مقتول کے بیٹے حیات اللہ نے اپنے والد کے قتل کا الزام صوبائی وزیر صحت عنایت اللہ خان اور ان کے بھائی انورخان پر لگایا اور ان کے خلاف پولیس میں رپورٹ درج کروائی ۔

پولیس رپورٹ کے مطابق دونوں فریقوں کے مابین کافی عرصے سے جائیداد کا تنازعہ چلا آرہا ہے۔

واضح رہے کہ صوبائی وزیر صحت عنایت اللہ خان کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد