نوشہرہ: صوبائی وزیر کی گرفتاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع نوشہرہ میں ایک مقامی عدالت نے حکمران جماعت متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر عنایت اللہ خان اور ان کے بھائی کو قتل کے ایک مقدمے میں گرفتار کرلیا ہے۔ نوشہرہ کے ضلعی پولیس افسر محمد طاہر نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبائی وزیر صحت عنایت اللہ خان اور ان کے بھائی انور خان نے چند دن پہلے ان کے خلاف درج قتل کے ایک مقدمے میں ایڈیشنل سیشن جج نوشہرہ اشفاق خان کی عدالت میں عبوری ضمانت کےلیے درخواست دائر کی تھی۔ بدھ کو عدالت نے دونوں جانب کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ضمانت کی درخواست مسترد کردی اور اس طرح صوبائی وزیر اور ان کو بھائی کو کمرہ عدالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ بعد میں عدالت کے حکم پر دونوں ملزمان کو کرائمز برانچ پشاور کے حوالے کردیا گیا۔ پولیس کے مطابق ایک ماہ قبل جی ٹی روڈ نوشہرہ پر سوشل سیکیورٹی افسر جہانزیب خان کو نامعلوم آفراد نے گولیاں ما کر ہلاک کردیا تھا۔ اس کے بعد مقتول کے بیٹے حیات اللہ نے اپنے والد کے قتل کا الزام صوبائی وزیر صحت عنایت اللہ خان اور ان کے بھائی انورخان پر لگایا اور ان کے خلاف پولیس میں رپورٹ درج کروائی ۔ پولیس رپورٹ کے مطابق دونوں فریقوں کے مابین کافی عرصے سے جائیداد کا تنازعہ چلا آرہا ہے۔ واضح رہے کہ صوبائی وزیر صحت عنایت اللہ خان کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے۔ | اسی بارے میں ایس پی سمیت 5 افسران گرفتار 09 August, 2006 | پاکستان لشکر جہنگوی، صوبائی امیرگرفتار21 June, 2006 | پاکستان دفاعی اخراجات کم کریں:صوبائی وزیر11 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||