BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 June, 2006, 19:26 GMT 00:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لشکر جہنگوی، صوبائی امیرگرفتار

عثمان کرد
عثمان کرد بے شمار مقدمات میں مطلوب ہے
کراچی پولیس نے فرقہ وارانہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث مشتبہ ملزم کالعدم تنظیم لشکر جہنگوی بلوچستان کے امیر عثمان کرد عرف سیف اللہ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سی آئی ڈی پولیس کے مطابق عثمان کرد عرف سیف اللہ کو کراچی کے علاقے ماڑی پور سے وفاقی ادارے کی مدد سے مقابلے کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم سے ایک دستی بم، ایک پسٹل بر آمد ہوا ہے، ملزم کا تعلق لشکر جہنگوی کے داؤد بادینی سے ہے جسے گزشتہ سال کراچی میں ہی سے گرفتار کیا گیا تھا۔

سی آئی ڈی پولیس کے ایک اعلامیے کے مطابق عثمان کرد عرف سیف اللہ بلوچستان میں مجموعی طور پر ڈیڑھ سو بے گناہ لوگوں کے قتل میں ملوث ہے اور اس پر پچاس سے زائد مقدمات درج ہیں۔

پولیس کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق عثمان کرد عرف سیف اللہ کوئٹہ میں دس محرم کے ماتمی جلوس پر فائرنگ، امام بارگاہ پر حملے اور زیر تربیت پولیس اہلکاروں کی بس پر حملوں میں ملوث ہے۔ ان حملوں میں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔

عثمان کرد عرف سیف اللہ پر تعلیمی ماہر اور پروفیسر سید عابد نقوی، انتظار حسین شاہ، ارشد حسین نقوی کے قتل کے مقدمات بھی درج ہیں۔

سی آئی ڈی پولیس کا کہنا ہے کہ بلوچستان حکومت نے ملزم کی گرفتاری پر بیس لاکھ رپے انعام رکھا تھا۔

سندھ کے صوبائی وزیر داخلہ اچھی کارکردگی پر عثمان کرد عرف سیف اللہ کو گرفتار کرنے والی پولیس پارٹی کے لیئے پانچ لاکھ رپے انعام کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد