BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 October, 2006, 15:30 GMT 20:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزراء کی گاڑیوں پر 5 کروڑ روپے خرچ

پنجاب اسمبلی
صوبائی حکومت نے پنجاب اسمبلی کو بتایا ہے کہ دو برسوں میں صوبائی وزرا کے لیے حکومت نے چالیس نئی گاڑیاں خریدی ہیں
صوبائی حکومت نے پنجاب اسمبلی کو بتایا ہے کہ دو برسوں میں صوبائی وزراء کے لیے حکومت نے تقریباً پانچ کروڑ روپے کی مالیت سے چالیس نئی گاڑیاں خریدی ہیں۔

بدھ کو ایوان میں سوالات کے جوابات دیتے ہوئے صوبائی وزیر خوراک چودھری اقبال نے کہا کہ وزراء کے لیے یہ گاڑیاں سنہ دو ہزار تین سے دو ہزار پانچ تک خریدی گئیں۔

انہوں نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ حکومت نے اسی عرصہ میں صوبائی سیکرٹریوں کے لیے تقریباً چونتیس لاکھ مالیت سے چار تیرہ سو سی سی گاڑیاں بھی خریدی ہیں۔

 ایک رکن کے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر خوراک نے بتایا کہ سنہ دو ہزار تین اور چار میں میں صوبائی سیکریٹریٹ کے محکمہ سروسز اور جنرل ایڈمنسٹریشن نے دو سو پینتالیس مختلف برانڈ کی کاریں خریدیں

انہوں نے کہا کہ جن وزراء کی گاڑیاں ایک لاکھ ساٹھ ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کرچکی تھیں وزیراعلی نے انہیں تبدیل کرنے کی اجازت دی ہے۔

اس موقع پر حزب اختلاف مسلم لیگ(ن) کے رکن صوبائی اسمبلی رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزرا ان گاڑیوں میں اضلاع میں تو کم ہی جاتے ہیں اور لاہور کی مال روڈ پر ہی پھرتے رہتے ہیں جس پر اتنے پیسے خرچ کردیے گئے۔

ایک رکن کے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر خوراک نے بتایا کہ سنہ دو ہزار تین اور چار میں میں صوبائی سیکریٹریٹ کے محکمہ سروسز اور جنرل ایڈمنسٹریشن نے دو سو پینتالیس مختلف برانڈ کی کاریں خریدیں۔

انہوں نے کہا کہ اس محکمہ نے سنہ دو ہزار تین میں گاڑیوں کے پیٹرول اور مرمت کی مد میں تقریباً پونے تین کروڑ روپے خرچ کیے اور دو ہزار چار میں ان مدوں میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ روپے خرچ کیے۔

محکمہ سروسز اور جنرل ایڈمنسٹریشن لاہور میں وزراء اور صوبائی سطح کے اعلی افسروں کے معاملات سے متعلق ہے اور اس کے گاڑیوں پر کیے گئے اخراجات صرف دارالحکومت کے اعلی حکام کی کاروں کے اخراجات کو ظاہر کرتے ہیں۔ وزیراعلی کے اخراجات ان میں شامل نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد