لاپتہ افراد: اسمبلی میں احتجاج، بحث | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے پارلیمان کے سامنے مظاہرے کے بعد حزب مخالف کے اراکین نے اس موضوع پر قومی اسمبلی میں شدید احتجاج کیا جس پر حکومت نے حقائق سامنے لانے کے لیئے تین روز کی مہلت طلب کی ہے۔ ایک متاثرہ خاندان کی خاتون ایوان کے اندر پہنچ گئیں جبکہ بعض افراد کو حزب مخالف کے اراکین نے گیلریوں میں بٹھادیا جہاں ان کے بچے روتے رہے۔ ایسی صورتحال میں سیکورٹی اہلکاروں نے ایوان کے اندر اراکین کے پاس پہنچنے والی خاتون کو باہر نکال دیا۔ اس پر جب بعض اراکین نے احتجاج کیا تو سپیکر نے انہیں کہا کہ ایوان کے تقدس کا معاملہ ہے اور جو کچھ سیکورٹی اہلکاروں نے کیا وہ ٹھیک ہے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ اس وقت ایوان میں پانچ لاپتہ افراد کے اہل خانہ موجود ہیں لیکن ان کے مطابق پاکستان میں ہزاروں افراد کو غائب کیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکی احکامات پر پاکستان کی ایجنسیوں نے ان افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں رکن قومی اسمبلی شاہ عبدالعزیز کے چھوٹے بھائی بھی شامل ہیں اور انہیں زبان بند رکھنے کی دھمکی ملی ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ غائب کردہ افراد کے معصوم بچے اور خواتین رو رہی ہیں کہ ان کے پیاروں کو کئی ماہ سے گرفتار کیا گیا ہے اور انہیں ان سے ملنے بھی نہیں دیا جارہا۔ ان کے مطابق یہ عمل پوری قوم کے لیئے شرمناک ہے اور حکومت بتائے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے۔ مہرین انور راجہ نے کہا کہ غائب کردہ افراد میں کمپیوٹر انجنیئر اور کاروباری لوگ شامل ہیں اور انہیں کسی عدالت کے سامنے پیش نہ کرنا خلاف قانون ہے۔ راجہ نادر پرویز نے کہا کہ ایک ریٹائرڈ صوبیدار عبدالباسط گجر دو برس سے لاپتہ ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے جنگیں لڑیں لیکن آج ان کے ساتھ انتہائی برا سلوک ہورہا ہے اور ایجنسیوں والے انہیں اٹھا کر لے گئے ہیں۔ اس پر وزیر مملکت برائے داخلہ ظفر اقبال وڑائچ نے کہا کہ وہ متاثرہ افراد کے اہل خانہ سے ملے ہیں اور تین روز کی مہلت لی ہے تاکہ گرفتار شدگاں کے بارے میں حقائق معلوم کیے جاسکیں۔ اس بارے میں احتجاج جاری تھا کہ سپیکر نے نماز کا وقت ہونے کا سبب بتاتے ہوئے اجلاس کی کارروائی جمعہ کی صبح تک ملتوی کردی۔ اجلاس کی کارروائی ملتوی ہونے کے بعد لابی میں مسز مسعود احمد جنجوعہ نے بتایا کہ ان کے شوہر راولپنڈی کے ایک کالج کے پرنسپل ہیں اور وہ گزشتہ برس تیس جولائی سے لاپتہ ہیں۔ ان کے مطابق مسعود احمد تبلیغی جماعت کے ساتھ جاتے ہوئے پکڑے گئے۔ لاہور سے آئی ہوئی زینت خاتون نے بتایا کہ ان کے بیٹے فیصل فراز جو کہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں مکینیکل انجنیئر ہیں انہیں بھی گزشتہ برس تیس جولائی کو راولپنڈی سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک دوست سے ملنے آئے تھے۔ عتیق الرحمٰن کی والدہ نے بتایا کہ ان کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے اور ان کے اکلوتے بیٹے کو پچیس جولائی سن دو ہزار چار کو اس وقت اٹھایا گیا جب ان کی شادی کی تقریب ہورہی تھی۔ ان کے مطابق وہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سائنسدان ہیں۔ واضح رہے کہ جوہری کمیشن کے ترجمان پہلے کہہ چکے ہیں کہ ان کی گرفتاری ایک نجی معاملہ ہے کیونکہ وہ چھٹی کے دوران پکڑے گئے۔ تاہم ان کے مطابق کمیشن نے عتیق الرحمٰن کے خلاف کوئی شکایت نہیں کی۔ مسز مسعود احمد ان لاپتہ پانچ افراد کے اہل خانہ کی رابطہ کار ہیں اور انہوں نے بتایا کہ کراچی سے تعلق رکھنے والے سوفٹ ویئر انجنیئر ماجد خان کو پانچ مارچ سن دو ہزار تین اور پشاور کے محمد منصور کو گزشتہ برس بارہ فروری سے خفیہ ایجنسیاں اٹھا کر لے گئی ہیں اور تاحال ان کا پتہ نہیں۔ صوبہ بلوچستان اور سندھ کی بعض قوم پرست تنظیموں سے منسلک ڈاکٹر صفدر سرکی، مظفر بھٹو، منیر مینگل اور دیگر کئی افراد بھی غائب ہیں اور ان کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ نہیں خفیہ ایجنسیوں کی حراست میں ہیں۔ لاپتہ افراد کے بارے میں جب بی بی سی نے ایک خصوصی پروگرام نشر کیا تھا تو اس وقت بعض غائب کیے جانے والے سیاسی کارکنوں کے اہل خانہ سے ملاقات میں وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے کہا تھا کہ وہ معلومات حاصل کر کے انہیں بتائیں گے لیکن تاحال اس بارے میں کوئی بات سامنے نہیں آئی۔ |
اسی بارے میں لاپتہ پاکستانیوں پر خصوصی پروگرام03 July, 2006 | پاکستان صحافی کی گمشدگی: تشویش 12 July, 2006 | پاکستان ’لاپتہ‘ قوم پرستوں کےلیے احتجاج21 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||