BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 November, 2006, 15:39 GMT 20:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشرف کےخلاف تحریک چلے گی‘

عمران خان
مشرف مخالف تحریک کا آغاز سنیچر سے ساہیوال سےشروع ہو گا: عمران خان
تحریک پاکستان کے چیئرمین عمران خان نے صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف آئندہ سنیچر سے ایک ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے جس کا آغاز پاکستانی پنجاب کے شہر ساہیوال میں ایک احتجاجی جلسہ عام سے کیا جائے گا۔

اس بات اعلان انہوں نے اتوار کو لاہور میں تحریک پاکستان کے صوبائی دفتر میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ’ عوام اس تحریک کے لیے تیار ہے اور اس بات سے مایوس ہورہی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت مخالف تحریک نہیں چلا رہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کسی صورت اقتدار چھوڑنا نہیں چاہتے اس لیے ان کی جماعت نے پورے ملک میں مسلسل اس وقت تک تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے جب تک مشرف حکومت سے رخصت نہیں ہوجاتے۔

تحریک انصاف کی حکومت مخالف تحریک اٹھارہ نومبر سے شروع ہوجائے گی۔

عمران خان اپنی تحریک کے حوالے سے ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں اجتماعات کریں گے اور سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔

عمران خان نے امید ظاہر کی کہ اپوزیشن جماعتیں ایک نکتہ پر متفق ہوجائیں گی اور صدر مشرف مخالف تحریک میں شامل ہونگی تاہم انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہ بھی ہوا تو کم از کم ان کی جماعت ہر صورت عوام میں رہے گی۔

تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ’ جس دن بھی اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتیں حکومت کے خلاف یک نکاتی ایجنڈے پر متحد ہوگئیں جنرل پرویز مشرف کا اقتدار اسی دن ختم ہوجائے گا‘۔

عمران خان نے باجوڑ میں تراسی افراد کی ہلاکت کا ذمہ دار صدر مشرف کو قرار دیا اور کہا کہ اس بات کا اعتراف جنرل مشرف خود بھی کرچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ باجوڑ میں ہلاک ہونے والوں کے قتل کی ایف آئی آر جنرل پرویز مشرف کے خلاف درج کرائی جائے گی۔

عمران خان کے کہا کہ باجوڑ میں اپنے شہری اور درگئی میں اپنے ہی فوجی اس لیے ہلاک ہو رہے ہیں کہ صرف ایک ایسے شخص کو اقتدار میں رکھا جائے جو امریکہ کی خدمت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ امریکہ کو خوش کرنے کے لیے اپنے کی ملک کے بےگناہ شہریوں کو دہشت گرد قرار دیکر ہلاک کرنا شروع کردیں۔

عمران خان نے صدر مشرف کی پالیسیوں کو غیر ذمہ دارانہ اور مفاد پرستانہ قرار دیا اور کہا کہ اس کے باعث ملک میں شدید اضطراب اور بے چینی ہے ،مہنگائی اور لاقانونیت کا دور دورہ ہے اور ملک کی نظریاتی شخص اور قومی سلامتی کو ان کے بقول خطرہ ہے۔

تحریک انصاف کےصوبائی سیکرٹری اطلاعات نے بتایا کہ احتجاجی اجتماعات کے لیے حکومت سے اجازت نہیں لی جائے گی اور اگر حکومت ان پرامن اجتماعات کو روکنے کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کیا تواس کا سامنا کیا جائے گا۔

تحریک انصاف نے اپنی سلسلہ وار احتجاجی مہم کا آغاز ایک ایسے مرحلے پر کیا ہے جب اپوزیشن کے دوبڑے اتحاد اے آر ڈی اور متحدہ مجلس عمل کے بعض مرکزی قائدین پہلے ہی حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کے اشارے دے چکے ہیں۔

تاہم تحریک انصاف اپوزیشن کی یہ پہلی سیاسی تنظیم ہے جس نے تحریک کے آغاز کے لیے ایک واضح تاریخ کا باقاعدہ اعلان کیاہے۔

اپوزیشن کی دیگر جماعتوں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز جماعت اسلامی اور جے یوآئی کے مقابلے میں تحریک انصاف ایک نئی سیاسی تنظیم ہے اور جس کا تنظیمی ڈھانچہ بھی محدود ہے۔

تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان اپنی حکومت مخالف تحریک میں دیگر جماعتوں کو بھی شامل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یہ معاملہ حکومت کے لیے پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔

اسی بارے میں
ایک اور کل جماعتی کانفرنس
20 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد