BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 September, 2005, 23:33 GMT 04:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک اور کل جماعتی کانفرنس

تحریک انصاف کی جانب سے منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں ملک کی اہم سیاسی جماعتوں نے شرکت کی۔
پاکستان کی حکومت مخالف جماعتوں نے ایک مرتبہ پھر مشترکہ جدوجہد پر زور دیا ہے اور جنرل مشرف اور ان کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

کراچی میں منگل کی شب تحریک انصاف کی جانب سے منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں ملک کی اہم سیاسی اور سندھ کے قومپرست رہنماؤں نے شرکت کی۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کانفرنس کو بتایاکہ بلدیاتی انتخابات سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ جنرل مشرف اقتدار سے الگ ہونا نہیں چاہتے، اس لئے وہ ملک میں کنگز پارٹی کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے سیاسی جماعتوں پر تنقید کی اور کہا کہ سیاسی جماعتیں صرف یوں ہی کانفرنس منعقد کرتی رہیں تو ملک میں جمہوریت آنا ناممکن ہے۔عمران خان نے کہا سیاستدانوں کو ایک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہونا پڑیگا اور جمہوریت کی بحالی کے لئے مشترکہ جدوجہد کرنا پڑیگی۔

عوامی تحریک کے رہنما رسول بخش پلیجو کا کہنا تھا کہ فوج نے ملک کی قومی اداروں کو تباہ کردیا ہے۔ کچھ سیاستدانوں نے فوج سے مل کر ملک کو تباہ کرنےکی سازش تیار کی ہے، جس پر عمل جاری ہے۔

پلیجو نے کہا کہ جنرل ایوب نے سیاستدانوں کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کئے مگر ان پر کسی نے مقدمہ درج نہیں کیا جاوید ہاشمی نے جب فوج کے خلاف بات کی تو اس کو جیل میں ڈالا گیا۔

مسلم لیگ نواز گروپ کے رہنما ممنون حسین کا کہنا تھا کہ عوام جب چاہینگے نواز شریف اور بینظیر یہاں ہونگے ان کو کوئی نہیں روک سکتا۔ ان کے مطابق فوج نہیں آئین کی پامالی کی ہے۔

متحدہ مجلس عمل کے رہنما رکن قومی اسمبلی اسد للہ بھٹو کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف امریکہ کی فرمائش پر خارجہ پالیسی تبدیل کر رہے ہیں اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کررہے ہیں۔ مولانا اسد کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو عملی جدوجھد کرنی چاہیے۔

پا کستان پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری نفیس صدیقی کا کہنا تھا کہ جب تک سیاسی جماعتیں اپنی سیاسی طاقت کا اندازہ نہیں لگائیں گی آگے بڑھنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے اپنی طاقت کا اندازہ لگانا چاہیئے اور مشترکہ جدو جہد کرنا چاہیئے۔

واضح رہے کہ کراچی میں تین ماہ کے دوران حکومت مخالف جماعتوں کی یہ چوتھی کل جماعتی کانفرنس تھی۔ اس سے قبل جماعت اسلامی دو مرتبہ، سنی تحریک اور پاکستان پیپلز پارٹی ایک ایک بار اے پی سی منقعد کرچکی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد