BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 September, 2005, 10:20 GMT 15:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فیملی پلاننگ مہم، علماء کی شرکت

مولانا
پیش اماموں کو بارہ سو روپے ماہانہ اعزازیہ بھی ملے گا
پاکستان حکومت نے ملک بھر میں خاندانی منصوبہ بندی کی تبلیغ کے لیے تمام مکاتب فکر کے تیرہ ہزار پیش اماموں کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بات بہبود آبادی کے وزیر چودھری شہباز حسین نے پیر کے روز پریس کانفرنس کے دوران بتائی اور کہا کہ آبادی میں اضافے کی شرح کو مزید کم کرنے کے لیے علماء بہت موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ چند سال قبل تک آبادی میں اضافے کو روکنے کے لیے مانع حمل اقدامات کو بیشتر علماء غیر اسلامی قرار دیتے رہے ہیں لیکن اب وزیر کا دعویٰ ہے کہ علماء میں خاصا شعور پیدا ہوگیا ہے اور وہ اس ضمن میں حکومتی اقدامات کی حمایت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافے کو روکنے کے لیے ان کے محکمے نے ٹیلی ویژن، ریڈیو اور اخبارت میں اشتہاری مہم بھی چلائی لیکن علماء کی تبلیغ کا طریقہ اس سے زیادہ موثر ہے۔

وزیر نے کہا کہ ملک بھر سے تعلق رکھنے والے تین سو کے قریب ’ماسٹر ٹرینرز‘ کو تربیت دینے کا مرحلہ شروع ہوگیا ہے اور اس سلسلے میں پہلے گروپ کی تربیت اتوار اٹھارہ اگست کو مکمل کی گئی ہے۔

پہلے مرحلے میں ہر صوبے سے تیس ’ماسٹر ٹرینرز‘ کو اسلام آباد بلایا گیا تھا اور اب وہ اپنے علاقوں میں جا کر مساجد کے پیش اماموں کو تربیت دیں گے۔

حکام کے مطابق جو بھی پیش امام حکومت کے پاس اس مقصد کے لیے اپنا اندراج کرائے گا انہیں بارہ سو روپے ماہانہ اعزازیہ بھی ملے گا۔

چودھری شہباز نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے چاروں صوبوں کے محکمہ اوقاف اور مختلف مکاتب فکر کے علماء سے اس پروگرام کے تحت اندراج کرانے کے لیے رابطہ بھی کیا ہے اور جلد تبلیغ کا عمل شروع ہوجائے گا۔

خاندانی منصوبہ بندی کے اقدامات پر عمل کی شرح صوبہ پنجاب میں چھتیس فیصد سے زیادہ ہے جبکہ یہی شرح صوبہ سندھ میں چونتیس فیصد، صوبہ سرحد میں اکتیس اور بلوچستان میں اکیس فیصد پائی جاتی ہے۔

ایک سوال پر وزیر نے کہا کہ حکومت کی اشتہاری مہم، مہنگائی اور غربت کی وجہ سے عام لوگوں میں آبادی کم کرنے کا شعور بڑھا ہے اور لوگ اب رضاکارانہ طور پر خاندانی منصوبہ بندی کے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی اور کالج کی سطح پر اساتذہ سے بھی رابطہ کیا جارہا ہے کہ وہ عملی زندگی میں قدم رکھنے والے طلباء کو ’سیکس‘ کے بارے میں تعلیم دیں اور آبادی کم کرنے کے بارے میں بتائیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سکول کی سطح پر بعد میں مرحلے وار ایسا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔

اس موقع پر موجود بہبود آبادی کے سکریٹری شہزاد شیخ نے ایک سوال پر بتایا کہ پاکستان میں مجموعی طور پرخاندانی منصوبہ بندی کے اقدامات کی شرح چھتیس فیصد ہوچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’ کنڈومز‘، اور گولیوں وغیرہ جیسے عارضی اقدامات کی نسبت لوگ مستقل اقدامات یعنی سرجری جیسے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

ایک سوال پر سیکریٹری نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی کے اقدامات پر عمل کی شرح صوبہ پنجاب میں چھتیس فیصد سے زیادہ ہے جبکہ یہی شرح صوبہ سندھ میں چونتیس فیصد ہے۔ ان کے مطابق یہ شرح صوبہ سرحد میں اکتیس اور بلوچستان میں اکیس فیصد پائی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی کے اقدامات کی شرح میں بہتری کے باوجود ملک میں آبادی کی شرح میں اضافے کی شرح ایک عشاریہ نو فیصد ہے جو مزید کم کرنی ہے۔ ان کے مطابق ملک کی آبادی اب پندرہ کروڑ ساڑھے چونتیس لاکھ ہوچکی ہے۔

وزیر نے پریس کانفرنس تو اکیس سے بائیس ستمبر تک اسلام آْباد میں منعقد ہونے والی ’پاپولیشن سمٹ‘ کی تفصیلات بتانے کے لیے بلائی تھی ۔ لیکن ان سے زیادہ تر سوالات آبادی کو روکنے کے لیے حکومتی اقدامات کے متعلق ہوئے۔

اس مجوزہ کانفرنس میں امریکہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک اور امدادی اداروں کے ایک درجن سے زیادہ غیر ملکی نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان حکومت نے کچھ عرصہ قبل اسلامی ممالک سے مختلف مکاتب فکر کے بیسیوں علماء کو ایک عالمی کانفرنس میں بلایا تھا جس میں آبادی کو روکنے کے اقدامات کو اسلام کے منافی نہ ہونے کے متعلق فتویٰ جاری کرنا تھا۔ لیکن اس کانفرنس کے اعلامیہ میں واضح طور پر تو ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی لیکن اس کی مخالفت بھی نہیں کی گئی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد