BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 December, 2004, 11:50 GMT 16:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کنڈومز کے استعمال کا رجحان

آبادی میں اضافے کی شرح میں بھی کمی آئی ہے۔
آبادی میں اضافے کی شرح میں بھی کمی آئی ہے۔
حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک بھر میں مانع حمل اقدامات کے سلسلے میں
’ کنڈومز‘ کے استعمال میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے جس سے آبادی میں اضافے کی شرح کم ہوکر 1.9 فیصد ہوگئی ہے۔

تیس جون دو ہزار چار کو ختم ہونے والے مالی سال کے متعلق وزارت بہبود آبادی کی جانب سے حال ہی میں شائع کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال ایک اندازے کے مطابق ملک کی کل آبادی پندرہ کروڑ گیارہ لاکھ ہوگئی ہے۔

آبادی میں اضافے کو روکنے کے لیے کچھ برس پہلے تک مانع حمل کے اقدامات کو مذہبی گروپوں نے غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے مہم بھی چلائی تھی۔ لیکن حکومت کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگ رضاکارانہ طور پر مانع حمل کے اقدامات کر رہے ہیں اور مخالفت کی شدت میں بھی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

مانع حمل اقدامات کے بارے میں کہا گیا ہے کہ مالی سال دو ہزار دو اور دو ہزار تین کے مقابلے میں دو ہزار تین اور دو ہزار چار کے دوران ملک بھر میں ’کنڈومز، کے استعمال میں 2.66، فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جبکہ حمل روکنے کی گولیوں کے استعمال میں اس مدت کے دوران انیس فیصد اضافہ ہوا۔

News image
کنڈومز کا استعمال مانع حمل طریقوں میں سب سے مقبول ہے۔

رپورٹ کے مطابق مانع حمل کی انجیکشن یعنی سوئی کے استعال میں کمی ریکارڈ کی گئی البتہ مانع حمل آپریشن میں دس فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

حکومت کی کتابی صورت میں شائع کردہ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تیس جون کو ختم ہونے والے سال کے دوران مجموعی طور پر اڑہائی کروڑ چونتیس لاکھ کنڈومز استعمال ہوئے۔ جس میں سب سے زیادہ یعنی ایک کروڑ بیالیس لاکھ ’کنڈومز، صوبہ پنجاب میں استعمال کیے گئے۔

صوبہ سرحد جہاں کچھ برس پہلے مانع حمل اقدامات کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے بعض مذہبی گروپوں نے مخالفت میں مہم بھی چلائی تھی، اس صوبے میں حکومت کے مطابق بتیس لاکھ ’کنڈومز، استعمال ہوئے۔

حکومتی اعداد وشمار کے مطابق صوبہ سرحد میں مانع حمل گولیوں کے استعمال میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

حکومت کے مطابق صوبہ سندھ میں ’کنڈومز، کے استعمال کی تعداد اکسٹھ لاکھ بتائی گئی ہے جبکہ گولیوں کے استعمال میں اس صوبے میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹ میں صوبہ بلوچستان مانع حمل کے اقدامات پر عمل درآمد میں خاصی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس صوبے میں صرف ایک لاکھ ستاسی ہزار’ کنڈومز، استعمال ہوئے۔ صوبہ بلوچستان میں مانع حمل کے سلسلے میں عمل درآمد میں حکومت کو تاحال کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوئی

رپورٹ کے مطابق سن سینتالیس میں ملک کے قیام کے وقت کل آبادی سوا تین کروڑ تھی۔ آبادی میں اضافے کی سب سے زیادہ شرح سن اکاسی میں ریکارڈ کی گئی جو تین فیصد سے بھی زیادہ تھی۔

پاکستان حکومت نے اقوام متحدہ کے بہبود آبادی کے ادارے سمیت مختلف ممالک اور عالمی امدادی اداروں کی مدد سے ملک میں آبادی پر اضافے کو روکنے کے لیے مہم شروع کی اور رواں سال بتدریج شرح میں کمی کے احداف حاصل کرتے ہوئے 1.9 تک پہنچے ہیں۔

حکومت آبادی میں اضافے کی موجودہ شرح کو بھی کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے تاکہ ان کے مطابق وسائل پر بوجھ کم ہوسکے اور غربت میں اضافہ بھی روکا جاسکے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد