کم بچے، زیادہ مراعات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کی حکومت جلد ہی ان والدین کے لئے ایک مراعتی پیکج کا اعلان کرنے والی ہے جو دو بچوں تک محدود رہنے پر تیار ہیں۔ سندھ کے بہبود آبادی کے وزیر بخش شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبے میں آبادی پر قابو پانے کی مہم کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا جس کے باعث والدین کو دو بچوں تک محدود رکھنے کے لئے ایک نیا طریقہ اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس سلسلے میں ان والدین کو، جو رورل ہیلتھ سنٹرز سے بچے نہ پیدا کرنے کا آپریشن کروائیں گے،ان کے بچوں کو گریجویشن تک سرکاری تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم فراہم کی جائے گی۔ اس کےعلاوہ پورے گھرانے کو مفت طبی سہولیات دی جائیں گی، جس میں آپریشن اور ادویات بھی شامل ہیں۔ سندھ کابینہ اپنے آئندہ اجلاس میں اس پیکج کی منظوری دے گی۔ یہ سہولتیں شروع میں سندھ کے تین اضلاع ٹھٹہ، بدین اور مٹھی میں دی جائیں گی جس کی بڑی وجہ ان اضلاع میں آبادی کی بڑھتی ہوئی شرح ہے۔ بعد میں یہ پیکج پورے صوبے میں متعارف کرایا جائے گا جس کا دارومدار تین اضلاع میں اس مہم کی کامیابی پر منحصر ہوگا۔ آپریشن کرانے والے والدین کو ایک سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا جسے تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں میں دکھا کر یہ مراعات حاصل کی جا سکیں گی۔ اس کے علاوہ ان والدین کو ریلوے اور بسوں میں بھی پچیس فیصد رعایت دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ جب تک لوگوں کو کوئی مراعات نہیں دی جائیں گی وہ دو بچوں تک محدود رہنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||