BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 May, 2005, 21:40 GMT 02:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آبادی پر علماء کی تشویش

آبادی
مشترکہ اعلامیہ میں آبادی کی منصوبہ بندی کی کھلی حمایت نہیں کی گئی
پاکستان سمیت دنیا کے اکیس ممالک کے اکتالیس علماء نے بڑھتی ہوئی آبادی کی روک تھام کی کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اس سلسلے میں تین روزہ عالمی علماء کانفرنس کے اختتام پر جاری کیے جانے والے مشترکہ اعلامیہ میں آبادی کی منصوبہ بندی کی کھلی حمایت تو نہیں کی گئی لیکن پاکستان کے وزیر برائے آبادی اور فلاح وبہبود کا کہنا ہے کہ علما نے شادی شدہ جوڑوں کے لیے امتناع حمل کے ھریقوں کو حمایت کی ہے۔

وزیر برائے آبادی اور فلاح وبہبود نے جمعہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس میں امام کعبہ اور امام مسجد نبوی نے شریک ہونا تھا لیکن آخری وقت پر ناسازی طبیعت کی بنا پر وہ پاکستان نہیں پہنچ پائے۔ البتہ مصر، ایران، بنگلادیش، وسطی ایشیا کے ممالک، اور انڈونیشیا سمیت دنیا کے اکیس ممالک کے علماء شریک ہوئے۔

کانفرنس کے جاری کردہ چار صفحات کے اس اعلامیہ میں آبادی کو روکنے کے اقدامات کی مخالفت کا تاثر بھی نہیں ملتا۔ البتہ وزیر کا دعویٰ ہے کہ آبادی اور ترقی کے بارے میں اس کانفرنس نے اپنے مقصد حاصل کرلیے ہیں اور تمام نمائندوں نے آبادی کی روک تھام کے اقدامات کی حمایت کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان حکومت نے ایک پروگرام بنایا ہے جس کے تحت ملک بھر کے علماء و مشائخ، پیش اماموں اور خطیبوں کو آْبادی روکنے کے اقدامات کے بارے میں تربیت دی جائے گی تا کہ وہ عام لوگوں کو اس بارے میں قائل کریں۔

انہوں نے کہا کہ جو عالم اور پیش امام اس کام میں شامل ہوں گے انہیں حکومت ماہانہ اعزازیہ بھی دے گی۔ تاہم ان کے مطابق اس کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔ وزیر نے میڈیا اور سول سوسائٹی کی تنظیموں سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ آبادی کو روکنے میں حکومت ساتھ دیں۔

اس کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے وزیراعظم شوکت عزیز نے علماء پر زور دیا تھا کہ وہ اسلامی عقائد کے مطابق عوام کو آبادی روکنے کے لیے درست رہنمائی کریں اور عام لوگوں کو خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں مثبت رجحان اور رویہ پیدا کرنے کی ترغیب دیں۔

کانفرنس کے اختتام کے موقع پر صدر نے علماء سے کہا کہ وہ اسلام کی رواجی اور مبھم تشریح کے بجائے روشن خیال تشریح کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبادی اور وسائل میں توازن قائم کرنا ہوگا ورنہ آنے والی نسلیں کبھی خوشحال نہیں رہ سکیں گی۔

مقررین نے کہا کہ دنیا بھر کی آبادی چھ ارب سے زیادہ ہوچکی ہے اور بیشتر آبادی ترقی پزیر ممالک میں رہتی ہے۔ پاکستان حکومت کے مطابق ملک کی آبادی پندرہ کروڑ دس لاکھ ہے اور سالانہ آبادی میں اضافے کی شرح ایک عشاریہ نو فیصد ہے۔ جس سے ہر سال ملک کی آبادی میں تیس لاکھ کا اضافہ ہوتا ہے۔

پاکستان حکومت کی کوشش ہے کہ آبادی میں اضافے کی موجودہ شرح ایک عشاریہ نو فیصد کو سن دوہزار بیس تک ایک عشاریہ تین فیصد تک لایا جائے۔

واضح رہے کہ بنگلادیش اور ایران پہلے ہی آبادی روکنے کے لیے مساجد کے خطیبوں اور پیش اماموں کے ذریعے کامیاب مہم چلا چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد