مسلمان: شرح پیدائش گھٹی ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کل جاری کی جانے والی سن دو ہزار ایک کی مردم شماری کی تفصیلات سے جو نتائج نکالے گئے تھے وہ صحیح نہیں ہیں۔ مردم شماری کی جو تفصیلات جاری کی گئی تھیں ان کے مطابق مسلمانوں کی شرح پیدائش 36 فیصد ہے جو ملک میں دیگر تمام مذہبی برادریوں سے زیادہ ہے اس کے برعکس ہندوؤں کی شرح پیدائش گھٹ کر 20 فیصد پرآگئی ہے۔ لیکن اب کچھ نئے حقائق سامنے آئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ دراصل مسلمانوں کی شرح پیدائش میں کمی وقع ہوئی ہے۔ 1991 میں جو مردم شماری ہوئی تھی اس میں بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی آبادی کو شامل نہیں کیاگیا تھا کیونکہ شورش زدہ وادی میں سنسس نہیں ہوسکا تھا۔ لیکن اس بار وہاں کی پوری تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔ کشمیر کے مسلمانوں کی شمولیت سے مسلم آبادی میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے اگر اس تعداد کو گزشتہ مردم شماری میں شامل کرکے موجودہ مردم شماری کو دیکھا جائے تو مسلمانوں کی حقیقی شرح پیدائش 29 فیصد ہے۔ یعنی اس میں گزشتہ مردم شماری کے مقابلے پانچ فیصد سے زیادہ کی کمی آئی ہے۔ ان نئے حقائق کےسامنے آنے کے بعد مردم شماری کے محکمہ نے کہا ہے کہ اعداد و شمار صحیح ہیں لیکن کل ذرائع ابلاغ نے غلاًط نتائج نکالے تھے۔ تعلیمی اور اقتصادی اعتبار سے مسلمان بھارت کی سب سے پسماندہ برادری ہے۔ شرح پیدائش کا براہ راست تعلق اقتصادی اور تعلیمی ترقی سے ہے۔ اس لحاظ سے مسلمانوں کی پیدائش کی شرح میں جو کمی آئی ہے وہ یقیناً مسلمانوں میں تعلیمی رجحان اور معاشی بیداری و شعور کا پتہ دیتی ہے۔ آبادی کے امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کیرالا، آندھرا پردیش، تامل ناڈو،گجرات اور مہاراشٹر جیسی ریاستوں میں مسلمانوں کی تعلیمی اور اقتصادی حالت بہتر ہے اور وہاں ان کی شرح پیدائش بھی کم ہے ۔ مدھیہ پردیش، راجستھان، ہریانہ، بہار اور اترپردیش جیسی ریاستوں میں مسلمانوں کی اقتصادی اور تعلیمی حالت بہتر نہیں ہے اور یہیں ان کی آبادی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ ان ریاستوں میں ہندوؤں کی پسماندہ ذاتوں کی بھی وہی حالت ہے جو مسلمانوں کي ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||