BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 May, 2005, 15:04 GMT 20:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’علماء آبادی روکنے میں مدد کریں‘

News image
علماء آْبادی میں اضافہ روکنے کے لیے مدد کریں: وزیر اعظم شوکت عزیز
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے علماء پر زور دیا ہے کہ وہ اسلامی عقائد کے مطابق آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے رہنمائی کریں اور عام لوگوں کو خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں مثبت رجحان اور رویہ پیدا کرنے کے لیے ترغیب دیں۔

وزارت بہبود آبادی کے زیرانتظام تین روزہ انٹرنیشنل علماء کانفرنس آن پاپولیشن اینڈ ڈیویلپمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے علماء سے آْبادی میں اضافہ روکنے کے لیے مدد دینے کی درخواست کی ہے۔

کانفرنس میں حکومت نے دنیا کے انتیس ممالک کے چھپن علماء اور ماہرین کو دعوت دی تھی لیکن افتتاحی تقریب میں سولہ ممالک سے آئے ہوئے پینتیس علماء نے شرکت کی۔

کانفرنس میں ایک سو کے لگ بھگ پاکستان بھر سے آئے ہوئے خواتین سمیت مختلف مکاتب فکر کے عالم شریک ہیں۔

سعودی عرب کی مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے اماموں سمیت مصر، ایران اور دیگر ممالک سے آئے ہوئے نامور علماء اور اسلامی تعلیمات کے ماہرین بھی کانفرنس میں شریک ہیں۔

پاکستان میں یہ پہلا موقع ہے کہ دنیا بھر کے علماء سے آْبادی میں اضافہ روکنے کے لیے مدد لینے کی خاطر یہ کانفرنس منعقد کی گئی ہے۔

وزیراعظم نے افتتاحی تقریب سے خطاب میں بتایا کہ دنیا بھر کی آبادی چھ ارب سے زیادہ ہوچکی ہے اور بیشتر آبادی ترقی پزیر ممالک میں رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی پندرہ کروڑ دس لاکھ ہے اور سالانہ آبادی میں اضافے کی شرح ایک عشاریہ نو فیصد ہے۔ ان کے مطابق اس شرح سے ہر سال ملک کی آبادی میں تیس لاکھ کا اضافہ ہوتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی کے معاملے پر علماء میں اختلاف رائے رہا ہے۔ لیکن ان کے مطابق دنیا کی بدلتی ہوئی صورتحال میں وسائل کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر مستقبل کی خاطر آبادی میں اضافے کی شرح کم رکنی پڑے گی۔

انہوں نے علماء پر زور دیا کہ وہ چھوٹے خاندان، کے بارے میں درست اسلامی تعلیمات کو فروغ دیں اور لوگوں کو آبادی میں کمی کے اقدامات اٹھانے کے لیے پیغام دیں۔

وزیراعظم نے بتایا کہ دنیا کے اہم ممالک سے آئے ہوئے مختلف مکاتب فکر کے علماء تین روزہ کانفرنس میں موضوع کے بارے میں اسلامی تعلیمات کے مطابق خاندانی منصوبہ بندی کے متعلق سفارشات تیار کریں گے اور جمعہ کے روز اس ضمن میں مشترکہ اعلامیہ منطور کیا جائے گا۔

پاکستان حکومت نے موجودہ آبادی کی شرح اضافہ ایک عشاریہ نو فیصد کو سن دوہزار بیس تک ایک عشاریہ تین فیصد تک لانے کا ٹارگٹ جائے گا۔

درین اثناء پاکستان کے وفاقی دارلحکومت میں خواتین کی ترقی کے بارے میں جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کی تنظتم ’سارک، کے رکن ممالک کے خواتین کے محکموں کے وزراء کی بھی کانفرنس ہورہی ہے۔ یہ کانفرنس بھی تین روزہ ہے اور اس کا افتتاح بھی وزیراعظم نے منگل کو کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد