| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پھیلتی آبادی کا شکار زرعی اراضی
ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ کسی مناسب منصوبہ بندی کے تحت زمین کے استعمال سے متعلق قانون کی عدم موجودگی سے پاکستان بھر میں قابل کاشت اراضی میں زبردست کمی واقع ہو رہی ہے۔ ملک کے کسی بھی بڑے شہر میں آپ ایک طویل عرصے کے بعد جائیں تو مضافات میں ہر سمت کئی نئی آبادیاں نظر آتی ہیں۔ جہاں سے سڑک گزر جائے وہاں دیکھتے ہی دیکھتے دکانیں اور مکانات تعمیر ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ اگر بذریعہ سڑک ایک سے دوسرے شہر تک سفر کریں تو بعض مقامات پر یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ کب وہ شہر ختم اور دوسرا شروع ہوگیا۔ شہروں اور قصبوں کا یہ بے ہنگم پھیلاؤ ہی ارضیات اور ماحولیات سے متعلق ماہرین کے لئے پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ خدشہ ہے کہ کسی منصوبہ بندی کے بغیر بڑھتے یہ شہر بڑی تیزی سے قیمتی زرعی اراضی کو نگل رہے ہیں۔ ماہر ماحولیات ڈاکٹر محمد بشیر کا کہنا ہے کہ زرعی اراضی کو کافی نقصان ہوچکا ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’صرف پشاور میں انیس سو ستانوے کے ایک جائزے کے مطابق تقریباً تین ہزار ہیکٹر قیمتی زرعی اراضی اس بے ہنگم پھیلاؤ کی نذر ہوچکی ہے۔ گرین ایریاز (سبز علاقوں ) تک میں آبادیاں قائم ہو رہی ہیں۔‘ پشاور جیسے بڑے اور پرانے شہروں کے تو مسائل بھی شاید بڑے اور پیچیدہ ہوں لیکن وادئ سوات جیسے دلکش سیاحتی مقامات کو بھی درختوں کی جگہ بڑھتا ہوا کنکریٹ کا جنگل اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ مینگورہ کے ایک صحافی افتخار خان کا کہنا ہے کہ جس کا جہاں جی چاہا دریا کے کنارے یا پہاڑ کاٹ کر عمارت تعمیر کرلی، نالی نکال لی۔’گزشتہ تین دہائیوں میں حکومت کی جانب سے کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آتی۔ کالام اور مالم جبہ کے سیاحتی مقامات کو ہی لے لیں۔ کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہر جگہ آبادیاں قائم ہوچکی ہیں۔‘ رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہونے کی وجہ سے سرحد میں صرف تیرہ فیصد قابل کاشت اراضی موجود ہے۔ وہ صوبہ جو گندم جیسی بنیادی ضروریات کے لئے بھی دوسرے صوبوں پر انحصار کرتا ہے اب تک اس زرعی اراضی کو پھیلتی آبادی سے بچانے کے لئے بظاہر کوئی کوشش نہیں کی گئی لیکن اب ایک قانون زیر غور ہے۔ ادارۂ تحفظ ماحول کے صوبائی سربراہ ڈاکٹر محمد بشیر خان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ نئے قوانین کے منظور ہونے تک فی الحال تحصیل یونین کی سطح پر عارضی قوانین بنا کر دیئے گئے ہیں۔انہوں نے کہ ’اگر اب بھی اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھ کر اس کے حل کے لئے کام کیا جائے تو صورتحال بہتر ہوسکتی ہے۔‘ ماہرین کک کہنا ہے کہ زمین کو بڑھایا نہیں جاسکتا۔ جتنی ہے اتنی ہی ہے۔ نئی ایجادات سے تیل اور پانی تو شاید ہم بنا سکیں لیکن زمین نہیں بنائی جاسکتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زرعی اراضی کو بچانے کے لئے اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے۔ متعلقہ قانون کی اسی عدم موجودگی کی بنا پر پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے ہی اب صوبۂ سرحد کی حکومت بظاہر پہل کرتے ہوئے زمین کے استعمال کے لئے قانون سازی پر غور کررہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||