آبادی میں ہر مِنٹ پانچ افراد کا اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں جہاں ہر منٹ کے اندر دو افراد انتقال کر جاتے ہیں وہیں اس دوران سات بچے جنم بھی لیتے ہیں اور اس لحاظ سے ہرمنٹ کے اندر آبادی میں پانچ افراد کا اضافہ ہوتا ہے۔ یہ معلومات پاکستان حکومت کے’ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن سٹڈیز اسلام آباد‘ نے ایک سروے کے بعد کتابچے کی صورت میں شائع کی ہیں۔ اس کتابچے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی کل آبادی پندرہ کروڑ گیارہ لاکھ ہوچکی ہے۔ حکومت کے مطابق ہر سال آبادی میں انتیس لاکھ افراد کا اضافہ ہوتا ہے۔ جس کا مقصد کے فیصل آباد یا سیالکوٹ جتنے شہر یا پھر عمان اور پاناما جیسے ممالک کی کل آبادی جتنا اضافہ ہوتا ہے۔ حکومتی اعداد وشمار کے مطابق ملک میں چھتیس لاکھ لوگ بے روز گار ہیں جبکہ پانچ کروڑ بیس لاکھ افراد اب بھی ان پڑھ ہیں۔ ملک کی آبادی کی شرح میں سالانہ اضافے کی شرح ایک عشاریہ نو فیصد ہے اور جس تعداد میں آبادی بڑھ رہی ہے اس اعتبار سے پانی کی دستیابی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ حکومت کے سروے کے مطابق چودہ سو افراد کے لیے ایک ڈاکٹر ہے جبکہ بتیس سو اکسٹھ افراد کے لیے ایک نرس اور پندرہ سو اکتیس لوگوں کے لیے ہسپتال کا ایک بستر ہے۔ پاکستان میں ساڑھے تین کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ حکومت کے یہ اعداد وشمار غربت کا اندازہ لگانے کے لیے مقرر کردہ عالمی معیار کے مطابق نہیں بلکہ حکومت کے اپنے معیار کے مطابق ہیں۔ عالمی معیار کے مطابق اگر اندازہ لگایا جائے تو یہ تعداد کافی زیادہ ہوسکتی ہے۔ حکومتی اعداد وشمار کے مطابق پانچ کروڑ ساٹھ لاکھ افراد کو آج بھی پینے کے صاف پانی کی سہولت میسر نہیں ہے۔ ایک کمرے کے مکان میں رہنے والوں کی تعداد پانچ کروڑ ستر لاکھ ہے جبکہ سات کروڑ ستر لاکھ لوگ صفائی کی سہولتوں سے محروم ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||