مسلمان آبادی میں اضافہ، ہندو احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندو نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ذریعے بھوپال میں لگائے گئے متنازعہ ہورڈنگ پر بھوپال میں احتجاج شروع ہوا ہے۔ شہر کی کئی بڑی شخصیات نے فرقہ وارنہ جذبات بھڑکانے والے ان بورڈوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں شہر کے کئی مصروف چوکوں اور سڑکوں کے کناروں پر لگائے گئے ان ہورڈنگز میں دو ہزار ایک کی مردم شماری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہندوؤں سے سوال کیا گیا ہے۔ ’ آپ کے ناتی پوتے ہندو رہ سکیں گے کیا؟ سن دو 2001 میں ہونے والی مردم شماری کے تحت حکومت نے مذہب کی بنیاد پر شرح پیدائش کی تفصیلات شائع کی تھیں۔ اس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 1991 سے 2001 کے درمیان مسلمانوں کی شرح پیدائش چھتیس فیصد سے کم ہوکر انتیس فیصد ہوگئی ہے۔حالانکہ باقی مذہب کے ماننے والوں کے مقابلے میں یہ اب بھی زيادہ ہے۔ ہندوستان میں ہر سات برس بعد مردم شماری ہوتی ہے۔ یہ بورڈز آر ایس ایس کی بھوپال یونٹ نے لگائے ہیں۔ ان میں تنظیم کی آئندہ تئیس جنوری کے پریڈ کا بھی ذکر ہے۔ پریڈ اقلیتی طبقےکے علاقوں یعنی پرانے بھوپال میں ہو گی۔ آر ایس ایس کے صوبے مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے رہنما اتم چند اسرانی ان ہورڈنگز کو صحیح قرار دیتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ: ایسے پروگرام بھوپال میں پہلی بار نہیں ہوئے ہیں۔ پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔ یہ تنظیم کے مستقل پروگرام ہیں۔ جہاں تک آبادی میں اضافے کا سوال ہے کچھ برادری میں یہ کم ہورہی ہے۔ لیکن کچھ مذہب کے ماننے والوں میں یہ بڑھ رہی ہے۔یہ ایک سچائی ہے۔ لیکن ریاست کے سیکولر ذہنیت کے لوگ آر ایس ایس کی ہورڈنگز کو سماج میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کوشش گردانتے ہیں۔ انکے مطابق آر ایس ایس اس کے ذریعے اپنی سیاست چمکانا چاہتی ہے۔ قومی سیکولر مورچہ کے کنوینر لجا شنکر ہردونیا کہتے ہیں کہ جب سے لوک سبھا انتخابات ہوئے ہیں تبھی سے آرایس ایس کو یہ فکر لگی ہےکہ آخر شکست کی وجہ کیا ہوسکتی ہے۔ انکا خیال یہ ہے کہ ہندوتوا کے نظریہ کو پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے اسی لیے انتخابات میں ہار ہوئی ہے۔ میرے خیال سے آر ایس ایس کی یہ کاروائیاں دوبارہ ہندوتوا کی طرف واپس ہونے کے لیے ہیں ۔ ہندی کے مشہور شاعر بھگوان راوت اسے آر ایس ایس کے ذریعے اپنی سیاسی تنظیم بی جے پی کے ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کی پالیسی بتاتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ایک تو انکے پاس ہندوتوا کے علاوہ کوئی موضوع نہیں ہے۔ دوسرے مدھیہ پردیش میں اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات جیتنے کے بعد انہیں لگتا ہے کہ اس پالیسی سے وہ اسی طرح کامیاب ہو سکتے ہیں جیسے مغربی بنگال میں بایاں محاذ مستقل کئي برسوں سے کامیاب ہوتا رہا ہے۔ آر ایس ایس اس ریاست کو گجرات ہی کی طرح ایک ہندو ماڈل ریاست بنانا چاہتی ہے ۔ آر ایس ایس کے کارکنان ان تمام باتو ں سے انکار کرتے ہیں۔ لیکن سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ آرایس ایس نے گزشتہ دنوں شنکر آچاریہ کے معاملے پر جو احتجاجی جلسے کیے تھے اور پھر بی جے پی نے جس طرح پھر سے رام مندر کا نعرہ لگانا شروع کیا ہے اس سے لگتا ہے یہ ہندوتوا کی طرف پھر واپس ہورہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||