بھارتی مسلمانوں کی شرح پیدائش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں مذہب کی بنیاد پر پہلی مردم شماری کی تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں۔ اعدادو شمار کے مطابق ملک کی کل آبادی ایک سو دو اعشاریہ آٹھ کروڑ ہے اور اس میں ہندوؤں کی تعداد بیاسی اعشاریہ سات کروڑ ہے جو کہ پوری آباد کا ساڑھے اسی فیصد ہے۔ پیر کے روز جاری کیے جانیوالے اعداد و شمار کے مطابق شرح پیدائش مسلمانوں میں سب سے زیادہ ہے۔ سن 1991-2001 تک کی اس مردم شماری کے مطابق مسلمانوں کی آباد ی تیرہ اعشاریہ آٹھ کروڑ ہے جو کہ ملک کی کل آبادی کا تیرہ اعشاریہ چار فیصد ہے۔ اقلیتوں میں دوسرا نمبر عیسائی برادری کا ہے جن کی تعداد دو اعشاریہ چار کروڑ ہے۔ سکھوں کی تعداد ایک اعشاریہ نو کروڑ ہے۔ بدھ مذہب کے پیروکاروں کی تعداد اناسی لاکھ ہے اور جین مذہب کے پیروکاروں کی تعداد صرف بیالیس لاکھ ہے۔ ہندوؤں کی شرح پیدائش میں زبردست کمی آئی ہے۔ سن 1991-1981 میں ان کی شرح پیدائش پچیس اعشاریہ ایک تھی جو 1991-2001 میں گھٹ کر بیس اعشاریہ تین فی صد رہ گئی ہے۔ مسلمانوں کی شرح پیدائش ہندوستان میں سب سے زیادہ ہے۔ اور اس میں اضافہ ہی ہو رہا ہے ۔ مردم شماری کے مطابق ان کی شرح پیدائش 36 فی صد ہے جو کسی بھی برادری سے زیادہ ہے۔ ہندوستان کی تمام برادریوں میں مسلمانوں میں تعلیم کی حالت بھی سب سے بری ہے۔ جینیوں، بدھ پیروکاروں اور عسائیوں میں تعلیم کی شرح جہاں چورانوے اعشاریہ ایک فی صد، بہتر اعشاریہ سات فی صد اور اسی اعشاریہ تین فی صد ہےوہیں مسلمانوں میں یہ صرف انسٹھ اعشاریہ ایک فیصد ہے جو ملک کے اوسط سے بھی کم ہے۔ یہ اعدادوشمار ہندوستان کے سنسس کمشنر نے جاری کیے ہیں۔ پہلی بار ہندوستان میں مذہبی بنیاد پر اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔ اس مردم شماری میں تعلیم یافتہ لوگوں کی تعداد، معاشی حالت، مردوں اور عورتوں کا تنا سب اور دیگر ضروری معاملات حاصل کی گئی ہیں۔ اس کا مقصد ترقیاتی منصوبوں کے لۓ آبادی کے واقعی صورت حال کا پتہ لگانا تھا۔ مردم شماری کی تفصیلات، سامنے آتے ہی زبردست تنازعے کا شکار ہو گئی ہیں۔ اقلیتی کمیشن کے سربراہ ترلوچن سنگھ نے کہا ہے کہ ان اعدادوشمار پر اقلیتی رہنماؤں سے صلح و مشورہ کیا جائے گا تاکہ تفصیل سے ترقیاتی پروگراموں اور خاندانی منصوبہ بندی کی بہتر پلاننگ کی جا سکے۔ ساتھ ہی انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ سیاسی جماعتیں اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کريں۔ لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی نے مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی شرح پیدائش پر شدیہ تشویش ظاہر کی ہے۔ پارٹی کے صدر وینکیُا نائڈو نے کہا ہے کہ اگر ہندوؤں کی شرح پیدائش گھٹتی رہی اور مسلمانوں کی بڑھتی رہی تو ملک کی سلامتی اور اتحاد خطرے میں پڑ جائے گا۔ ہندونظریاتی تنظیم آر ایس ایس بھی ایک عرصے سے مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہے۔ اقلیتی کمیشن کا کہنا ہے کہ زیادہ پیدائش کی وجہ معاشرتی اور اقتصادی ہے اور اس میں کوئی مذہبی پہلر تلاش کرنا جائز نہیں ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||