حدودبل،اختلافات نہیں:شوکت عزیز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ حدود بل میں ترامیم کے مسئلے پر مسلم لیگ میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ پیر کے روز مسلم لیگ کی مرکزی کونسل کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حدود قوانین میں ترمیم کا ’حقوق نسواں بل، اب آئین کا حصہ بن چکا ہے اور اب اُسے نا چھیڑا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ترمیمی بل کی کوئی شق اسلام کے منافی نہیں ہے۔ چند روز قبل متحدہ مجلس عمل کے رہنما لیاقت بلوچ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان سے بات چیت میں چودھری شجاعت نے تسلیم کیا تھا کہ علماء نے اسلام کے منافی جن شقوں کی نشاندہی کی ہے وہ پہلےاس بل میں شامل نہیں تھیں۔ جبکہ اس مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے بعض رہنما کہتے رہے ہیں کہ سات وزراء سمیت حکمران مسلم لیگ کے سینتالیس اراکین حدود قوانین میں ترمیم کا بل منظور کرتے وقت احتجاجی طور پر ایوان میں نہیں آئے تھے۔ اس بارے میں پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیر افگن نیازی کہتے رہے ہیں کہ بل کے متن پرمسلم لیگ میں اختلاف نہیں ہے۔ لیکن اب وزیراعظم نے بھی کھل کر اس تاثر کو مسترد کیا ہے۔ پیر کو جب مسلم لیگ کا اجلاس ختم ہوا تو وزیراعظم شوکت عزیز، چودھری شجاعت حسین اور سید مشاہد حسین سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ چودھری شجاعت حسین نے اس موقع پر ایک سوال کے جواب میں کہا کہ علماء سے مشاورت جاری رہے گی اور خواتین کے حقوق کے بارے میں ان کی مثبت تجاویز ایک اور متعارف کردہ بل میں شامل کی جائیں گی۔ دریں اثنا مسلم لیگ کے اجلاس میں منظور کردہ ایک قرارداد کے ذریعے بھی حدود قوانین میں ترمیم کے بل کی حمایت کرتے ہوئے اس کی تائید کی گئی ہے۔ | اسی بارے میں حدود کی سیاسی اور قانونی حدود16 November, 2006 | پاکستان حقوق نسواں بِل کے خلاف مظاہرہ25 November, 2006 | پاکستان تحفظِ حقوقِ نسواں بل قانون بن گیا 01 December, 2006 | پاکستان حقوق نسواں کا ایک اور بل 03 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||