BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اختلافات قائم، اتحاد خطرے میں

قاضی حسین احمد
قاضی حسین احمد دو روزہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کیے بغیر چلے گئے
پاکستان میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل میں قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے پر اختلافات برقرار ہیں اور دو روزہ مشاورت میں بھی معاملات طے نہیں ہوسکے۔

جمعرات کو جب مجلس عمل کی پارلیمانی پارٹی کا دو روزہ طویل اجلاس ختم ہوا تو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس اتحاد کی ایک بڑی جماعت جمیعت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف پارلیمان کے اندر اور باہر جدوجہد ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ ہوا ہے اور اس سلسلے میں رائے عامہ بنانے کے لیے جلد عوامی رابطہ مہم شروع کی جائے گی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت کے خلاف ان کی مجوزہ تحریک استعفے نہ دینے سے متاثر نہیں ہوگی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ انہوں نے مستعفی نہ ہونے کے متعلق اپنا نکتہ نظر پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پیش کردیا ہے اور اب حتمی فیصلہ مجلس عمل کی سپریم کونسل کرے گی۔ انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ ان کے قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کے بارے میں خبروں کو اہمیت نہ دیں۔

جے یو آئی کے رہنما نے صدر مشرف کی جانب سے حقوق نسواں بل کی مخالفت کرنے والوں کو منافق قرار دینے کی مذمت کی اور کہا کہ صدر مشرف خود انتہا پسند ہیں اور باوردی صدر رہنے کے لیے انہوں نے مغرب کا سہارا لیا ہے۔

دو روزہ اجلاس کے بعد جماعت کے رہنما لیاقت بلوچ نے صحافیوں کو میٹنگ کے بارے میں کچھ تفصیلات بتائیں

اس اتحاد کی دوسری بڑی پارٹی جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد نے جو قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے پر بضد ہیں، اجلاس کی صدارت تو کی لیکن بظاہر وہ اپنا موقف نہیں منوا سکے اور وہ میڈیا کے سامنے بھی نہیں آئے۔

ان کی جماعت کے رہنما لیاقت بلوچ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بہت جلد حکومت کے خلاف تحریک کے لیے عوامی رابطہ مہم شروع کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ استعفوں کے معاملے پر مجلس عمل کے مرکزی اجلاس میں غور ہوگا جو عید کے بعد بلایا جائے گا۔ تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ اگر حکومت نے قومی اسمبلی کا اجلاس عید سے قبل بلایا تو وہ بھی اپنا اجلاس پہلے بلالیں گے۔

لیاقت بلوچ نے بتایا کہ اجلاس میں صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ کے دفتر کے ساتھ انٹیلی جنس ایجنسی کے اہلکار کی جانب سے دھماکہ خیر مواد نصب کرنے اور صدر مشرف کی جانب سے علماء کو منافق قرار دینے کی مذمت کی گئی۔

واضح رہے کہ حکومت نے زنا سے متعلق اسلامی قانون یعنی حدود آرڈیننس میں ترمیم کرتے ہوئے حقوق نسواں کے نام سے جو بل منظور کرایا ہے اس پر مذہبی جماعتوں نے دھمکی دی تھی کہ جس روز یہ بل منظور ہوا وہ مستعفی ہوجائیں۔

حکومت نے حزب مخالف کی پیپلز پارٹی کے تعاون سے وہ بل منظور کرا لیا جو ملک میں نافذ بھی ہوگیا ہے لیکن اس کے بعد سے مذہبی جماعتوں کے اتحاد میں مستعفی ہونے پر اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن مستعفی نہ ہونے کے حق میں ہیں جبکہ قاضی حسین احمد استعیفے دینا چاہتے ہیں۔ ان کے اتحاد کے کئی اجلاس ہوئے لیکن ان کے درمیاں استعفوں کے سوال پر اختلافات طے نہیں ہوسکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد