پی پی پی (ن) لیگ کواعتراض بتائے گی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اپوزیشن کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی پیر کو مسلم لیگ(ن) کو مجوزہ کثیرالجماعتی کانفرنس پر اپنے اعتراضات سے باضابطہ طور پر آگاہ کرے گی۔پیپلز پارٹی کے سربراہ مخدوم امین فہیم کی زیر صدارت چار رکنی وفد مسلم لیگ (ن) ہاؤس میں مسلم لیگی قائدین سے ملاقات کرے گا۔ وفد میں شامل پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے سیکرٹری جنرل راجہ پرویز اشرف نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ملاقات ایک نکاتی ایجنڈے پر ہو رہی ہے اور وہ یہ ہے کہ مجوزہ لندن ملٹی پارٹی کانفرنس کی میزبانی کسی ایک جماعت کی بجائے اتحاد برائے بحالی جمہوریت کرے‘۔
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ’اس مجوزہ لندن کانفرنس کا دعوت نامہ بھی اے آر ڈی کی طرف سے جاری ہونا چاہیے‘۔ انہوں نے کہا کہ’ نواز شریف کا خط دعوت نامہ نہیں ہے یہ صرف تجویز پر مبنی خط ہے جس میں مجوزہ اجلاس کی کوئی تاریخ ہے نہ دعوت ہے۔ اس لیے باضابطہ دعوت نامہ اے آر ڈی کی طرف سے جاری کیے جانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے‘۔ پیپلز پارٹی کے اندرونی حلقوں میں کہا جارہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے جلسے انتہائی کامیاب جارہے ہیں اور مسلم لیگ کو میزبانی دے کر اسے مرکزی اپوزیشن پارٹی ہونے کا تاثر نہیں دیا جاسکتا۔ مسلم لیگ نواز کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال کہتے ہیں کہ یہ جھگڑا میزبانی کا نہیں ہے بلکہ ان کے بقول یہ معاملہ کچھ اور ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ میزبان اے آر ڈی ہونے کی صورت میں صدارت پیپلز پارٹی کے چئیرمین مخدوم امین فہیم کریں گے اس طرح ایجنڈے اور اعلامیہ میں پیپلز پارٹی زیادہ موثر کردار ادا کر سکے گی۔ ا
انہوں نےکہا کہ پیر کو مسلم لیگ کے راجہ ظفر الحق، چودھری نثار اور اقبال جھگڑا مسلم لیگ ہاؤس میں آنے والے پیپلز پارٹی کے وفد کو سمجھانے کی کوشش کریں گے کہ یہ موقع اختلافات پیدا کرنے کا نہیں بلکہ اتحاد کا مظاہرے کرنے کا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر پیپلز پارٹی اس میں شامل نہیں ہوتی تو کیا لندن کانفرنس ملتوی کر دی جائے گی؟ تو انہوں نے کہا کہ’ حزب اختلاف کی یہ کانفرنس تو ہر صورت ہوگی لیکن ہماری خواہش بھی ہے اور ہمیں امید بھی ہے کہ پیپلز پارٹی اس میں شامل ضرور ہوگی‘۔ مسلم لیگ نواز کی خواہش ہے کہ اس کانفرنس میں پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو خود شریک ہوں تاہم بے نظیر بھٹو کی طرف سے ابھی ان کی حتمی شمولیت کا اعلان نہیں ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ’پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو عندیہ ظاہر کر چکی ہیں کہ وہ اس کانفرنس میں شریک ہونا چاہتی ہیں لیکن انہوں نے خود یہ معاملہ مزید غور کے لیے پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کو بھجوا دیا تھا جہاں سنیچر کے اجلاس میں میزبانی پر اعتراض کیا گیا‘۔
احسن اقبال نے کہا کہ بے نظیر اگر چاہیں گی تو کانفرنس فروری کے اختتام تک ملتوی کی جاسکتی ہے۔ بہرحال سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بے نظیر کی شمولیت کا مسئلہ اتنا سیدھا نہیں ہے۔ اس کانفرنس میں مجلس عمل بھی مدعو ہے اور بے نظیر، ایم ایم اے کے بعض سخت گیر موقف رکھنے والے بنیاد پرست رہنماؤں کے ساتھ بیٹھ کر عالمی دنیا میں اپنے روشن خیالی کے تشخص کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتیں۔ اس کےعلاوہ پیپلز پارٹی کے بعض اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کو یہ لندن کانفرنس قبل از وقت معلوم ہورہی ہے کیونکہ اس مرحلے پر جب ملک کے بعض بااثر حلقے پیپلز پارٹی سے رابطے میں ہیں پیپلز پارٹی اپوزیشن کے ساتھ کسی معاہدے میں بندھ کر با اثر حلقوں کی جانب سے کھلنے والے اس دروازے کوبند نہیں کرنا چاہتی۔ | اسی بارے میں اعتدال پسند ماحول ضروری ہے: بےنظیر20 August, 2006 | پاکستان ’میثاق جمہوریت امید کی کرن‘02 July, 2006 | پاکستان ’میثاق جمہوریت ایک سنگِ میل‘14 May, 2006 | پاکستان ’بےنظیر، نواز میٹنگ نیا ڈرامہ ہے‘11 May, 2006 | پاکستان اے آر ڈی اور ایم ایم اے میں تعاون 12 June, 2006 | پاکستان ’مشرف سے تصادم ناگزیر ہے‘19 October, 2006 | پاکستان میثاق جمہوریت پر اوس پڑ گئی20 October, 2006 | پاکستان کیا یہ مشرف کو محفوظ راستہ دینے کی سعی ہے؟17 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||