BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 August, 2006, 12:39 GMT 17:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا یہ مشرف کو محفوظ راستہ دینے کی سعی ہے؟

صدر پرویز مشرف
صدر جنرل پرویز مشرف
پاکستان کی اٹھارہ ممتاز شخصیات کی طرف سے جنرل پرویز مشرف کے نام کھلے مکتوب کے تین ہفتے بعد ایک اور اضافہ سامنے آیا ہے۔ اس نئے خط میں آٹھ نمایاں شخصیات صدر پرویز مشرف سے مخاطب ہوئی ہیں۔ گزشتہ خط پر دستخط کرنے والوں کی بڑی تعداد سابق اعلٰی فوجی افسروں اور سرکاری اہلکاروں پر مشتمل تھی لیکن منگل کو سامنے آنے والی فہرست میں عدلیہ کے سربراہوں اور سیاسی شخصیات کی اکثریت ہے۔ ان خطوط سے زمینی صورت حال میں کوئی تبدیلی آئے یا نہیں، چہ میگوئیوں کا سلسلہ پھیلتا چلا جا رہا ہے۔

ان خطوط کے مندرجات میں کوئی ایسی نئی بات نہیں جسے پاکستان کے ہم عصر سیاسی مباحثے میں اضافہ سمجھا جا سکے لیکن ان کی اصل اہمیت دستخط کنندگان کے نام ہیں۔ ان فہرستوں میں بیشتر نام ایسے ہیں جنہیں یا تو ہیئت مقتدرہ کا حصہ سمجھا جاتا ہے یا انہیں قربِ اقتدار ضرور نصیب ہوا ہے۔

شاہ محمود قریشی جیسے ایک آدھ نام کو چھوڑ کر ان میں سے ایک بھی شخصیت عوامی سیاست پر مبنی شناخت نہیں رکھتی۔ یہ وہی گورنر جنرل غلام محمد کی باصلاحیت مگر غیرسیاسی کابینہ کا تسلسل ہے جو بغلی دروازوں سے اقتدار میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس خاص موقع پر اس قسم کی اختلافی آوازوں میں یکے بعد دیگرے اضافہ کیوں ہو رہا ہے۔ حال ہی میں ائرمارشل (ریٹائرڈ) نور خان نے بھی ایک انٹر ویو میں نہایت حقیقت پسندانہ مگر غیر روایتی خیالات کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان میں ہر حکومت کے دوران ایک خاص مرحلے پر اقتدار کے اہم ستونوں کا مقتدر ترین شخصیت سے عوامی سطح پر اختلاف کرنا دراصل بڑی سیاسی تبدیلی کا ماحول بنانے کی کوشش ہوتا ہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خاں کے خلاف اٹھنے والی آوازوں میں اصغر خان اور جنرل اعظم جیسے نام شامل تھے جو اقتدار کے ابتدائی برسوں میں ایوب خان کی ناک کا بال سمجھے جاتے تھے۔

’ناک کے بال‘
 عوامی سطح پر اختلاف کرنا دراصل بڑی سیاسی تبدیلی کا ماحول بنانے کی کوشش ہوتا ہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خاں کے خلاف اٹھنے والی آوازوں میں اصغر خان اور جنرل اعظم جیسے نام شامل تھے جو اقتدار کے ابتدائی برسوں میں ایوب خان کی ناک کا بال سمجھے جاتے تھے۔

1977 میں بھٹو صاحب کی حکومت کے کمزور ہونے کا تاثر تخلیق کرنے میں ائر مارشل (ریٹائرڈ) رحیم خان اور لیفٹینٹ جنرل (ریٹائرڈ) گُل حسن کے استعفوں نے اہم کردار ادا کیا تھا جو اس وقت بالترتیب سپین اور آسٹریا میں پاکستان کے سفیر کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے۔ اپریل 1977 کے انہی بحرانی دنوں میں ڈاکٹر مبشر حسن اور اعتزاز احسن کے استعفے بھی آئے۔

1988 سے 1999 تک بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی آتی جاتی حکومتوں میں تو اس طرح کی اختلافی آوازوں کا ایک باقاعدہ نمونہ ترتیب پا گیا تھا جسے باخبر سیاسی اور صحافتی حلقوں میں آئندہ طوفان کی نشانیاں قرار دیا جاتا تھا۔

عام طور سے اس طرح کے اظہار اختلاف کا انداز شائستہ اور لہجہ معتدل ہوتا ہے۔ لیکن مذکورہ شخصیات کی قدآور شناخت کے باعث اس طرح کے اختلاف سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حال ہی میں کچھ ایسا ہوا ہے جو پہلے نہیں ہو رہا تھا۔ سیاسی صورت حال میں کچھ ایسی بڑی تبدیلیاں آئی ہیں کہ ایسے لوگ بھی حکومت سے اختلاف کر رہے ہیں جو کل تک اقتدار کے اندرونی حلقوں میں شمار کیئے جاتے تھے۔

کچھ سیاسی حلقوں کی رائے ہے کہ ان خطوط کے نتیجے میں چائے کی پیالی میں طوفان سے زیادہ کی امید نہیں کی جا سکتی۔ جس کی ایک بڑی وجہ دستخط کنندگان کا اجتماعی تاثر ہے۔ ممکن ہے کہ انفرادی سطح پر یہ حضرات اچھی صلاحیتوں اور دیانتداری کی شہرت رکھتے ہوں لیکن بحیثیت مجموعی ان کی پہچان اصول پسندی اور جمہوریت دوستی کی نہیں ہے۔

تاہم خطوط کے اس سلسلے کا پہلا نشانہ تو معروف سیاسی جماعتوں کے درمیان گزشتہ مئی میں طے پانے والا میثاق ِ جمہوریت ہے۔ ان خطوط کے مندرجات واضح طور پر میثاقِ جمہوریت کے دو ٹوک اور اصولی موقف سے کہیں زیادہ نرم اور مصلحت آمیز ہیں۔ جہاں میثاقِ جمہوریت میں اداراتی سطح پر فوج کی سیاست سے بے دخلی کا اصولی مطالبہ کیا گیا تھا وہاں مذکورہ خطوط میں پرویز مشرف کی ذات میں صدر اور فوجی سربراہ کے عہدوں کی یکجائی سے اختلاف پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ گویا نہ تو خفیہ اداروں کی سیاست میں دخل اندازی پر اعتراض ہے اور نہ سکیورٹی کونسل کی تشکیل سے اختلاف ہے جس نے فیصلہ سازی میں باوردی اہل کاروں کو شریک کر کے پارلیمانی جمہوریت کا توازن اور وقار درہم برہم کر دیا ہے۔

پہلا خط
صدر کو پہلے خط کی کاپی

اسی طرح مذکورہ خطوط میں سیاسی جماعتوں سے اپنی گزشتہ کارکردگی پر نظر ثانی کا تقاضا کرتے ہوئے فوج سے ایسا مطالبہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ پیپلز پارٹی کی سربراہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی طرف سے اس سلسلے کے پہلے مکتوب کی فوری تائید سے مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کا حالیہ اتفاق رائے کمزور ہوا ہے۔

گزشتہ روز سامنے آنے والے خط میں ایک نیا اشارہ بلوچستان اور وزیرستان کا ایک ہی جملے میں تذکرہ ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق دو بالکل مختلف مسائل کا ایک ساتھ ذکر اہم سیاسی مضمرات سے خالی نہیں۔ بلوچستان میں کشیدگی کا تعلق واضح طور پر پاکستانی عوام کے جمہوری حقوق اور داخلی جدوجہد سے ہے جبکہ ملکی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق وزیرستان میں غیرملکی افراد کی موجودگی قطعی مختلف نوعیت کا قضیہ ہے۔

دور کی کوڑی لانے والے سیاسی مبصرین نے تو یہ قیاس آرائی بھی کی ہے کہ یہ خطوط جنرل مشرف کے دستِ معجزہ نما کا کرشمہ ہیں۔ دراصل ان کے ذریعے وہ معروف سیاسی جماعتوں کو گفت و شنید اور اپنی صدارت کے تسلسل پر سمجھوتے کا لطیف اشارہ دے رہے ہیں۔

کچھ حلقوں نے اس طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ اس پہل کاری کا مقصد امریکہ انتظامیہ کے ان حالیہ اشاروں کو آگے بڑھانا ہے جن کے ذریعے پاکستان میں حکومتی بندوبست کو قدرے قابل قبول جمہوری اور آئینی خدوخال دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پاکستان میں ریاست پر فوج کے عملی قبضے سے نمائندہ سیاسی عمل کی بنیادیں کھوکھلی ہو چکی ہیں۔ بھارت کے سابق ڈپٹی سیکرٹری بی رامن کا تجزیہ ہے کہ 2007 کے ممکنہ انتخابات کے لیئے پاکستانی فوج کی حقیقی حلیف اب بھی مذہبی جماعتیں اور جہادی گروہ ہیں جنہیں گزشتہ چند مہینوں میں اپنی عوامی حیثیت اور تنظیمی قوت بحال کرنے کا خاصا موقع فراہم کیا گیا ہے۔ اس نقطہ نظر کی روشنی میں جنرل مشرف کے نام ممتاز شخصیات کے مذکورہ خطوط کی حیثیت پاکستان کے اصل مقتدر حلقوں کی طرف سے حقیقی سیاسی عمل کو کمزور کرنے اور بنیادی تبدیلی کا راستہ کھوٹا کرنے کے سوا کچھ نہیں۔

کوشش کا مقصد؟
 جنرل مشرف کے نام ممتاز شخصیات کے مذکورہ خطوط کی حیثیت پاکستان کے اصل مقتدر حلقوں کی طرف سے حقیقی سیاسی عمل کو کمزور کرنے اور بنیادی تبدیلی کا راستہ کھوٹا کرنے کے سوا کچھ نہیں۔

بیسویں صدی کے اہم سیاسی مفکر آرتھر کوئسلر نے لکھا تھا کہ جو قومیں تاریخ سے سبق حاصل نہیں کرتیں تاریخ بھی ان پر ایک مختصر سا حاشیہ بڑھا دیتی ہے ’گزشتہ سے پیوستہ‘۔

اکتوبر دوہزار دو میں انتخابات کے بعد سترویں آئینی ترمیم کے لیئے مسلم لیگ(ق) اور متحدہ مجلس عمل میں مذاکرات ہو رہے تھے۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے علاوہ نادیدہ چہرے بھی گفت و شنید میں شریک تھے۔ اس موقع پر جنرل مشرف کی وردی زیر بحث آنا لازمی بات تھی۔ مسلم لیگ کے صدر شجاعت حسین اپنے مخصوص انداز میں وقفے وقفے سے فرماتے تھے ’وردی تے مٹی پاؤ‘ (وردی پر مٹی ڈالو یعنی اسے بھول جاؤ)۔ اس موقع پر موجود ایک سیاسی رہنما روایت کرتے ہیں کہ چوہدری شجاعت حسین جب متعدد مرتبہ یہ جملہ دہرا چکے تو مجلس عمل کے وفد میں شریک حافظ حسین احمد سے نہ رہا گیا۔ انہوں نے فرمایا: ’پہلے وردی وچوں اپنا بندہ تے کڈلوؤ‘ (مٹی ڈالنے سے پہلے وردی میں سے اپنا بندہ تو نکال لو)۔

قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے مستقل حکمرانوں کے دیرینہ رفقاء کے یہ خطوط وردی سے بندہ نکالنے کی کوشش ہیں۔ وردی موجود رہے گی۔

(وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور آج کل برطانیہ میں بین الاقوامی قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔)

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد