’صدر مشرف اقتدار چھوڑ دیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک کی آٹھ ممتاز شخصیات نے صدر جنرل پرویز مشرف کو ایک خط لکھا ہے جس میں ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عام انتخابات سے پہلے اقتدار سپریم کورٹ کے سپرد کردیں جو اتفاق رائے سے بنائی گئی نگران حکومت کے ذریعے آئین کے مطابق آزادانہ اور منصفانہ الیکشن منعقد کرے۔ خط لکھنے والوں میں قومی اسمبلی کے دو سابق سپیکر سید فحر امام اور الہی بخش سومرو، ایک سابق نگران وزیر اعظم میر بلخ شیر مزاری، سپریم کورٹ کے دو سابق چیف جسٹس صاحبان سعید الزمان صدیقی اور سید سجاد علی شاہ، سرحد اور بلوچستان کے سابق گورنر گل اورنگزیب اور سابق وزیراعلی بلوچستان تاج محمد جمالی اور صوبہ سرحد سے سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی وزیر احمد جوگیزئی شامل ہیں۔ اس خط میں بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں فوجی کاروائیوں پر سخت موقف اختیار کیا گیا ہے۔ خط لکھنے والوں نے صدر مشرف سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں جس پر وہ گزشتہ نو برسوں سے براجمان ہیں۔ انہوں نے مزید یہ کہا ہے کہ اس بات کی روشنی میں کہ جنرل مشرف نے اقتدار سنبھالتے ہوئے عوام سے سے وعدہ کیا تھا اور یہ کہ اس بات کو اب سات سال ہوگئے ہیں تو وہ اقتدار سے چمٹے رہ کر مزید خود کو شرمندہ نہ کریں۔ فخر امام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کہ خط کا مقصد ملک کے اہم سیاسی معاملات پر رائے عامہ تشکیل دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خط چاروں صوبوں سے ایسے لوگوں نے لکھا ہے جو صدر مشرف کی حکومت کاحصہ نہیں رہے جبکہ اس سے پہلے جن لوگوں نے خط لکھا تھا ان میں سے بیشتر افراد جنرل مشرف کی حکومت میں شامل رہ چکے تھے۔ خط میں صدر مشرف کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے کہ ہم لوگ اس بات میں پورا یقین رکھتے ہیں کہ ان کے دور حکومت میں پاکستان کے وفاق میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ خط لکھنے والوں کا کہنا ہے کہ موجودہ پالیسیوں کی وجہ سے صوبائی تفریق اور صوبائی نا ہم آہنگی پیدا ہوگئی ہے جن پر فوری طور پر سخت نظرثانی کی ضرورت ہے۔ خط لکھنے والوں کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف کی یہ پالسیاں ملک کی سالمیت، اتحاد اور خوشحالی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔ خط میں بلوچستان اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائی پر شدید اضطراب کا اظہار کیا گیا ہے جہاں خط لکھنے والوں کے بقول صدر مشرف کی کمان میں فوجی جوان گن شپ ہیلی کاپٹروں سے سینکڑوں معصوم شہریوں کو ہلاک کر رہے ہیں جن میں بچے، عورتیں اور بوڑھے بھی شامل ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ کوئی ہفتہ ایسا نہیں گزرتا جب میڈیا ہمیں کسی ایسے پر تشدد واقعہ کی خبر نہ دیتا ہو جس میں کوئی شہری یا فوجی ہلاک نہ ہوا ہو۔ خط کے مطابق بلوچستان اور فاٹا میں بے شمار ایسی آبادیاں ہیں جہاں عورتیں، بچے اور بوڑھوں کو کھانے پینے کی چیزوں اور پانی تک رسائی بھی نہیں کیونکہ ہماری فوج نے ہزاروں پشتونوں اور بلوچوں کے گھروں کو محاصرہ میں لیا ہوا ہے۔ دوسری طرف، خط کے مطابق، فوج کا ترجمان ادارہ آئی ایس پی آر میڈیا کو بتاتا ہے کہ تخریب کار اور خفیہ ہاتھ بغاوت کو بھڑ کا رہے ہیں۔ خط لکھنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ باتیں مشرقی پاکستان کی یاد کو تازہ کرتی ہیں۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر مشرف نے سات برسوں میں قوم سے لمبے چوڑے وعدے کیے جو ابھی تک پورے نہیں ہوئے جبکہ اس دور میں مہنگائی، کرپشن اور لاقانونیت میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔ خط لکھنے والوں کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف کے انفراسٹرکچر کی تعمیر پر زور کے باوجو کوئی منصوبہ اب تک تکمیل کو نہیں پہنچا۔ ان لوگوں نے جنرل مشرف کو لکھا ہے کہ امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملہ کے بعد پاکستان کو بجٹ میں جو زیادہ رقوم ملی تھیں وہ بھی ختم ہوچکی ہیں اور کرپشن کی بو جس سے جنرل مشرف نفرت کرتے تھے اب ان کے چاروں طرف موجود ہے۔ خط لکھنے والوں کا کہنا ہےکہ جنرل مشرف قوم کو اچھی حکمرانی یا گڈ گورننس دینے میں ناکام رہے اور ان کی تمام پالیسیاں جو قومی جذبات سے ناموافق تھیں جو زمین بوس اور بالکل ناکام ہوگئیں۔ ان لوگوں نے لکھا ہے کہ صدر مشرف نے حال ہی میں ایک چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا جس نے واضح طور پر کہا کہ صدر کسی ایک جماعت کا فریق نہیں بن سکتا لیکن صدر مشرف نے اس اعلان اور اپنے عہدے کے آئینی حلف کا احترام نہیں کیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اگر جنرل مشرف مخصوص مفادات کے حامل لوگوں میں گھرے ہونے کے باوجود اقتدار سپریم کورٹ کے حوالہ کردیں اور ملک کو آئینی نظام کی طرف لے جائیں تو سمجھیں کہ انہوں نے اپنا فرض ادا کردیا۔ | اسی بارے میں صدر مشرف کا قوم سے خطاب شروع20 July, 2006 | پاکستان ’مشرف وردی اتار دیں‘23 July, 2006 | پاکستان ’میگا کرپشن آف مشرف گورنمنٹ‘ 26 July, 2006 | پاکستان متحدہ: مشرف اختلاف دور کرائیں گے29 July, 2006 | پاکستان ’مشرف سرحد کا نام بدلنے پر تیار‘01 August, 2006 | پاکستان مشرف مقدمے سے بری مگر جیل میں16 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||