مشرف مقدمے سے بری مگر جیل میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کے مقدمے سے بری ہونے والی شازیہ مبشر کو مبینہ طور پر غیر قانونی قید میں رکھنے کے خلاف خصوصی عدالت کے جج نے جیل انتظامیہ سے جواب طلب کرلیا ہے۔ شازیہ مبشر کے وکیل حشمت حبیب نے بدھ کے روز بی بی سی کو بتایا کہ راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے اڈیالہ جیل کی انتظامیہ سے ملزمہ کو حراست میں رکھنے کے متعلق اٹھائیس اگست تک جواب طلب کیا ہے۔ وکیل نے بتایا کہ پانچ اگست کو عدالت نے ملزمہ کو رشتے داروں سے ملنے، قید تنہائی میں نہ رکھنے اور گھر سے کھانا وغیرہ منگوانے کی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا تھا جس پر عمل نہیں ہوا۔ ان کے مطابق وہ جب یہ معاملہ عدالت کے علم میں لائے تو انسداد دہشت گردی کے خصوصی جج نے جیل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ملزمہ کو فوری طور پر سہولیات فراہم کی جائیں۔ وکیل نے مزید بتایا کہ انہوں نے ایک اور درخواست دائر کرتے ہوئے اپنی موکلہ کے خلاف تمام الزامات مسترد کرکے فوری رہا کرنے کی استدعا کی ہے اور عدالت اٹھائیس اگست کو اس کی سماعت کرے گی۔ واضح رہے کہ شازیہ مبشر ان نو افراد میں شامل تھیں جنہیں صدر جنرل مشرف پر پچیس دسمبر کو راولپنڈی میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر ایک فوجی اہلکار لانس نائیک ارشد کو بغاوت پر اکسانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اٹک میں ایک فوجی عدالت میں شازیہ اور دیگر ملزمان پر دو سال تک مقدمہ چلا جس کے نتیجے میں ان کے شوہر رانا نوید سمیت آٹھ ملزمان کو جولائی دو ہزار پانچ میں سزا سنائی گئی جبکہ شازیہ کو فوجی عدالت نے باعزت بری کرنے کا حکم دیا تھا۔ وکیل نے بتایا کہ فوجی عدالت سے بری کیئے جانے کے بعد فوج نے شازیہ مبشر کو ان کے کمسن بچے سمیت چوبیس جولائی سن دو ہزار پانچ کو سول لائن پولیس سٹیشن کے عملے کے حوالے کر دیا۔ حشمت حبیب کے مطابق سول لائن پولیس نے شازیہ مبشر کو رہا کرنے کی بجائے انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت سے چودہ دن کا جوڈیشل ریمانڈ حاصل کر کے انہیں جیل بھیج دیا۔ حشمت حبیب کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے شازیہ مبشر کا جوڈیشل ریمانڈ ہر چودہ روز بعد دوبارہ جاری کر دیا جاتا ہے حالانکہ پولیس اور جیل حکام کے پاس شازیہ کو قید میں رکھنے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں ہے۔ | اسی بارے میں بری ہونے کے باوجود قیدِ تنہائی26 July, 2006 | پاکستان قاتل کی درخواست منظور15 March, 2006 | پاکستان ایچ آر سی پی کی پولیس پر تنقید 15 May, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||