ایچ آر سی پی کی پولیس پر تنقید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے ہیومن رائٹس کمیش نے علامتی میراتھن دوڑ کا انعقاد کرنے والی تنظیموں کے منتظمین کے خلاف پولیس ایکشن پر شدید تنقید کی ہے۔ سنیچر کو پولیس نے علامتی میراتھن کے منتظمین ا ور مخالفین کوگرفتار کر لیا تھا۔عاصمہ جہانگیر سمیت تیس افراد کو گرفتاری کے کئی گھنٹوں بعد رہا کر دیا تھا۔ پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ گرفتار کیے جانے والے لوگ عورتوں اور مردوں کی مشترکہ دوڑ پر لگائی کی پابندی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ گزشتہ ماہ گوجرانوالہ میں ہونے والی میرا تھن کے موقع پر پُرتشدد واقعات کے بعد حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں مخلوط میراتھن پر غیر اعلانیہ پابندی لگا رکھی ہے۔ ہیومین رائٹس کمیش کا کہنا ہے کہ یہ دوڑ بلکل پرامن تھی اور اس کا مقصد معاشرے میں عورتوں کےساتھ ہونے والے ناروا سلوک کی جانب توجہ مبذول کرانی تھی۔ اس موقع پر سابق سنیٹر اقبال حیدر نےکہا کہ نہتی عورتیں کوگرفتار نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت دہشت گردوں کی سرپرستی کررہی ہے جبکہ جمہوریت کی بات کرنے والوں سے تشدد سے پیش آرہی ہے۔
اقبال حیدر کے احتجاج پر پولیس کی خواتین اہلکار کچھ دیر کے لیے پیچھےہٹ گئیں لیکن دوسری جانب پولیس کے اہلکاروں نے اقبال حیدر کو زبردستی اٹھا کر پولیس کی گاڑی میں ڈال دیا۔ ایک مقامی اخبار کی ایڈیٹر جگنو محسن نے اس موقع پر پولیس سے کہا کہ اقبال حیدر انسانی حقوق کمشن کے سیکرٹری جنرل اور سابق سنیٹر ہیں ان سے ایسا سلوک نہ کیا جاۓ۔ سابق وفاقی وزیر اور پاک انڈیا پیپلز فورم کے سربراہ ڈاکٹر مبشر حسن نے اس موقع پر کہا کہ حکومت نے انہیں بتایا ہے کہ اس میراتھن کو اس لیے نہیں ہونے دیا جارہا کہ جماعت اسلامی اور شباب ملی نے اسے طاقت سے روکنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ بات درست تھی تو ان کے بقول حکومت کو شباب ملی کو روکنا چاہیے تھا اور میراتھن کرنے والوں پر تشدد نہیں کرنا چاہیے تھا۔
شباب ملی کے نوجوان فحاشی کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے پولیس نے ان پر ہلکا لاٹھی چارج بھی کیا جس سے ایک نوجوان بے ہوش ہوگیا۔ گرفتار کیے جانے والے لوگوں کو تقریباً ڈٌھائی گھنٹے بعد مختلف تھانوں سے رہا کر دیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||