بری ہونے کے باوجود قیدِ تنہائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کی سازش کے سلسلے میں گرفتار کی جانے والی بائیس سالہ شازیہ مبشر فوجی عدالت سے باعزت بری ہو جانے کے باوجود اپنے چار سالہ بچے کے ساتھ گزشتہ ایک سال سے اڈیالہ جیل کی ایک کوٹھڑی میں قید تنہائی کاٹ رہی ہیں۔ شازیہ مبشر کے وکیل حشمت حبیب نے بدھ کے روز اڈیالہ جیل راولپنڈی کے سینئر سپرٹنڈنٹ کو قانونی نوٹس دیا ہے جس میں جیل حکام سے شازیہ کو فوجی عدالت سے بری کیئے جانے کے بعد بغیر کسی الزام ایک سال سے قید تنہائی میں رکھنے کا تحریری جواب طلب کیا گیا ہے۔ حشمت حبیب نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ جیل حکام نے اگر شازیہ کو جلد رہا نہ کیا تو وہ وزیرِاعلٰی پنجاب سمیت تمام ذمہ دار حکام کے خلاف کروڑوں روپے ہرجانہ ادا کرنے کا دعوی دائر کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق شازیہ مبشر ان نو افراد میں شامل تھیں جنہیں صدر جنرل مشرف پر پچیس دسمبر کو راولپنڈی میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر ایک فوجی اہلکار لانس نائیک ارشد کو بغاوت پر اکسانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اٹک میں ایک فوجی عدالت میں شازیہ اور دیگر ملزمان پر دو سال تک مقدمہ چلایا جاتا رہا جس کے نتیجے میں آٹھ ملزمان کو جولائی دو ہزار پانچ میں سزا سنائی گئی جبکہ شازیہ کو فوجی عدالت نے باعزت بری کرنے کا فیصلہ کیا۔ فوجی عدالت سے بری کیئے جانے کے بعد فوج نے شازیہ مبشر کو ان کے کمسن بچے سمیت چوبیس جولائی سن دو ہزار پانچ کو سول لائن پولیس سٹیشن کے عملے کے حوالے کر دیا۔ حشمت حبیب کے مطابق سول لائن پولیس نے شازیہ مبشر کو رہا کرنے کی بجائے انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت سے چودہ دن کا جوڈیشل ریمانڈ حاصل کر کے انہیں جیل بھیج دیا۔ حشمت حبیب نے اپنے قانونی نوٹس میں تحریر کیا ہے کہ کیونکہ معاملہ صدر مشرف پر حملے کا تھا اس لیئے پولیس نے اسے ’ہائی پروفائل‘ کیس کے طور پر لیا اور شازیہ کو رہا نہیں کیا۔ شازیہ مشبر کو جیل میں زیر سماعت ملزم کے بجائے ایک سزا یافتہ ملزم کی حیثیت دی گئی اور انہیں ان کے بچے سمیت قید تنہائی میں رکھا گیا۔ حشمت حبیب نے کہا کہ اگر شازیہ کو زیر سماعت ملزم کی حیثیت سے رکھا جاتا تو جیل حکام انہیں بہت سی مراعات دینے کے پابند تھے جن میں وکیل اور خاندان والوں تک رسائی شامل ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک سال سے شازیہ کا جوڈیشل ریمانڈ ہر چودہ دن بعد دوبارہ جاری کر دیا جاتا ہے حالانکہ پولیس اور جیل حکام کے پاس شازیہ کو قید میں رکھنے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں ہے۔ | اسی بارے میں مشرف حملہ: اپیلوں کی سماعت 24 April, 2006 | پاکستان مشرف حملہ: سپریم کورٹ اپیل سنےگی12 April, 2006 | پاکستان مشرف حملہ ’مجرم‘ سپریم کورٹ میں20 March, 2006 | پاکستان مشرف حملہ، اپیلیں مسترد28 March, 2006 | پاکستان مشرف حملہ: مفرور فضائیہ کا ملازم 12 January, 2005 | پاکستان مشرف حملہ، فیصلے کے خلاف اپیل 27 September, 2005 | پاکستان مشرف حملہ، ایک مجرم روسی29 August, 2005 | پاکستان مشرف حملہ: دس افراد حراست میں11 January, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||