BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 January, 2004, 13:37 GMT 18:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف حملہ: دس افراد حراست میں

صدر جنرل مشرف پر حملے میں ایک درجن سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

لاہور میں پولیس کی بھاری نفری نے دو دینی مدارس پر چھاپہ مار کر دس افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ تاہم اطلاعات کے مطابق مطلوبہ ملزم موقعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

لاہور پولیس کے ایک سے زائد افسران نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ چھاپے راولپنڈی میں صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملوں کی تفتیش کے سلسلہ کی ایک کڑی ہیں اور ان چھاپوں کی ہدایت انہیں اسلام آباد سے ملی تھی۔

یہ چھاپے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب لاہور کے علاقہ سبزہ زار میں واقع الحافظ چوک میں ساتھ ساتھ قائم مدرسہ باقیات الشہداء، خانقاہ ومسجد سید احمد شہید اور خواتین کے ہاسٹل دارالعلوم مدینہ ابن مسلمات پر مارے گئے۔

اس چھاپے میں ایس ایس آپریشن لاہور اور ایس ایس پی انوسٹی گیشن لاہور کے علاوہ خفیہ تحقیقاتی ایجنسیوں کے افسران اور پولیس کی بھاری نفری بھی شامل تھی ۔

مذکورہ اداروں کے ایک منتظم محب النبی نے کہا کہ ’ان مدارس میں جہاد کشمیر اور جہاد افغانستان میں شہید ہونے والوں کے بچوں اور اہلخانہ کو پناہ اور ہر ممکن تعلیمی علاج معالجہ کی اور دیگر امداد فراہم کی جاتی ہے۔‘

مدرسہ باقیات الشہداء میں تیس کے قریب طالب علم مقیم ہیں۔

پاکستان میں کشمیر اور افغانستان میں ہونے والی جھڑپوں کو ایک مقدس لڑائی سمجھا جاتا ہے اور ایک طبقہ اسے جہاد قرار دیتا ہے اور ان جھڑپوں میں جاں بحق ہونے والوں کو شہید کہا جاتا ہے۔

محب النبی نے بتایا کہ پولیس نے ان مدارس کے ایک پچاسی سالہ منتظم نفیس الحسینی کو کریم پارک راوی روڈ پر ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کے گرفتار کیا تھا لیکن انہیں ان کی پیرانہ سالی کے پیش نظر تھانہ سبزہ زار میں مختصر تفتیش کے بعد چھوڑ دیا ۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس افسران نفیس الحسینی کو ایک شخص کی تصویر دکھا کر اور اس کا نام احسان بتا کر اس کے بارے میں پوچھتے رہے۔ پولیس افسران نے انہیں بتایا تھا کہ یہ شخص بہاولپور کا رہائشی ہے۔ تاہم نفیس الحسینی نے اس کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ۔

لاہور پولیس کے ایک افسر نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہیں مطلوبہ مبینہ شدت پسند کی گرفتاری میں ناکامی ہوئی ہے تاہم زیر حراست افراد سے اس کے بارے میں پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔

مدارس کی انتظامیہ کے مطابق ان میں مدرسہ کے استاد مولانا محمد اسمعیل، نگران محمد یعقوب، دارالعلوم مدینہ ابن مسلمات کے ناظم حبیب احمد، ملتان روڈ پر واقع ایک دوسرے مدرسہ کے باورچی اعجاز احمد، ایک محلہ دار عبدالرزاق، مسجد کے امام خدابخش اور مسجد کے خادم فیاض بھی شامل ہیں ۔

محب النبی نے بتایا کہ پولیس نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ ان افراد کو چھوڑ دیا جاۓ گا لیکن چوبیس گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی تمام افراد تھانہ سبزہ زار میں ہیں ۔

وفاقی وزیر داخلہ فیصل صالح حیات نے بی بی سی ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملوں کے ملزموں کا پتہ لگایا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ان کی حکومت کی مہم چودہ ماہ سے جاری ہے اور چھاپے اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ چھاپے خفیہ اطلاعات پر مارے جاتے ہیں اس لیے کبھی کامیابی حاصل ہوتی ہے کبھی اس سطح کی کامیابی نہیں ہو پاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو شخص بھی گرفتار ہوتا ہے وہ اگر واقعی ملزم ہو بھی تو بھی وہ فوری طور پر سب کچھ نہیں اگلتا۔ اس لیے ان چھاپوں کے بارے میں فوری طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد