BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 April, 2006, 12:07 GMT 17:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف حملہ: اپیلوں کی سماعت

سپریم کورٹ
سپریم کورٹ صدر پر حملوں میں فوجی عدالت کی طرف سے سزائے موت پانے والے ائر فورس کے چار اہلکاروں اور ایک سویلین کی درخواست پہلے ہی سماعت کے لیے منظور کر چکی ہے
پاکستان کی عدالت عظمی نے پیر کو فوجی عدالت سے سزائے موت کے خلاف چار افراد کی اپیلیں باقاعدہ سماعت کیلیے منظور کر لی ہیں۔

صدر جنرل پرویز مشرف پر یہ ناکام قاتلانہ حملہ دسمبر دو ہزار تین میں کیا گیا تھا۔سپریم کورٹ صدر پر حملوں میں فوجی عدالت کی طرف سے سزائے موت پانے والے ائر فورس کے چار اہلکاروں اور ایک سویلین کی درخواست پہلے ہی سماعت کے لیے منظور کر چکی ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس فقیر محمد کھوکھر اور جسٹس جاوید بٹر پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ان درخواستوں کی جلد سماعت کے لیے یہ اپیلیں گزشتہ اپیلوں کی طرح چیف جسٹس کے دفتر بھی بھجوانےکا حکم جاری کیا ہے۔

صدر مشرف پر سن دو ہزار تین میں دو ناکام قاتلانہ حملوں میں ملوث نو افراد کو سزائے موت سنائی گئی تھی جن میں سے چار افراد زبیر احمد، راشد قریشی، غلام سرور بھٹی اور اخلاص احمد عرف روسی کی درخواستوں کو آج عدالت عظمی نے سماعت کے لیے منظور کر لیا جبکہ مشتاق احمد اور ائر فورس کے چیف ٹیکنیشن خالد محمود، کورپورل ٹیکنیشن نوازش علی، جونیئر ٹیکنیشن نیاز محمداور جونیئر ٹیکنیشن عدنان رشید کی درخواستیں پہلے ہی سماعت کے لیے منظور کی جا چکی ہیں۔

ان افراد کو سن دو ہزار چار میں ہونے والے کورٹ مارشل کے بعد سزائے موت سنائی گئی تھی۔ائرفورس کے دو اور اہکاروں سینیئر ٹیکنیشن کرم دین اور جونیئر ٹیکنیشن نصراللہ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ جب کہ چار سویلین افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ان افراد کی اپیلوں کو لاہور ہائی کورٹ نے اس بنیاد پر مسترد کر دیا تھا کہ فوجی عدالت کی طرف سے دی گئی سزاؤں کو سویلین عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم عدالت عظمی نے ان اپیلوں کو سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔

ان افراد کی درخواستوں میں ملزمان کے وکیل کرنل ریٹائرڈ محمد اکرم نے موقف اختیار کیا ہے کہ سویلین یا غیر فوجی افراد کو کورٹ مارشل کے تحت سزائے

صدر مشرف پر 2003 میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا

موت نہیں دی جا سکتی۔ جب کہ ائر فورس اہلکاروں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف بھی فوجی عدالتوں میں کسی ثبوت کے بنا سزا سنائی گئی ہے۔

اب اس کیس کی باقائدہ سماعت کی تاریخ کا تعین چیف جسٹس کا دفتر کرے گا۔

ان ملزمان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ فوجی عدالت نے انہیں ان افراد کو سنائی جانے والی سزا کے فیصلے کی کاپی فراہم نہیں کی۔ تاہم حکومت کا موقف ہے کہ ان وکلا کو اس فیصلے کی کاپی دکھائی گئی تھی اور اس فیصلے کی خفیہ نوعیت کے سبب یہ کاپی وکلاء کو نہیں دی جا سکتی۔

اسی بارے میں
مشرف حملہ، ایک مجرم روسی
29 August, 2005 | پاکستان
مشرف پر حملہ، مجرم منتقل
27 August, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد