رحمت شاہ کی عمر قید برقرار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی سپریم کورٹ نے فرنٹئیر پوسٹ اخبار کے مالک اور ایڈیٹر ان چیف رحمت شاہ آفریدی کے مقدمے میں دی گئی عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔ سپریم کورٹ کے دو ججوں، خلیل الرحمان رمدے اور راجہ فیاض احمد نے مختصر زبانی فیصلہ آج سنایا جبکہ تحریری فیصلہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ اینٹی نارکوٹکس فورس نے بارہ اپریل انیس سو ننانوے کو رحمت شاہ آفریدی کو ان کی کار میں بیس کلو گرام چرس سمیت گرفتار کیا تھا اور کہا گیا تھا بعد میں ان کی اطلاع پر شیخوپورہ میں شاہ کوٹ کے ایک ٹرک سے چھ سو بیس کلو گرام چرس پکڑی گئی تھی۔ رحمت شاہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے خلاف مقدمہ جھوٹا تھا اور ان کو اس مقدمہ میں اس لیے پھنسایا گیا کہ انہوں نے اس وقت کی حکومت اور انسداد منشیات کے محکمہ کے کچھ افسروں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اینٹی نارکوٹکس کی ایک خصوصی عدالت نے جون سن دو ہزار ایک میں رحمت شاہ آفریدی کو بیس لاکھ روپے جرمانہ اور سزائے موت کی سزا سنائی تھی۔ رحمت شاہ آفریدی نے ٹرائل کورٹ سے اپنی سزا کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس کے ایک دو رکنی بینچ نے تین جون سنہ دو ہزار چار کو ان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ نے رحمت شاہ آفریدی کے ساتھ دو ملزمان کی عمر قید کی سزا بحال رکھی تھی۔ دونوں ملزمان مبینہ طور رحمت شاہ کے ڈرائیور تھے۔ رحمت شاہ نے اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جبکہ اینٹی نارکوٹکس فورس نے ان کی سزا میں اضافہ کے لیے عدالت عظمی میں درخواست دی تھی۔ سپریم کورٹ میں رحمت شاہ کے وکیل عابد حسن منٹو نے جمعرات کو دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کہ ملزم کے خلاف بڑے گواہ اور اے این ایف کے اہلکار میجر عبدالرب کی اے این ایف میں تقرری قواعد و ضوابط کے خلاف تھی اس لیے ان کی شہادت معتبر نہیں۔ عابد منٹو نے یہ بھی کہا کہ وہ واقعات جو رحمت شاہ کی گرفتاری پر منتج ہوئے ان کا کوئی گواہ نہیں بلکہ صرف ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ ہے اور اس سے جو کچھ سمجھ میں آتا ہے وہ استغاثہ کے خلاف جاتا ہے۔ وکیل صفائی نے یہ بھی کہا کہ جس چرس کو رحمت شاہ سے برآمد کرنے کا دعوی کیا گیا تھا اسے تلف کرنے کے لیے انہیں کوئی نوٹس نہیں دیاگیا اور معلوم نہیں کہ جو چیز تلف کی گئی وہ چرس تھی بھی یا نہیں اور اگر تھی تو کتنی مقدار میں تھی کیونکہ ایسے مقدمات میں سزا کا تعلق منشیات کی مقدار سے ہوتا ہے۔ دوسری طرف استغاثہ کے وکیل خواجہ سلطان نے رحمت شاہ کی عمر قید کی سزا کو دوبارہ سزائے موت میں بدلنے کی استدعا کی۔ تاہم سپریم کورٹ نے دونوں درخواستیں مسترد کردیں اور رحمت شاہ کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی۔ رحمت شاہ آفریدی کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں۔ | اسی بارے میں رحمت شاہ کی سزائے موت ختم03 June, 2004 | پاکستان سمگلنگ روکنے پر اتفاق 16 June, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||