’مشرف وردی اتار دیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے کچھ ریٹائرڈ جرنیلوں، ادیبوں، کالم نگاروں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور ٹیکنوکریٹس نے صدر جنرل پرویز مشرف کو بھیجے گئے خط میں وردی اتارنے اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سنیچر کی رات گئے جاری کیے جانے والے اس خط پر دستخط کرنے والوں میں صدر جنرل پرویز مشرف کے سابق وزیر جنرل (ریٹائرڈ) معین الدین حیدر، قومی تعمیر نو بیورو کے خالق چیئرمین جنرل (ریٹائرڈ ) تنویر حسین نقوی، سابق وزیر خارجہ سرتاج عزیز، دفاعی مبصر جنرل ( ریٹائرڈ) طلعت مسعود، شفقت محمود، شوکت قادر، مجیب الرحمٰن شامی، سینیٹر ایس ایم ظفر اور دیگر شامل ہیں۔ جاری کردہ بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے یہ گروپ تشکیل دینے کے لیئے کئی ہفتوں سے غور شروع کر رکھا تھا۔ بیان کے مطابق اس گروپ کے اندر پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز اور حکمران مسلم لیگ نے اپنی بہت کوششیں کیں تاکہ وہ زیادہ زیادہ اکثریت حاصل کرسکیں۔ لیکن وہ بظاہر ایسا کر نہیں پائیں۔ اجلاس نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ صدر مشرف کی جانب سے آرمی چیف کے عہدے کے ساتھ ساتھ انہوں نے صدر کا جو عہدہ رکھا ہے اس سے آئین پاکستان، سیاست کی نذر ہو چکا ہے۔ اجلاس میں کہا گیا ہے کہ ملکی استحکام کو اندرونی طور پر چیلینجز درپیش ہیں اور باوجود اس بات کے کہ اعتماد کا رشتہ پختہ نہیں اور حکومت کو اس بارے میں اقدامات کرنے ہوں گے۔ ایسا کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ صدرِ پاکستان کے مستعفی ہونے کا مطالبہ سابق سینیئر فوجیوں اور سویلین حکام کی جانب سے ایک ہی وقت میں منظم انداز میں کیا جائے۔ پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے بھی ریٹائرڈ جرنیلوں، ادیبوں، کالم نگاروں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور ٹیکنوکریٹس کی جانب سے صدر جنرل پرویز مشرف سے وردی اتارنے اور عومی استحکام کے قیام کے مطالبے کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ ملک کی جمہوری قوتیں بلکہ درحقیقت تمام قوم اس خط کی حمایت کرتی ہے کیونکہ ملکی سالمیت کے لیئے اس عمل کی ضرورت بہت عرصے سے ہے‘۔ | اسی بارے میں وردی اتار دیتے تو اچھا ہوتا: امریکہ15 October, 2004 | پاکستان قاضی حسین کی مشرف کو دھمکی23 November, 2004 | پاکستان ’میں آپ سے زیادہ چیخ سکتا ہوں‘18 September, 2005 | پاکستان ’مشرف کو جلسوں سے روکا جائے‘08 April, 2006 | پاکستان ’دوبارہ منتخب ہو سکتا ہوں‘18 May, 2006 | پاکستان ’اماں جی‘ نصابی کتابوں میں30 November, 2005 | پاکستان لیڈر کا مفاد ہرسسکی سے بالاتر23 September, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||