’مشرف کو جلسوں سے روکا جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتحاد برائے بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) نے چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چیف آف آرمی اسٹاف اور صدر کے عہدوں پر فائز جنرل پرویز مشرف کو سرکاری پارٹی کے جلسوں میں جانے سے روکیں۔ سنیچر لاہور میں اتحاد کا سربراہی اجلاس ہوا جس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے اتحاد کے چیئرمین مخدوم امین فہیم نے کہاکہ گو نئے چیف الیکشن کمشنر قاضی فاروق کی تقرری حزب مخالف سے مشاورت کے بغیر ہوئی ہے تاہم اے آر ڈی ان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ آنے والے عام انتخابات کو منصفانہ اور غیر جانبدارانہ بنانے کے لیے اقدامات کریں۔ مخدوم امین فہیم نے کہا کہ جنرل مشرف جس طرح سرکاری پارٹی کے جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں اس سے اشارہ ملتا ہے کہ آئندہ الیکشن آزادانہ اور منصفانہ نہیں ہوں گے۔
مخدوم امین فہیم نے کہا کہ حکومت اب مقررہ وقت پر الیکشن کرانے سے بھاگ رہی ہے۔ انہوں نے کہا عام انتخابات وقت پر منعقد کیئے جائیں لیکن صاف شفاف ہوں اور ہر کسی کو ان انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہو۔ مخدوم امین فہیم نے کہا کہ وہ چودہ اپریل کو پیپلز پارٹی کے دو رہنماوں رضا ربانی اور راجہ پرویز اشرف کے ساتھ لندن جائیں گے جہاں مسلم لیگ (نواز) کے سربراہ نواز شریف سے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دبئی میں پیپلز پارٹی کی قائد بے نظیر بھٹو اور مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف کے درمیان جو ملاقات ہوئی تھی اس عمل کو اور اے آر ڈی کے پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے وہ نواز شریف سے بات چیت کریں گے۔ آج اے آر ڈی کے اجلاس میں انہوں نے اتحاد کی دوسری جماعتوں کو لندن میں ہونے والی اس ملاقات کے بارے میں اعتماد میں لیا۔ مخدوم امین فہیم نے کہا کہ اے آر ڈی کے اجلاس میں ابھی انتخابات میں نشستوں پر ایڈجسٹمینٹ کا معاملہ زیر غور نہیں آیا اور ابھی اس بات چیت کا یہ مرحلہ نہیں آیا ہے۔ اے آر ڈی کے چیئرمین نے کہا کہ قومی احتساب بیورو کامقصد احتساب نہیں بلکہ بلیک میل کرکے سیاسی رہنماؤں کی وفاداریاں تبدیل کروانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارہ کو ختم کردیا جائے۔ مخدوم امین فہیم نے بلوچستان، وزیرستان اور کراچی میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف ہر معاملہ کو فوجی نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں اور مرو یا مارو کی بات کرتے ہیں وہ مذاکرات نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنرل مشرف اقتدار میں رہے تو خدا کی مرضی سے ملک تو شائد بچ جائے لیکن خدشہ ہے کہ ملک کو بہت نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن الیکشن لڑنا چاہتی ہے اور کارکنوں کو کہا گیا ہے کہ وہ الیکشن کی تیاری کریں۔ امین فہیم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے یا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ حالات کو دیکھتے ہوئے مشترکہ اپوزیشن کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن دیکھے گی کہ حکومت الیکشن جیتنے کے لیے پولیس اور فوج تو استعمال نہیں کرتی۔ | اسی بارے میں لاہور کی ناکہ بندی، کرفیو کا سماں26 February, 2006 | پاکستان لاہور کی ناکہ بندی، رہنما گرفتار26 February, 2006 | پاکستان ’پرویز مشرف ریفرنڈم کرائیں‘01 March, 2006 | پاکستان بش کےاعزاز میں عشائیے کا بائیکاٹ03 March, 2006 | پاکستان عبوری حکومت، انتخابات کا مطالبہ07 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||